Hadeeth E Jibraeel (as)

Rate this item
(1 Vote)

حدیث جبرئیل علیہ السلام 

کتب احادیث میں حدیث جبرئیل ؑ کو اصول دین کے بیان میں بنیادی حیثیت حاصل ہے جس میں دین کو اسلام، ایمان اور احسان سے مرکب بیان فرمایا گیا ہے احسان کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے۔ 

قَالَ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسْسانِ۔ قَالَ اَنْ تَعْبُدُ اللہ کَانَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ‘ یَرَاکَ قَالَ ؑ لِیْ یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّاءِلُ قُلْتُ اللہ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ۔ قَالَ ؑ فَاِ نَّہ‘ جِبْبِریْل’اَتاَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ (مشکواۃ، کتاب الایمان) 

”جبرئیل ؑ نے کہا مجھے احسان کے متعلق بتائیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا ہے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اے عمر! کیا تم جانتے ہو سائل کون تھا۔ میں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا۔ یہ جبرئیل ؑ تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“ 

اس حدیث کی شرح میں شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ نے امام مالک ؒ کا قول نقل فرمایا ہے۔ 

قاَلَ الْاِماَمُ مَالِکٍ مَنْ تَصَوَّفَ وَ لَمْ یَتَفَقَّہَ فَقَدْ تَزَنْدَقَ وَمَنْ تَفَقَّہَ وَلَمْ یَتَصَوَّفَ فَقَدْ تَفَسَّقَ وَمَنْ جَمَعَ بَیْنَھُمَا فَقَدْ تَحَقَّقَ۔ 

”امام مالک نے فرمایا جس نے فقہ کے بغیر تصوف حاصل کیا وہ زندیق ہوا۔ اور جس نے تصوف سیکھے بغیر فقہ کا علم حاصل کیا وہ فاسق ہوا۔ اور جس نے دونوں کو جمع کیا وہ محقق ہوا۔ 

خوب سمجھ لو کہ دین کی بنیاد اور اسکی تکمیل کا انحصار فقہ کلام اور تصوف پر ہے اور اس حدیث شریف  میں ان تینوں کا بیان ہوا ہے۔ اسلام سے مراد فقہ ہے کیونکہ اس میں شریعت کے احکام اور اعمال کا بیان ہے اور ایمان سے مراد عقائد ہیں جو علم کلام کے مسائل ہیں اور احسان سے مراد اصل تصوف ہے جو صدق دل سے توجہ الی اللہ سے عبارت ہے مشائخ طریقت کے تمام ارشادات کا حاصل یہی احسان ہے تصوف اور کلام لازم ملزوم ہیں۔ کیونکہ تصوف بغیر کلام کے اور فقہ بغیر تصوف بے معنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے احکام فقہ کے بغیر معلوم نہیں ہوتے اور فقہ بغیر تصوف کے کامل نہیں ہوتی کیونکہ کوئی عمل بغیر اخلاص نیت کے مقبول نہیں اور یہ دونوں ایمان کے بغیر بیکار ہیں۔ ان کی مثال روح اور جسم کی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر نا تمام رہتے ہیں۔ 

 (اللمعات شرح مشکوٰۃ: 45۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی۔) 

 

 فائدہ۔ تصوف جزوِ دین ہے اور انتفائے جزو مستلزم ہے انتفائے کل کو۔ پس انکارِ تصوف مستلزم ہوگا انکارِ دین کو۔