Tasawwuf is Farz

Rate this item
(0 votes)

تصوف کا حصول فرضِ عین ہے 

قاضی ثناء اللہؒ پانی پتی سورہ التوبہ کی آیت مَا کَانَ لِلْمُوْمِنِیْنَ اَنْ یَنْفِرُوْ ا کَافَّۃً کی تفسیر کے سلسلے میں تصوف کے مقام اور اہمیت کی وضاحت فرماتے ہیں۔ 

وَ اَنَّ الْعِلْمُ الَّذِیْ یُسَمُّوْنَ الصُّوْفِیَۃُالْکِرَامُ لَدُنْیَا فَھُوَ فَرْض’‘ عَیْن’‘ لِاَنَّ ثَمَرَاتُھَا تَصْفِیَۃُ الْقَلْبِ عَنِ اِشْتِعَالِ بِغَیْرِ اللّٰہِ وَاِتِّصَافِہٖ بِدَوَامِ الْحُضُوْرِ  وَتَزْکِیَۃِ النَّفْسِ عَنْ رَذَاءِلِ الْاَخْلَاقِ مِنَ الْعُجُبِ وَالتَّکَبُّرِ وَالْحَسَدِ وَحُبِّ الدُّنْیَا وَالْجَاہِ وَالْکَسْلِ فِیْ الطَّاعَاتِ وَاِیْثَارِ الشَّھَوَاتِ وَالرِّیَاءِ وَالسَّمْعَۃِ وَغَیْرِ ذَالِکَ وَتَحْلِیِّتِھَا بِکَرَامِ اْلاَخْلَاقِ مِنَ التَّوْبَۃِ وَالرَّضَاءِ بِالْقَضَاءِ وَالشُّکْرِ عَلَی النَّعَمَاءِ وَالصَّبِرِ عَلَی الْبَلَاءِ وَغَیْرَ ذَالِکَ وَلَا شَکَّ اِنَّ ھٰذِہِ اْلاُمُوْرَ مُحَرَّمَات’‘ عَلٰی کُلِّ مُوْمِنٍ اَشَدُّ تَحْرِیْماً مِنْ مَعَاصِ الْجَوَارِحِ  وَاَھَمَّ اِفْتَرَاضاً مِنْ فَرَاءِضِھَا مِنَ الصَّلوٰۃِ وَالصَّوْمِ وَالزَّکوٰۃِ وَشَیْئیٍ مِنَ الْعِبَادَاتِ لَا سَیَّمَا بِشَیْئیٍ مِّنْھَا مَا لَم ْ یَقْتَرِنْ بِالْاَخْلاَصِ وَالنِّیَّۃِ۔(تفسیرمظہری 324:4) 

صوفیہ کرام جس علم کو لُدنیّ کہتے ہیں اس کا حصول فرض عین ہے کیونکہ اس کا ثمرہ صفائی قلب ہے غیر اللہ کے شغل سے اور قلب کا مشغول ہونا ہے دوام حضور سے اور تزکیہ نفس ہے رزائل اخلاق سے جیسے عجب تکبر، حسد، حب دنیا، حب جاہ، عبادات میں سستی، شہوات نفسانی، ریا، سمعہ وغیرہ اور اسکا ثمرہ فضائل اخلاق سے متصف ہونا ہے جیسے تو بہ من المعاصی رضا بالقضاء شکر نعمت اور مصیبت میں صبرو غیرہ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام امور مومن کیلئے اعضاء و جوارح کے گناہوں سے بھی زیادہ شدت سے حرام ہیں اور نماز، روزہ اور زکوۃ سے زیادہ اہم فرائض ہیں کیونکہ ہر وہ عبادت جس میں خلوص نیت نہ ہو بے فائدہ ہے اور  خلوص ہی کا نام تصوف ہے

امام غزالی ؒ کی رائے۔ 

وَکَذَالِکَ یَفْتَرِضُ عَلَیْہِ عِلْمُ اَحْوَالِ الْقَلْبِ مِنَ التَّوَکَّلِ وَالْخَشْیَۃِ وَالرَّضَاءِ (تعلیم المتعلمین۱۲)  

”(جیسے باقی علوم فرض ہیں) اسی طرح علم سلوک بھی  فرض ہے۔ جو علم احوالِ قلب ہے جیسے توکل، خشیت،رضا بالقضاء۔“

فائدہ:۔ امام غزالیؒ کی تحقیق یہ ہے کہ علم تصوف کا حصول فرض عین ہے۔ مولانا تھانویؒ نے بھی تعلیم تصوف کو فرضِ عین قرار دیا ہے۔ (التکشف عن مہمات التصوف:۷) 

علامہ شامی نے احوال قلب کی تفصیل بیان فرما کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ۔ 

فَیَلْزِمُہ‘ اَنْ یَّتَعَلَّمَ مِنْھَا مَا یَریٰ نَفْسَہ‘ مُحْتَاجاً اِلَیْہِ  وَاِزَالَتِھَا فَرْض’‘ عَیْن’‘(شَامی دور مختار جلد اول بحث علم القلب۔)

پس مومن کو لازم ہے کہ رزائل کے دفعیہ کے لئے علم اتنا حاصل کرے جتنا اپنے نفس کو اس کا محتاج سمجھے ان کا ازالہ فرضِ عین ہے۔ 

 دلائل السلوک سے اقتباس