Khulfa Majazeen (Successors)

Rate this item
(1 Vote)

Click Here for English>>

 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے خلفاء مجازین

بلا شبہ حضرت اللہ یار خان رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے آخری شیخ ہیں، کیونکہ اویسیہ سلسلہ میں شیخ سلسلہ صدیوں بعد آتے ہیں۔ شیخ سلسلہ اپنی جانب سے اور دربار نبویﷺ سے اجازت کے بعد اپنے خلفاء مجازین مقرر کر سکتا ہے، تاکہ وہ سلسلہ عالیہ کی تنظیم و ترویج میں شیخ کی معاونت کریں۔ خلفاء مجازین کی ذمہ داریوں میں سلسلہ عالیہ کو متحد رکھنا، اسلامی تصوف اور  as سلسلہ نقشبندی اویسیہ کے اصول و ضوابط کی پیروی کرنا، اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے لئیے کوشش کرنا شامل ہیں۔ سب سے بڑھ کر، حضرت جیؒ کے حکم کے مطابق ان کے پیروکاروں کو کوئی ایسا فعل ہرگز نہیں کرنا چاہئیے جس سے سلسلہ عالیہ کی تقدیس و حقانیت پر آنچ آئے۔

یہاں حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کا دستخط کردہ ہدایت نامہ پوسٹ کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے آپ نے 10 افراد کو اپنا خلیفہ مجاز نامزد کیا۔ یاد رہے کہ خلافت یا ولائیت نبوت کی طرح نہیں ہوتی۔ ولائیت ایک "کسبی" چیز ہے، یعنی اس کے لئیے کسب یا محنت کرنا پڑتی ہے۔ ولی تب تک ولی رہتا ہے اور اس کے اثرات تب تک قائم و دائم رہتے ہیں جب تک وہ فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسول رہتا ہے۔ یعنی اپنے شیخ کے طریقے اور سنت مطہرہ پر کاربند رہے، اور تصوف کو دنیاوی مقاصد اور مال و متاع کے لئیے استعمال نہ   کرے۔ بہر حال، مندرجہ ذیل تحریر واضح ہے اور اس کے مطابق حضرت اللہ یار خانؒ کے مجازین کی تعداد۔10ہے۔

حضرت مولانا اللہ یار خان کے چار خلفاء

اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے چار خلفاء کا تعین کیا۔ ان خلفاء کا مرتبہ باقی مجازین سے اوپر تھا، البتہ وہ تمام مساوی حقوق کے حامل ہونگے اور ین چاروں میں سے کسی کو کسی پر فوقیت نہ ہوگی۔ تین خلفائ کے نام حضرت جیؒ نے بتا دئیے، جبکہ چوتھے خلیفہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بعد میں آئے گا۔ اس کے علاوہ کچھ علاقائی مجازین کا تقرر بھی فرمایا۔ حضرت جیؒ کی وصیت کے مطابق وہ تین خلفاء مندرجہ ذیل ہیں۔

جناب محمد اکرم اعوان

جناب سید بنیاد حسین شاہ

جناب میجر (ریٹائرڈ) احسن بیگ

چوتھے خلیفہ کا نام نہیں بتایا گیا۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے چوتھا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن ان میں سے کسی کی توثیق اسلئیے نہیں کی جا سکتی کیونکہ شریعت مطہرہ کے مطابق اگر کوئی شخص خود دعویٰ کرے تو محض اس کے کہنے پر اسے خلیفہ نہیں مانا جا سکتا۔ ہمارے خیال میں چوتھا خلیفہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو حضرتؒ کی سنت اور طریقے پر سب سے زیادہ عمل پیرا ہو۔

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی آخری وصیت سننے اور پڑھنے کے لئیے یہاں کلک کریں۔

خلفاء مجازین میں ابہام اور اس کی وجہ

حضرت اللہ یار خان وہ برگزیدہ ہستی ہیں جنہوں نے تصوف و سلوک کے گم گشتہ خزانے کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت سے دنیا میں دوبارہ رائج کیا۔ آپ نے تصوف و سلوک کی جس طرح تشریح اور تبلیغ کی، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ہی وہ عظیم ہستی ہیں جس نے دنیائے اسلام کو دوبارہ لطائف، مراقبات و منازلِ سلوک سے دوبارہ آشنا کیا، ورنہ وہ کچھ بھی اس کی خبر نہ رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب اتنا قیمتی خزانہ کسی کے پاس ہو، تو اس کے ورثا بھی بہت سے پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی حضرت اللہ یار خان ؒ کے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہیں حضرت جیؒ نے اپنا خلیفہ نہیں بنایا۔

 بہت سے ایسے لوگ آپ کو ملیں گے جو خواب اور کشف کے ذریعہ سے خلافت ملنے کا دعویٰ کریں گے، لیکن ان سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ کشف، حقیقی تصوف اسلامی کا حصہ ہیے، لیکن تصوف کشف کا نام نہیں۔خلافت کشف و خواب میں نہیں ملا کرتی۔ اسی جہالت کی وجہ سے ہر کوئی ولائیت کا دعویٰ کرتا پھرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اسے حضرت علی ہجویریؒ سے خواب میں خلافت ملی، تو کوئی حضرت عبد القادر جیلانیؒ سے کشفاً خلافت ملنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ لوگ تصوف کو مالی مفاد اور عزت کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں، اور مریدوں کو بیوقوف بنا رکھا ہے۔ اس لئیے لوگوں کی رہنمائی کے لئیے یہ فہرست پوسٹ کی جا رہی ہے۔ یاد رکھئیے، اگر آپ کا راہبر خود راستے سے ناواقف ہے تو آپ اپنا وقت اور زندگی ضائع کر رہے ہیں۔

خلافت میں ابہام کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ حضرت مولانا اللہ یار خان کے ایک خلیفہ مجاز نے آپ کے  انتقال کے فوراً بعد خود کو شیخ سلسلہ بنا کر اپنا نام سلسلہ عالیہ کے شجرہ مبارک میں لکھ دیا، حالانکہ سلسلہ میں صرف مشائخ کے نام آتے ہیں، مجازین کے نہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی کچھ اور مجازین نے بھی یہی دعویٰ کر ڈالا۔ ان کے مریدین بھی اپنے شیخ کو مجاز نہیں بلکہ شیخ سلسلہ سمجھتے  ہیں، اور دوسری خلفاء کو نہیں مانتے۔

 بہر حال، حضرت جیؒ کے تمام خلفاء ہمارے لئیے قابل احترام ہیں۔ امید ہے کہ اس بیان کو پڑھنے سے حضرتؒ کے مجازین کا تعین ہو گیا ہو گا۔ مزید معلومات کے لئیے ہمیں ای میل کیجئیے۔

 


 

 

 

Khulfa Majaz of Hazrat Allah Yar Khan (RA)

Hazrat Allah Yar Khan (RA) is the last and final Shaykh of Silsila Naqshbandia-Awaisia (also spelled as Owaisia, Owaisiah, or Awaisiah). In the Awaisi Silsila the Shaykh is sent into this world after several hundred years. The Shaykh, with the permission from the Holy Prophet ﷺ, can appoint his "Khulfa" or authorized successors to assist him in organizing and spreading the esteemed Silsila on his behalf. The responsibilities of a Khalifa Majaz include keeping the Silsila united, following the principles and rules of true Islamic Tasawwuf, and working for spreading the Zikr. Most importantly, as Hazrat Jee (RA) has also directed, his followers must not indulge in practices that tarnish the image of this pure and sacred Sufi Order.

Here, the translation of the above special instructions is being presented. Hazrat (RA) appointed at least 10 people as his Khulfa. It must be remembered that Khilafat and Wilayat are not like Nabuwwat. The Khilafat is considered valid for as long as the Khalifa does not dissociate or cut off himself from the Shaykh, either openly or through his negligence of the Shariah and the Sunnah. The actual letter can be found at the bottom of this page.

Special Instructions--Hazrat Allah Yar Khan (RA)

I'm observing that in these treacherous times, the people's spiritual capacity is declining day by day. Moreover, I also feel a lack of effort and hard work among the companions of the circle (of Zikr). Some of our companions are inclined towards personal fame and projection, and are afflicted by a rot in their affairs.

With this background, the following special instructions are being issued for the proper spiritual training and guidance of my friends.

1. By Allah's blessing, the Spiritual Baet is solely in my domain. The seeker's ability is a precondition for this (Baet). Only those who obey the Shariah and have the ache (to spread this light to others) will be bestowed with this supreme blessing. This will usually take place during the Aetkaf or the annual congregation at Munara, after performing due diligence. 2. No one except me is authorized to take people to the Upper Destinations. If someone has been taken to these Destinations without me, it's merely an illusion or wishful thinking. Moreover, if someone has been taken beyond the Triple Meditations without me, he should not think that he is cleared for those Stations. The people who have been duly Authorized and appointed by me can take others till the Triple Meditations and the Triple Circles, and can also give spiritual attention till their own Stations. Out of these people, today I authorize the following for taking others to the Stations till the Prophet'sSall-Allahu-alaih-Wasallam Court.

1. Malik Muhammad Akram, 2. Col Matloob Hussain, 3. Syed Bunyad Hussain Shah, 4. Hafiz Abdul Razzaq, 5. Muhammad Ahsan Baig, 6. Hafiz Ghulam Qadri, 7. Ghulam Muhammad (Wan Bhachran, Mianwali), 8. Khan Muhammad Irani, 9. Maulana Abdul Ghafoor, 10. Syed Muhammad Hassan (Zhob)

3. The people who are not Authorized, but are blessed with the Spiritual Baet, can teach the Lata-if to others and can also give spiritual attention until the Triple Meditations. They are not permitted to give Attention to others beyond that. However, the appointed Ameers of the Circles of Zikr in foreign countries are permitted to take others till the Triple Meditations, provided that they (Ameers) are themselves blessed with the Spiritual Baet.

Moreover, it should always be remembered that in the path of Salook, complete adherence to the Shariah of MuhammadSall-Allahu-alaih-Wasallam, the seeker's sincerity, the link between his heart and the Shaykh's heart, and his obedience to the Shaykh are extremely important affairs.

Nacheez Faqeer Allah Yar Khan, from Munara 30-8-1982 (CE) 10 Zeqad, 1402 (AH)

Signed Letter from Hazrat Allah Yar Khan (RA), the Last Shaykh-e-Silsila

Contact us if you have any questions.