Murshed Abad to Makli | مرشد آباد سے مکلی (ٹھٹھہ) کا سفر

Rate this item
(0 votes)

Click here for ENGLISH

 

مرشد آباد سے ٹھٹھہ(مکلی) تک کا سفر
میجر ریٹائرڈ غلام محمد
(نوٹ: پوسٹ میں استعمال کی گئی تصاویر اس سفر کی اصل تصاویر نہیں ہیں۔ اصل تصاویر کی تلاش جاری ہے اور ملنے پر پوسٹ کر دی جائں گی)

1970ء سے لے کر1983 ء تک ہم سال میں ایک دفعہ اکتوبر کے مہینے میں اپنے مرشد کے ہمراہ حضرت خواجہ اللہ دین مدنی ؒ کے مزار پر حاضری کیلئے لنگر مخدوم جاتے رہے۔قیام عموماََ ایک رات کا ہوتا۔ دوسرے دن صبح کے وقت حضرت جی ؒ ساتھیوں کو لے کر چنگڑانوالہ تشریف لے جاتے اور حضرت خواجہ قطبؒ کے مزار پر حاضری دیتے۔ ذکر کی محفل جمتی اور دعا کے بعد واپس لنگر مخدوم تشریف لے آتے۔ظہر کی نماز کے بعد گھروں کو واپسی ہوتی۔
 
قبر مبارک حضرت مولانا اللہ یار خان، مرشد آباد، ضلع چکڑالہ
 
حضرت مولانا اللہ یار خانؒ (آخری شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ) کے انتقال کے بعد بھی آج تک اس سلسلہ کے تا حیات ناظم اعلیٰ کرنل (ر) مطلوب حسین نے اس پروگرام کو جاری رکھا۔اس کے علاوہ بھی حضرت جیؒ کے ہمراہ کئی دفعہ حضرت شاہ بلاولؒ (دندہ) اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کے مزار پر حاضری دی اور محفل ذکر میں شرکت کی۔حضرت مولانا حسین علی ؒ (واں بھچراں والے) حضرت سلطان باہوؒ اور حضرت شہباز قلندر ؒ کو حضرت مولانا اللہ یار خانؒ ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔مگر افسوس بھی کرتے تھے کہ مولانا حسین علیؒ کے شاگردوں میں غلام اللہ خان،عنایت اللہ گجراتی،اور طاہر پنج پیری (میجر عامر کا والد) ساری عمر بَرزخ سے حصول فیض کے منکر اور مخالف رہے۔ملتان جب بھی جاتے تو غوث بہاؤ الدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے مزار پرضرور حاضری دیتے اور محفل ذکر بھی جمتی۔ 
 
حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے چوتھے اور آخری خلیفہ حضرت میجر (ریٹائرڈ) غلام محمد مرشد آباد میں ساتھیوں کا استقبال کرتے ہوئے۔

2011ء کے شروع میں ساتھیوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا کہ تمام اولیاء کرام کے مزاروں پر حاضری دی جائے چنانچہ12جنوری بروز بدھ ساتھی مرشدآباد پہنچ گئے۔ سیالکوٹ سے عثمان،گوجرانوالہ سے حافظ عثمان،حنان، نجم اور عبدالباسط لاہور سے حسن،عثمان،حافظ عدنان اور عمر ملتان سے محسن اور کراچی سے گروپ کیپٹن(ر) عابد جعفری بمعہ اپنی اہلیہ شمیم، بیٹی فاطمہ اور بیٹا حسن قاسم اس قافلے میں شامل تھے۔رات ہم نے اپنے مرشد کے پاس گزاری اور ان کی اجازت سے صبح کے ذکر کے بعد سفر شروع کیا۔مرشد آباد سے دندہ7 میل کے فاصلے پر ہے اس طرح ہمیں شاہ صاحبؒ کے پاس پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔مُجاوروں نے حضرت دندہ شاہ صاحبؒ کی قبر کو تین قبروں کی لمبائی کے برابر کیا ہوا ہے ان کے سرہانے بیٹھ کر ہم نے ذکر کیا(سامنے جگہ نہ تھی) اور ان سے حاضری کا مدعا بیان کیا کہ ہم نے گاڑیوں پر کراچی تک سفر کرنے کا ارادہ کیا ہے اور راستے میں جتنے صوفیاء کرام کے مزارت ہیں وہاں حاضری بھی دینی ہے اور ذکر بھی کرناہے۔
 
حضرت شاہ صاحبؒ نے شکوہ کیا کہ جب حضرت مولانا اللہ یار خانؒ زندہ تھے تو تم ان کے ساتھ آیا کرتے تھے اس کے بعدآنا جانا بند کر دیا۔دندہ سے نکل کر ہم میانوالی تَلہ گنگ روڈ پرآگئے۔تَلہ گنگ سے بلکسر اور وہاں سے موٹروے پر ہولئے۔کوئی تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہم نے مخدوم انٹرچینج پر موٹر وے کو خیرباد کہہ دیا اور سیال موڑ سے لنگر مخدوم کی طرف گاڑیوں کا رخ موڑ دیا۔کوئی دس گیارہ کلو میٹر کے سفر کے بعد ہم بائیں طرف لنک روڈ پر ہو لئے اور ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑک پر دو تین کلو میٹر جانے کے بعد حضرت خواجہ اللہ دین مدنی ؒ کے مزار پر پہنچے۔چونکہ جمعرات کا دن تھا۔ویک اینڈنہ ہونیکی وجہ سے ملازم ساتھی ذکر کرنے کیلئے نہ یہاں اور نہ حضرت جیؒ کے پاس آ سکے۔
 
مزار شریف سلطان العارفین حضرت خواجہ  اللہ دین مدنیؒ، لنگر مخدوم
 
حضرت خواجہ اللہ دین مدنی ؒ بہت خوش ہوئے ہمیں مرحبا کہا اور دین و دنیا کی بھلائی کی دعا فرمائی۔اس آدھ گھنٹہ کی حاضری اور دعا کے بعد چنگڑانوالہ کی طرف چل دےئے حالانکہ یہاں ذکر کی محفل میں حضرت خواجہ قطبؒ بھی تشریف رکھتے تھے۔میرا مشاہدہ ہے کہ جب یہاں ذکر ہوتا ہے تو حضرت خواجہ قطب ؒ بھی شمولیت فرماتے ہیں اور جب ہم ان کے ہاں چنگڑانوالہ ذکر کیلئے بیٹھتے ہیں تو حضرت خواجہ اللہ دین مدنی ؒ بھی شرکت فرماتے ہیں۔اس طرح محفل ذکر کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔ 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خواجہ قطبؒ اپنے زمانہ کے قطب مدار گزرے ہیں اور مستجاب الدعواۃ ہیں۔ حضرت خواجہ محمد فرماتے ہیں کہ میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھالوں تو زمین آسمان پھٹ سکتے ہیں مگر میری دعا رد نہیں ہو سکتی۔اگر دعا کی درخواست پر خواجہ قطبؒ فرما دیں کہ تم دعا کرو میں آمین کہوں گا تو سمجھو کہ قبولیت کا چانس ففٹی ففٹی ہے۔ حضرت جیؒ فرمایا کرتے تھے کہ قطب مدار آسمانوں کا ستون ہے۔ قطب مدار کا منصب قیامت تک برقرار رہے گا اور جب یہ منصب نہ رہا تو قیامت قائم ہو جائے گی۔ سب کچھ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
 
حضرت میجر غلام محمد قدس سرہ کی ساتھیوں کے ہمراہ خواجہ قطب ؒ کی قبر مبارک (چنگڑانوالہ) پر حاضری اور ذکر 
 
یہاں حضرت خواجہ قطبؒ کے پاس حاضری اور محفل ذکر کے بعد ہم دوبارہ بذریعہ موٹروے لاہور کیلئے عازم سفر ہوئے ظہر کی نماز سکھیکی کی مسجد میں ادا کی۔ لاہور آکر سیدھے حضرت غوث علی ہجویریؒ کی خدمت میں لاہور فورٹ پہنچے مگر انہوں نے اپنے ہاں بیٹھنے کی اجازت نہ دی۔ فرمایا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر یہاں آنا اور بیٹھنا شروع کر دیں گے اور چراغ جلائیں گے اور دوسری بِدعات کے مرتکب ہوں گے لہٰذا آپ لوگ علامہ اقبال ؒ کے مزار پر بیٹھ کر ذکر کر لو میں وہاں آجاتا ہوں۔ حسب ارشاد ہم نے علامہ اقبال کے مزار پر بیٹھ کر ذکر کیا۔ لاہور کے اکثر ساتھی موجودتھے بلکہ گوجرانوالہ کے بہت سے ساتھی بھی آگئے تھے۔
 
لاہور قلعہ کی فصیل کے نیچے ایک غوث دفن ہیں۔ ان کا مدفن معدوم ہے اور ان کی طرف سے نشاندہی کی سخت ممانعت ہے۔ اس لئیے علامہ اقبالؒ کے مزار پر ذکر کیا گیا۔
 
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ اقبال بھی اپنی حیات میں لطائف و مراقبات کیا کرتے تھے ۔ لطائف کے بارے میں انہوں نے اپنی کتاب ’’ری کنسٹرکشن آف ریلجس تھاٹ اِن اسلام ‘‘میں تذکرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق لطائف کرنا ہی ذکر کرنا ہے۔ سلوک میں دیکھنا دکھانا یعنی کشف و کرامات مقصود نہیں بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کا بندہ بن جائے ۔ انگریزی عبارت یوں ہے۔
The ultimate aim is not to see something but to be something. 

حضرت داتا صاحب ؒ کی خدمت میں حاضری نہ دے سکے کیونکہ وہاں کچھ عرصہ پہلے خود کش دھماکہ ہوا تھا جس کے پیش نظر آپؒ نے فرمایا کہ تم لوگ پیر مکی محلے میں کسی کے گھر ذکر کر لیا کرو۔ لہٰذا ہم نے شام کو معمول حافظ عدنان کے گھر میں کیا اور رات کا قیام بھی ۔ سہ پہر کو کھانے کا بندوبست علی و عمر نے اپنے گھر (پیر مکی ) میں کیا ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کے خواتین کو ذکر کرایا۔
 
ایک اور موقع پر حضرت داتا صاحب کے مزار پر نماز کے دوران

14 جنوری 2011ء کو لاہور سے جلدی نہ نکل سکے کہ دھند کی وجہ سے موٹروے بند تھی ۔ کوئی دس بجے کے قریب ہم نے اپنا سفر شروع کیا۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم ظہر تک حضرت سلطان باہوؒ کے پاس پہنچ جائیں گے مگر وہاں پہنچتے پہنچتے مغرب ہو گئی۔ کشتی کے ذریعہ گاڑیوں کودریا عبور کرانا محفوظ نہ تھا لہٰذا ہمیں لمبا سفر طے کر کے حضرت سلطان باہوؒ کے مزار پر آنا پڑا ۔مزار پر پہنچتے ہی جو منظر دیکھا وہ بہت مایوس کن تھا۔ قبر کے سامنے ایک شخص سجدہ ریز تھا اور گڑ گڑا کر اپنی دکھ بھری کہانی کہہ رہا تھا۔ ہم ذکر کیلئے صف آرا ہوئے تو انتظامیہ کے لوگوں نے شور مچادیا کہ موبائل بند کرو اور نکلوادھر سے ۔ مغرب کی نماز کیلئے مسجد پہنچو۔ہم نے جلدی جلدی لطائف کیے اور باہر آگئے ۔بہت نکلے میرے ارماں کے مصداق دل گرفتہ ہو کر شورکوٹ کا رخ کیا۔ سرفراز ہماری آمد کا منتظر تھا ۔وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا بعد میں حسین بھی آگیا۔رات کا ذکر سرفراز کے گھر میں کیا چونکہ ساتھیوں کی تعداد زیادہ تھی۔اس لیے سونے کے لیے آدھے ساتھی حسین کے گھر چلے گئے ۔سرفراز اور حسین کے بچوں کو میں نے کئی سالوں کے بعد دیکھا تھا۔جو کافی بڑے لگ رہے تھے ۔اللہ ان کو نیک کرے اور انہیں ذکر پر دوام نصیب فرمائے۔ آمین!
 
مزار شریف حضرت سلطان باہوُؒ

15جنوری بروز ہفتہ ہم نے ملتان جانا تھا اور حضرت غوث بہاؤالدین ذکریا ؒ کی خدمت میں حاضری دینی تھی ۔سرفراز فیملی نے بھی ہمارے ساتھ ملتان جانے کا پروگرام بنالیا ۔میں نے ان کے ساتھ گاڑی میں یہ سفر طے کیا ہم سیدھے حضرت غوث بہاؤالدین ذکریا ؒ کی خدمت میں پہنچے ۔ملتان کے ساتھی بھی پہنچے ہوئے تھے۔سکون کے ساتھ ذکر کیا اور موبائل پر لاہور ،گوجرانوالہ ،کراچی کے لوگوں کو بھی ذکر کرایا ۔ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ؒ کے پا ؤں کی جانب دروازے کے باہر ان کے خادم کی قبرہے۔جو فنافی الرسول ہے۔میں نے اس قبر کی نشاندہی کی اور سب ساتھیوں نے یہاں فاتحہ پڑھی بعد میں حضر ت شاہ رکن عالمؒ کے مزار پر گئے اور ذکر کیا۔حضر ت غوث بہاؤالدین ذکریاؒ نے گلہ کیا کہ تم اب کم کم آتے ہو۔میں نے عرض کیا کہ حضر ت مجھے اپنے شیخ حضر ت مولانا اللہ یا ر خان ؒ کی قبر پرہرسال کم ازکم 33مرتبہ جانا ہوتا ہے کیونکہ پاس ہونے کے لیے کم از کم 33نمبر درکار ہوتے ہیں۔اس لیے اور کہیں جا نہیں پاتا۔
 
ملتان میں حضرت غوث بہائوالدین ذکریاؒ کا مزار
 
حضرت غوث بہا ؤالدین زکریاؒ نے ہماری حاضری کو شرف قبولیت بخشا اور سلسلہ عالیہ کیلئے میرے کام کو سراہا۔فرمایا یہاں ملتان میں روافض کا بہت زور ہے جن کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔رات کا قیام و طعام محسن کے گھر میں تھا۔ سرفراز اپنی فیملی کے ساتھ واپس شورکوٹ لوٹ گیا۔

16جنوری بروز اتوار ہمیں سہون شریف پہنچنا تھا۔سفر چونکہ لمبا تھا اس لئے مجبوراََ ہمیں سکھر رکنا پڑا۔سکھر میں جناب عابد جعفری کے رشتہ داروں کے ہاں ہم نے رات بسر کی جن کی مہمان نوازی ہمیشہ یاد رہے گی۔17جنوری کوہم سہون شریف حضرت شہباز قلندرؒ کے مزار پر حاضری کے لئے پہنچے۔مزارپر کسی بڑے نے چادر چڑھانے آنا تھا اس لئے اس کی تزئین و آرائش کا بندوبست ہو رہا تھا۔بھکاریوں کا ہجوم تھا ہم نے شور شرابے کے باوجود ذکر کی محفل جمائی۔حضرت شہباز قلندرؒ فرمانے لگے کہ برسوں کے بعد کسی نے میری قبر پر آکے لطائف کئے ہیں ورنہ یہاں لوگ دھمال ہی ڈالتے ہیں۔بد قسمتی سے میری قبر رافضیوں کے تسلط میں ہے جن کی بدعات اور رسومات کا تصوف و سلوک سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
 
سیہون شریف میں حضرت شہباز قلندر کے مزار پر بدعات میں مصروف عوام
 
یہاں سے نکل کر گروپ کیپٹن (ر) عابد جعفری کے گھر سیدھے بلوچ کالونی پہنچے۔ظہر کی نماز کے بعد ہمارا ارادہ ٹھٹھہ جانے کا تھا۔جہاں مکلی کے قبرستان میں ایک صحابی رسول دفن ہیں۔مکلی جانے کیلئے قافلے میں ایک گاڑی کا مزید اضافہ ہو گیا۔حسن کاشف،طاہر،عدنان اور ان کے اہل خانہ بھی ساتھ ہو لئے۔صحابی رسول نے اپنا نام ابو سلطان بتایا۔فرمایا کہ میں حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایران آیا۔پھر وہاں سے کراچی آگیا۔چونکہ میرا پیشہ جانوروں کی تجارت تھا اسی وجہ سے ٹھٹھہ کا رخ کیا مگر یہاں آ کے موت نے زیادہ مہلت نہ دی اور مکلی کو ہی اپنا مستقل برزخی ٹھکانہ بنانا پڑا۔ آپ لوگ یہاں صدیوں بعد میری قبر پر لطائف کرنے آئے ہیں۔لوگ بہت آتے ہیں مگر کسی اور غرض سے۔ ذکر کرنے کبھی کوئی نہیں آیا۔ہاں ایک دفعہ عبید اللہ نامی ایک شخص آیا تھا جس نے ساتھیوں سمیت ذکر اور مراقبہ کیا تھا۔اس کے بعد ایسے لوگوں کو ترستا رہا۔ آج آپ لوگوں کو دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ہو سکے تو آتے جاتے رہنا تاکہ ان بد کار لوگوں کی چھوڑی ہوئی نحوست میں کچھ کمی آ سکے۔ اپنے شیخ ؒ کو میرا سلام دینا اور ان سے کہنا کہ قرب قیامت میں آپ کی نظیر نہیں ملتی۔
 

***

 

The Journey from Murshed Abad to Makli, Thatha

 

Major (Retd) Ghulam Muhammad

 

 

From the year 1970 to 1983, we used to present ourselves along with our Murshed at the shrine of Hazrat Khwaja Allah Deen MadniRehmatullah Alaih at Langar Makhdoom every year. We usually stayed there overnight. The next morning, Hazrat JeeRA used to take everyone along and proceed to Changranwala for visiting the shrine of Hazrat Khwaja QutbRehmatullah Alaih. A session of Zikr used to be held there, followed by Dua[1], after which he used to return to Langar Makhdoom. People used to return to their homes after the Zuhr prayer. After the demise of Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA, the final Shaykh of Silsila Naqshbandia Awasia, the lifetime Chief Manager of the Silsila Colonel (Retd) Matloob Hussain continued this annual program. Other than this, we also presented ourselves several times at the shrines of Hazrat Shah BilawalRA (Danda) and Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali HajveriRA in the company of our Hazrat JeeRA and attended sessions of Zikr. Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA always held a high view of Hazrat Maulana Hussain AliRA (from Wan Bhachran), Hazrat Sultan BahooRA and Hazrat Shahbaz QalandarRA. However, he also felt sorry about the fact that out of Maulana Hussain AliRA's students, Ghulamullah Khan, Inayatullah Gujrati and Tahir Panj Peeri (Major Amir's father) denied and contested the extraction of Faiz from Barzakh throughout their lives. Whenever Hazrat JeeRA used to go to Multan, he used to visit the shrines of Ghaus Bahawuddin ZakriyaRA and Hazrat Shah Rukn-e-AlamRA, and sessions of Zikr were held at those graves.

In the beginning of 2011, my fellow seekers' long standing demand of visiting all Aulia-Allah's shrines assumed a new fervor. Hence, they reached Murshed Abad on Wednesday, January 12. Usman from Sialkot; Hafiz Usman, Hannan, Najam and Abdul Basit from Gujranwala; Hassan, Usman, Hafiz Adnan, and Umer from Lahore; Mohsin from Multan; and from Karachi, Group Captain (Retd) Abid Jafri along with his wife Shameem, daughter Fatima and son Hassan Qasim, were included in this convoy.  We spent the night with our Murshed and started our journey with his permission after the morning Zikr. Danda is located at a distance of 7 kilometers from Murshed Abad, so it did not take us long to reach Shah SahibRA. The caretakers have extended Hazrat Danda Shah Sahib'sRA grave and made it three times as long as a regular grave. We sat down by his headrest (there was no room in front), performed Zikr, and stated the purpose of our visit. We were going to travel to Karachi and present ourselves at all the shrines of Sufi Saints along the way, and were also going to do Zikr there. Hazrat Shah SahibRA complained that we had stopped visiting him after the demise of Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA, with whom we used to come to him. Departing from Danda, we got onto Mianwali-Talagang road and entered the Motorway after travelling through Talagang and Balkasar. After a drive of about three hours, we said goodbye to the Motorway at Makhdoom Interchange and turned our cars towards Langar Makhdoom from Sial More. After driving for about 10-11 kilometers, we turned left onto the dilapidated side road, on which we travelled for another 2-3 kilometers to reach Hazrat Allah Deen Madni's RA shrine. It was a Thursday and a working day, so our fellows in Zikr who had regular jobs had not been able to join us here or at Murshed Abad. Hazrat Khwaja Allah Deen MadniRA was very pleased. He welcomed us and prayed for our success in the worldly and religious matters. After a 30-minute session and Dua, we left for Changranwala, although Hazrat Khwaja QutbRA had also attended the Zikr session at Langar Makhdoom. I have observed that when we do Zikr at Langar Makhdoom, Khwaja QutbRA also joins, and when we sit for Zikr with him at Changranwala, Hazrat Khwaja Allah Deen Madni also joins us there. Hence, the effect of the Zikr becomes twofold.

Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA used to tell us that Hazrat Khwaja QutbRA was the Qutb-e-Madaar of his time, and he is also a person whose prayer is never rejected. Hazrat Khwaja Muhammad says that if he raises his hands for a prayer, the sky and earth can shatter, but his prayer cannot be rejected. If upon the request for prayer, Khwaja QutbRA asks the person, "you pray and I'll say Aameen", it means that the chances of acceptance are 50 percent. Hazrat JeeRA used to say that Qutb-e-Madaar is the pillar of the heavens. The Appointment of Qutb-e-Madaar will exist until the Judgment Day, and when it ceases to exist, the Qyamah will be established. Everything will shatter into dust. After presenting ourselves before Hazrat Khwaja QutbRA and holding a session of Zikr, we resumed our journey on the Motorway to Lahore. We said the Zuhr prayer in the mosque in Sukheki (Rest Area). After reaching Lahore, we went straight in the service of Hazrat Ghaus Ali HajveriRA at Lahore Fort, but he did not allow us to sit near his grave. He said if he allowed us, other people would follow us there. They would burn lamps and engage in other innovations (Bidat), he said, so we should perform the Zikr at Allama IqbalRA's shrine and he would join us there. As directed, we held the Zikr at Allama Iqbal's grave. Most of our companions from Lahore were present, and many of the companions from Gujranwala had also arrived. You ought to know that Allama Iqbal also used to perform the Lata-if and Meditations during his lifetime. He has written about the Lata-if in his book "Reconstruction of Religious Thought in Islam". According to him, doing Zikr actually means doing the Lata-if. The objective of Salook is not to perform paranormal acts, but the real objective is to become a slave of Allah. To quote Iqbal: "The ultimate aim is not to see something, but to be something."

We could not present ourselves in Hazrat Data SahibRA's service because a suicide bombing had taken place there recently, and he had instructed us to perform Zikr at someone's house in the streets of Peer Makki. So, we performed the evening routine at Hafiz Adnan's house and also stayed there for the night. The next day, Ali and Umer had arranged lunch at their house in Peer Makki. After lunch, a session of Zikr was held exclusively for women.

We could not start our journey from Lahore before 10 am on January 14, 2011, because the Motorway was closed due to fog. We had planned to reach Hazrat sultan BahooRA by the time of Zuhr, but it was already Maghrib when we reached there. It wasn’t safe to board our cars on boats for crossing the river, so we had to take the longer route to reach Hazrat Sultan BahooRA's shrine. The scene that we witnessed upon our arrival at the shrine was heartbreaking. A person was prostrating before the grave and was crying out his miserable ordeals. When we lined up for the Zikr, the people managing the shrine started yelling at us to switch off our mobile phones and get out of there. They were telling us to get into the mosque for the Maghrib prayer. We rushed through the Lata-if and came out of there. With heavy hearts, we headed for Shorkot, where Sarfaraz was waiting for us. He took us to his house where Hussain also came. We did the evening Zikr at Sarfaraz's house. Half of us went to Hussain's house to sleep at night. I saw Sarfaraz's and Hussain's kids after many years. They had grown up well. May Allah make them righteous and give them permanence in His Zikr. Aameen!

On 15th January, a Saturday, we had planned to go to Multan to present ourselves in the service of Hazrat Ghaus Bahawuddin ZakriyaRA. Sarfraz and his family also accompanied us. I travelled with them in their car. We went straight to Hazrat Ghaus Bahawuddin ZakriyaRA. Our companions from Multan were also present there. We performed the Zikr with peace and our fellows from Lahore, Gujranwala and Karachi also joined us via mobile phone. A servant of Hazrat Ghaus Bahawuddin Zakriya is buried toward his feet, outside the door. He is Fana-fir-Rasool. I located his grave and we said the Fateha there. Afterwards, we went to the shrine of Hazrat Shah Rukn-e-AlamRA and performed the Zikr there. Hazrat Ghaus Bahawuddin ZakriyaRA complained that I did not visit him more often. I submitted that I had to present myself at the grave of my Shaykh Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA at least 33 times in a year, because 33% marks are required to pass an exam. Therefore, I was unable to go anywhere else. Hazrat Ghaus Bahawuddin ZakriyaRA honored us b y accepting our visit and praised my work for the esteemed Silsila. He said that the Rawafiz[2] had gained a lot of influence in Multan, and there was a dire need to work against them. The dinner and night-stay were arranged at Mohsin's house. Sarfraz returned to Shorkot along with his family.

On Sunday, January 16, we had to reach Sehwan Shareef. It was a long journey, so we had to sojourn at Sukkur. We spent the night at Mister Abid Jaffrey's relatives, whose hospitality I shall always remember. On January 17, we reached Sehwan Shareef to present ourselves at Hazrat Shahbaz QalanderRA's shrine. Someone high-up was coming to place coverings at the grave and the decoration of the shrine was in progress. Beggars were crowding the place. We held a session of Zikr despite the disturbance. Hazrat Shahbaz QalanderRA said that someone had come and performed the Lata-if at his grave after years. He said people only came to him to dance the Dhamal[3]. Unfortunately, he said, his grave had been occupied by the Rafizis, whose innovations and rituals had nothing whatsoeverto do with Tasawwuf and Salook. Departing from there, we drove straight to Group Captain (Retd) Abid Jaffrey's residence at Baloch Colony (Karachi). We had plans to go to Thatta after the Zuhr prayer, where a CompanionRaziAllahAnhu of the Prophetﷺ is buried in the graveyard of Makli. Another car was added to our convoy when Hassan Kashif, Tahir, Adnan and their families joined us to go to Makli. The Companion of the Prophet said that his name was Abu Sultan. He said he had come to Iran during the time of Hazrat Umer's caliphate. From there, he came to Karachi. He was a trader of livestock and had come to Thatta for business, but death didn’t give him much time, and he had to make Makli his abode in Barzakh. He said someone had come to his grave for practicing the Lata-if after centuries. Many people come, but for other purposes. Nobody ever comes for doing Zikr. However, he said, there was a person named Ubaidullah, who had come there once and performed the Zikr and Meditation. Since then, he had been yearning for such people. His heart was very pleased to see us on that day, he said. 'Keep visiting if possible, so that the intensity of the filthy darkness left behind by wrongdoing masses is reduced a bit. Convey my Salam to your ShaykhRehmatullah Alaih, and say to him that his parallel cannot be found (in times closer) to the Doomsday.'

 



[1] Prayer

[2] A faith with beliefs and actions contradictory to actual Islam. However, the insist on calling themselves a sect of Islam. "Shia" in common laguage.

[3] A kind of folk dance performed at shrines