Meraj Shareef and the Karamat of a Sufi

Rate this item
(0 votes)

 

حضرت میجر غلام محمد کے مضمون  "وہ دروازہ بند نہ کر سکا" سے اقتباس

 

حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ حکومت میں قسطنطنیہ فتح ہوا تھا۔ پھر جب مسلمان سلاطین عیش و عشرت میں پڑ گئے تو بلادِ عرب ان کے ہاتھ سے نکلنے لگے۔ اس وقت اسلامی ممالک اہلِ یورپ سے مرعوب ہو کر پسپائی اختیار کرنے لگے۔ باطل قوتوں نے اسلام کو للکارا جس کا مسلمان صحیح طرح دفاع نہ کر پائے بلکہ ان کے پیچھے چل پڑے۔یہودی اور عیسائی علماء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے واقعہ معراج کا انکار کردیا اور مسلمان علماء کو قسطنطنیہ میں مناظرے کا چیلنج کر دیا۔ دونوں طرف کے لوگ مناظرہ دیکھنے وہاں پہنچ گئے۔ غیر مسلم علماء نے مسلمان علماء کو زیر کر لیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا معراج پر جانا ثابت نہ کر سکے۔ یہ وہاں پر موجود مسلمانوں کے لئے بہت بڑا المیہ تھا۔ یہ خبر صوفی عبد الرحمٰن کشمیری تک پہنچی جو قسطنطنیہ میں رہائش پذیر تھے اور گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ مناظرے والی جگہ پہنچ گئے اور مخالفین کو کہا کہ میں ثابت کروں گا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج پر آسمانوں سے اوپر تشریف لے جانا۔ انہوں نے صوفی عبد الرحمٰن سے کہا کہ جب تمہارے بڑے بڑے نامور شہرت یافتہ عالموں کو منہ کی کھانا پڑی تو تم کس باغ کی مولی ہو جو ہمارا مقابلہ کرو گے۔

 

صوفی عبد الرحمٰن کشمیری نے انہیں کہا کہ تم ایک شخص کو میرے حوالہ کر دو پھر ہم دونوں کو ایسے کمرے میں بند کر دو جس کا صرف ایک دروازہ ہو کوئی کھڑکی روشندان نہ ہو۔ چنانچہ ان دونوں کو اس کمرے میں بند کر دیا گیا۔ صوفی عبد الرحمٰن کشمیری نے اپنے مخالف کو بولا کہ وہ اس کے پاؤں پر چڑھ کے اسے مضبوطی سے پکڑ کر کھڑا ہو جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر صوفی عبد الرحمٰن کشمیری نے زور سے اللہ ھو کا نعرہ لگایا اور مخالف سمیت کمرے سے باہر آگیا۔ نہ قفل ٹوٹا نہ دروازہ کھلا اور نہ کہیں دراڑ پڑی۔ اس نے ان کو کہا کہ انہیں پھر سے بند کر دیا جائے۔ ان کے کہنے پر ان کو دوبارہ کمرے میں بند کیا گیا۔ وہ پھر سے اللہ ھو کا نعرہ لگا کر باہر آگئے۔انہوں نے مخالفین کو کہا کہ دیکھو میں تو اپنے نبی کا ادنیٰ سا پیروکار ہوں یہ ان کا نہ ماننے والا مخالف ہوکر بھی میری وجہ سے کمرے سے باہر آگیا۔ جب ہم اللہ کے فضل سے ایسا کر سکتے ہیں تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کیسے معراج پر نہیں جا سکتے۔ یوں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج پر جانا ثابت کر دکھایا۔ وہاں پر موجود لوگ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور یہ نظارہ دیکھ کر دینِ اسلام میں شامل ہو گئے۔ یوں صوفی عبد الرحمٰن کشمیری نے مسلمانوں کی عزت بچا لی اور دینِ اسلام کو سر بلند رکھا۔