Explanation of Tasawwuf

Rate this item
(0 votes)

حدیثِ احسان پر تفصیلی بحث 

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ 59:1 قَالَ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ۔ 

اَلْمَعْھُوْدُ ذِھْناً فِی الْاٰیَاتِ الْقُرْاٰنِیَّۃِ مِنْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ لِلَّذِیْنَ احَسَنُو االْحُسْنیٰ وَقَالَ ھَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلّاالْاِحْسِانِ۔ وَاَحْسَنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ وَالْاَظْھَرُ اِنَّ الْمُرَادَ بِہٖ فِی الْاٰیَاتِ مَا اشْتَمَلَ عَلَی الْاِیْمَانِ وَالْاِسْلَامِ وَغَیْرَھُمَا مِنَ الْاَعْمَالِ وَالْاَخْلَاقِ وَالْاَحَوَالِ۔ 

الاحسان میں الف لام عہد ذہنی ہے جس میں اشارہ قرآنی آیات کی طرف ہے۔ جن میں لفظ احسان وارد ہوا ہے۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ مراد ان آیات سے وہ احسان ہے جو شامل ہے ایمان اور اسلام وغیرہ اعمال ظاہری، اخلاق اور احوال (صوفیہ) پر۔ 

اور فیض الباری 149:1

اِنَّ الْاِحْسَانَ یَنْقَسِمُ اِلٰی حَالٍ وَعِلْمٍ۔ فَاِنَّ مُشَاہِدَۃُ الْحَقِّ بِقَلْبِہٖ کَاَنَّہ‘ یَرَاہُ حَالَ لَہ‘ وَصِفَتَہ‘ قَاءِمَۃ’‘ بِہٖ وَلَیْسَتْ عِلْماً۔ 

احسان منقسم ہے حال صوفیہ اور علم پر۔ کیونکہ قلب سے حق کا مشاہدہ کرنا، گویا سالک نے آنکھوں سے دیکھا، یہ ایک حالت ہے جو اس کی صوفی سالک کی صفت قائمہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ حالت علم نہیں۔ 

فیض الباری کی عبارت سے ظاہر ہے کہ احسان یا تصوف و سلوک صرف علم کا نام نہیں۔ اس لئے اس علم کے پڑھ لینے سے آدمی عارف باللہ نہیں بن جائے گا۔ جیسے کسی شخص کو نماز، روزہ اور حج کے مسائل کا علم ہو تو محض علم ہونے سے وہ نہ نمازی بن گیا نہ صائم نہ حاجی۔ یہ تو اعمال ہیں جن کا تعلق محض علم سے نہیں بلکہ کرنے سے ہے۔ اسی طرح تصوف و سلوک حال اور کیفیات ہیں۔ جو شیخ کے سینے سے نکل کر سالک کے قلب کو منور کرتی ہیں۔ ان احوال اور کیفیات کے لئے واضع نے کوئی الفاظ وضع نہیں کئے کتب تصوف سے تصوف و سلوک کے متعلق علم کی حد تک رہنمائی مل سکتی ہے، لیکن وہ احوال و کیفیات جو اصل مطلوب ہیں وہ شیخ کامل کی توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر میں یہ کہے دیتا ہوں کہ جسے اپنے رب سے رشتہ جوڑنے اور تعلق باللہ قائم کرنے کی طلب ہو وہ اس عاجز کے پاس آجائے ان شاء اللہ تعالیٰ اس نعمتِ غیر مترقبہ سے محروم نہیں رہے گا۔ 

تصوف و سلوک کا انکار علم یا استدلال پر مبنی نہیں ہے بلکہ جہالت، ضد یا عناد پر مبنی ہے، کیونکہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات تصوف و سلوک کی اصل اور بنیاد ہیں۔ محدثین نے آیات احسان اس سلسلے میں بطور ثبوت پیش کی ہیں۔ ان کی تفصیل احادیث نبوی ﷺ اور اقوالِ مشائخ میں ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کے کلیات کے علاوہ جزیات تک نصوصِ قرآنی اور آثار سے موید ہیں، ہم بلا خوف تردید کہتے ہیں کہ صوفیہ کے مختلف طرق اور سلسلے جن میں اشغال و اعمال اور ان کے نتائج و ثمرات کا ذکر ہے، ان کے عمل کرکے دکھاتے رہے۔ یہی تعامل اور توارث ہے جو دین کی روح ہے۔ اس پر حقیقی اعتماد ہی اصل دین ہے۔ اور یہی دین ایک طرف چار فقہی مذاہب میں اور دوسری طرف چار روحانی سلسلوں میں محفوظ ہو کر ہم تک پہنچا ہے اہل السنت والجماعت کا مدار نبوت کے انہی دو پہلوؤں پر ہے۔ اگر الفاظ کو معانی پہنانے کے سلسلے میں آزادی ہو تو وہ دین نہیں بلکہ نفس پرستی ہوگی۔ اس لئے جہاں تک منقول دین کے الفاظ کے معانی سمجھنے کا تعلق ہے اس کا انحصار تعامل امت اور عرف پر ہوگا۔ جہاں تک علم و عمل کا تعلق ہے، ہمارے اندر بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں علم کا بہت چرچا ہے مگر عمل کا فقدان ہے۔ اس علم کی حیثیت ایک پھل درخت سے زیادہ کچھ نہیں، جیسا کہ عارف جامی نے فرمایا:۔

چوکسب علم کردی در عمل کوش کہ علم بے عمل زہریست بے نوش 

رہا ایمان و تصدیق کا سوال تو ایمان ایک دعویٰ ہے، کسی دعوے کے ثابت ہونے کا مدار اس کے حق میں صحیح شہادت کے ملنے پر ہے۔ اگر شہادت نہ ملے تو دعویٰ غلط اور مدعی جھوٹا ہے۔ اس لئے ایمان کے دعوے کے لئے اعضاء جوارح کی شہادت درکار ہے۔ اگر اعضاء و جوارح سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جو اس دعوے کی تصدیق کریں تو دعوے ثابت، ورنہ دعوے غلط اور مدعی جھوٹا ہے بدقسمتی سے عام مسلمانوں میں یہی دو رنگی پائی جاتی ہے۔ 

دین سے کیا مراد ہے۔ عمدۃ القاری: 339  زیرِ حدیث

جَاءَ جِبْرَءِیْلُ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ اَیْ یُعَلِّمُوْا الْعَقَاءِدَ الدِّیْنِیَّۃَ وَالْاَعْمَالَ الظَّاہِرَۃَ وَالْاَعْمَالَ الْقَلْبِیَّۃَ۔ 

جبرئیل آئے کہ تمہیں دین سکھائیں۔ یعنی تاکہ تم جان لو کہ عقائدِ دینیہ کیا ہیں۔ اعمال ظاہری اور اعمالِ قلبی کون کون سے ہیں۔ 

اور تحفۃ القاری 121:1

دَلَّ الْحَدِیْثُ عَلٰی اَنَّ عُلُومُ الدِّیْنِ ثَلَاثَۃ’‘ اَلْاَوَّلُ اَلْعَقَاءِدُ وَھُوَ عِلْمُ الْکَلَامِ   وَالثَّانِی عِلْمُ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ مَعْرِفَتُ الْاَحْکَامِ وَھُوَ عِلْمُ الْفِقْہِ وَالثَّالِثُ عِلْمُ الْمُکَاشَفَاتِ وَالْمُرَاقَبَاتِ وَھُوَ عِلْمُ التَّصَوُّفِ وَمَجْمُوْعُھَا الدِّیْنُ۔ وَالْاِحْسَانُ ھُوَ اَصْلُ التَّصَوُّفُ الَّذِی ھُوَ عِبَارَۃ’‘ عَنْ صِدْقِ التَّوَجُّہُ اِلَی اللّٰہِ وَ جَمِیْعِمَعَانِی التَّصَوُّفُ الَّتِی جَاءَتْ عَنْ مَشَاءِخِ الطَّرِیْقَۃِ کُلُّھَا اِلیٰ ھٰذاالْمَعْنیٰ۔ فَالدِّیْنُ وِتْر’‘ ثَلاَثَ رَکْعَاتٍ اَلْاَولٰی رَکْعَۃُ الْاِیْمَانِ وَالثَّانِیَۃُ رَکْعَۃُ الْاِسْلَامِ وَالثَّالِثَۃُ رَکْعَۃُ الْاِحْسَانِ وَھِیَ الَّتِیْ تُوْء تِرَ مَا قَدْ صَلّٰی وَلَا یَصِحُّ الْاِقْتِصَارُ عَلٰی رَکْعَۃِ الْاِحْسَانِ فَقَطْ مَالَمْ یَنْضِمُ اِلَیْھَا شَفْعُ الْاِیْمَانِ وَالْاِسْلَامِ وَقَالَ الْقَرْطَبِیْ ھٰذَا الْحَدِیثُ یَصِحُّ اَن یُّقَالَ لَہ‘ اُمُّ السُّنَّۃِ وَقَالَ قَاضِیْ عَیَاضُ اِشْتَمَلَ ھٰذِا الْحَدِیْثُ عَلٰی جَمِیْعِ وَظَاءِفِ الْعِبَادَاتِ الظَّاہِرِیَّۃِ وَالْبَاطِنِیَّۃِ وَمِنْ اَعْمَالِ الْجَوَارِحِ وَمِنْ اَخْلَاصِ السَّرَاءِرِ قَالَ عَلاَّمَۃُ الزَّمَانِ الشَّیْخ مَحْمُوْدُ الْحَسَنْ الدِیَو بَنْدِی قَدَّسَ سِرَّہ‘ اَنَّ مَقْصُوْدَ الْمُوَلِّفِ بِھٰذَالتَّرْجَمَۃِ اَنَّ الْاَصُوْلَ وَالْفَرُوْعَ وَالْاَعْمَالُ وَالْاِیْمَانُ وَالْاِسْلَامُ وَالْاِحْسَانُ وَالْاِخْلَاصُ وَالْاِخْلَاقُ کُلُّھَا مِنَ ھُوَ الْاِحْسَان وَاِشَارَ ھٰذَاالْبَابَ اِلٰی اَنَّ مَنْ ذَاقَ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہ‘ لِلْاِسْلَامِ وَخَالَطَ بِشَاشَۃَ الْقَلْبِ خَلْطاً رَابِطِیًّا اِتِّحَادِیًّا فَیَجُوْزُاَنْ یُّقَالَ فِیْ حَقِّہٖ اَنَّہ‘ مَحْفُوْظ’‘ مِنَ الْاِرْتِدَادِ وَاَمَّا لَیْسَ کَذَالِکَ فَلَا یَجُوْزُلَہ‘ الْوَثُوْقُ عَلٰی اِیْمَانِہٖ

 حدیثِ جبرئیل ؑ تین علوم پر دلالت کرتی ہے۔ اول عقائد۔ یہ علم کلام ہے۔ دوسرا حلال و حرام اور احکام کی معرفت، یہ فقہ ہے۔ تیسرا مکاشفات اور مراقبات کا علم ہے۔ یہ علم تصوف ہے۔ اور تینوں کے مجموعے کا نام دین ہے۔ اور احسان تصوف کی اصل ہے اور اس سے مراد صدق توجہ یا اخلاص ہے، مشائخ سے تصوف کے جتنے معنی منقول ہیں وہ اسی حقیقت کی طرف راجع ہیں۔پس دین اسلام وتر ہوا تین رکعات۔ پہلی رکعت ایمان ہے، دوسری اسلام اور تیسری احسان۔ اور یہ احسان وتر بنائے گا۔ فقط ایک رکعت احسان پر اختصار کرنا درست نہ ہوگا جب تک ایمان اور اسلام کی دو رکعتیں ساتھ نہ ملائی جائیں۔ علامہ قرطبی نے فرمایا حدیثِ جبریلؑ کے متعلق یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سنت کی اصل اور بنیاد ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ حدیث جبریلؑ تمام وظائف عبادات ظاہری اور باطنی اور اعمال، جوارح اور دل کے اخلاص سب پر مشتمل ہے۔ اور شیخ الہند نے فرمایا کہ اس ترجمہ سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ اصول و فروع اعمال، ایمان، اسلام، احسان، اخلاص، اخلاق سب دین کے اجزاء ہیں اور ہر قل روم والی حدیث میں بشاشۃ الایمان سے مراد یہی احسان ہے اور اس سلسلے میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جس نے ایمان کی حلاوت چکھ لی، اس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا، اور ایمان کی لذت دل کی گہرائیوں میں پیوست ہو چکی اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ وہ مرتد نہیں ہوگا، اور جس میں یہ حقیقت نہیں پائی جاتی، اس کے متعلق وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایمان پر قائم رہے گا۔ 

امام ربانی مجدد الف ثانی  ؒ نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ مراقبہ فنا فی اللہ اور بقا باللہ جب سالک کو راسخ ہو جائے تو وہ یقینا ایمان پر مرتا ہے۔ حدیث میں لفظِ بشاشت آیا ہے۔ امام صاحب نے اسی سے راسخ کی قید لگائی ہے۔ 

 

(مزید جاننے کے لئے دلائل السلوک کا مطالعہ کیجئیے)