What Is Tasawwuf ? (تصوف کیا ھے)

Rate this item
(1 Vote)

Click here for English>>

 

 

حقیقی اسلامی تصوف و سلوک

آجکل کا مسلمان دین کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ دین کے احکام کو بظاہر تسلیم کرنے کے باوجود ان پر عمل پیرا ہونا انتہائی دشواردکھائی دیتا ہے۔ فرقہ بازیوں اور علمائے سُو کی فتنہ پردازیوں کی بدولت عقائد و ایمان بھی سلامت نہیں رہے، اعمال تو دور کی بات ہے۔ اس انتشار کی وجہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کا دین اسلام کے ایک انتہائی اہم رکن سے نا واقف ہونا ہے۔ یہ رکن تصوف و سلوک ہے۔

تصوف کو قران پاک اور حدیث مبارک میں تزکیہ اور احسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب صفائی ہے، یعنی باطن یا نفس کی صفائی۔ دین پر کما حقہ عمل اسی وقت ممکن ہے جب تزکیہ نصیب ہو جائے۔ اسی بارے میں قران پاک کی اس آیت میں واضح حکم موجود ہے۔

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى. وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى 

فلاح پا گیا وہ شخص جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا، پھر نماز کا پابند ہو گیا

87:14،15

قرآن پاک کی بہت سی آیات اور احادیث میں اللہ کے نام کا ذکر کرنے کا حکم پایا جاتا ہے، اور اس کا تعلق تزکیہ سے جوڑا گیا ہے۔ تزکیہ کا عمل ذکر اللہ کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لئیے استاد یا شیخ ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کا تزکیہ فرمایا، جس کی بدولت وہ صحابہ بنے۔ آپ ﷺ کی ایک نگاہ سے ایسا تزکیہ ہو جاتا تھا جو بعد کے دور میں ممکن ہی نہیں۔  جو شخص حالت ایمان میں اس مادی وجود کے ساتھ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا، وہ صحابی ہے۔ بعد میں آنے والے خواہ کتنی ہی عبادت و ریاضت کیوں نہ کر لیں، وہ صحابی نہیں بن  سکتے۔رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے اور صحابہ کے دور کے بعد تزکیہ کی ذمہ داری صوفیاء کو سونپی گئی، اور برکات نبوت ان کے سینوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دلوں کو منور کرتی رہیں۔ 1500 سال سے تزکیہ کا یہی طریقہ کار ہے، کہ کسی اللہ اللہ کرنے والے کا دامن تھامنا پڑتا ہے، اور اس کے سینے سے یہ فیض حاصل ہوتا ہے۔ اس لئیے جن لوگوں کا خیال ہے کہ صرف عبادت کرنے سے یا تبلیغ میں جانے سے تزکیہ ہو جاتا ہے،تو ایسا نہیں ہے بلکہ تزکیہ کے لئیے وہی طریقہ اپنانا پڑے گا جو 1400 سال سے جاری و ساری ہے۔۔

مندرجہ ذیل اقتباس حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی کتاب دلائل السلوک سے لئیے گئے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد تصوف کی تعریف و موضوع مزید واضح ہو جائیں گے۔

ِ

تصوف کیا ہے؟


لغت کے اعتبار سے تصوف کی اصل خواہ صوف ہو اور حقیقت کے اعتبار سے اس کا رشتہ چاہے صفا سے جاملے اس میں شک نہیں کہ یہ دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ جس کی اساس خلوص فی العمل اور خلوص فی النیت پر ہے اور جس کی غایت تعلق مع اللہ اور حصول رضائے الٰہی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ اور آثار صحابہؓ سے اس حقیقت کا ثبوت ملتا ہے۔ 

تصوف کی تاریخ


عہدِ رسالت اور صحابہؓ کرام کے دور میں جس طرح دین کے دوسرے شعبوں تفسیر، اصول، فقہ، کلام وغیرہ کے نام اور اصطلاحات وضع نہ ہوئی تھیں ہر چند کہ ان کے اصول و کلیات موجود تھے اور ان عنوانات کے تحت یہ شعبے بعد میں مدون ہوئے اسی طرح دین کا یہ اہم شعبہ بھی موجود تھا۔ کیونکہ تزکیہ باطن خود پیغمبر ﷺ کے فرائض میں شامل تھا۔ صحابہؓ کی زندگی بھی اسی کا نمونہ تھی لیکن اس کی تدوین بھی دوسرے شعبوں کی طرح بعد میں ہوئی صحابیت کے شرف اور لقب کی موجودگی میں کسی علیحدہ اصطلاح کی ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ کے لئے متکلم، مفسر، محدث، فقیہہ اور صوفی کے القاب استعمال نہیں کئے گئے۔ اس کے بعد جن لوگوں نے دین کے اس شعبہ کی خدمت کی اور اس کے حامل اور متخصص قرار پائے گئے۔ ان کی زندگیاں زہدو اتقاء اور خلوص و سادگی کا عمدہ نمونہ تھیں۔ ان کی غذا بھی سادہ اور لباس بھی موٹا جھوٹا اکثر صوف وغیرہ کا ہوتا تھا۔ اس وجہ سے وہ لوگوں میں صوفی کے لقب سے یاد کئے گئے اور اس نسبت سے ان سے متعلقہ شعبہ دین کو بعد میں تصوف کا نام دیا گیا۔ قرآن حکیم میں اسے تقویٰ ، تزکیہ اور خشیتہ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور حدیث شریف میں اسے ’’احسان‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے اور اسے دین کا ماحصل قرار دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل حدیث جبریل ؑ میں موجود ہے۔ مختصر یہ کہ تصوف، احسان، سلوک اور اخلاص ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں۔ 

نبوّت کے دو پہلو


نبوت کے دو پہلو ہیں اور دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ 

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہ عَلَی الْمُوء مِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوا عَلَیْھِمْ اٰیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (۱۶۴:۳)
حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا ہے جب کہ انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو ان کو اس کی آئتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک صاف کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ 

نبوت کے ظاہری پہلو کا تعلق تلاوت آیات اور تعلیم و تشریح کتاب سے ہے اور اس کے باطنی پہلو کا تعلق تزکیہ باطن سے ہے۔ جن نفوس قدسیہ کو نبوت کے صرف ظاہری پہلو سے حصہ وافر ملا وہ مفسر،محدث فقیہہ اور مبلغ کے ناموں سے موسوم ہوئے اور جنہیں اس کے ساتھ ہی نبوت کے باطنی پہلو سے بھی سرفراز فرما یا گیا ان میں سے بعض غوثیت، قطبیت، ابدالیت اور قیومیت وغیرہ .کے مناصب پر فائز ہوئے مگر ان سب کا سرچشمہ کتاب و سنت ہے.

تصوف کا بنیادی اصول

اللہ اور بندے کے درمیان علاقہ قائم رکھنے والی چیز اعتصام بالکتاب والسنّہ ہے یہی مدار نجات ہے۔ قبر سے حشر تک اتباعِ کتاب و سنت کے متعلق ہی سوال ہوگا۔ یہی وجہ ہے محققین صوفیائے کرام نے شیخ یا پیر کے لئے کتاب و سنت کا عالم ہونا قراردیا ہے۔ اگر کوئی شخص ہوا میں اڑتا آئے مگر اسکی عملی زندگی کتاب و سنت کے خلاف ہے تو وہ ولی اللہ نہیں بلکہ جھوٹا ہے شعبدہ باز ہے کیونکہ تعلق مع اللہ کے لئے اتباعِ سنت لازمی ہے 
کَمَا قَالَ تَعَا لیٰ
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہ فَا تَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ۔ (۳:۳۱)
آپ فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ 
اتباعِ سنت کا پورا پورا حق ان اللہ والوں نے ادا کیا جنہوں نے نبوت کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی اہمیت کو محسوس کیا اور ہمیشہ پیش نظر رکھا اور تبلیغ و اشاعتِ دین کو تزکیہ نفوس سے کبھی جدا نہ ہونے دیا۔ تمام کمالات اور سارے مناصب صرف حضور اکرم ﷺ کی اتباع کی بدولت ہی حاصل ہوتے ہیں اور تصوف کا اصل سرمایہ اتباعِ سنت ہے۔

 

 دلائل السلوک، اسلامی تصوف کی حقیقت

اگلا موضوع: تصوف کی تعریف

 

مزید جاننے کے لئیے مندرجہ ذیل لنک وزٹ کیجئیے۔

تصوف اور اسلام

تصوف کا ثبوت، قرآن مجید میں

تصوف کا ثبوت، حدیث پاک میں

 

Back to Top

 


 

 

 

THE REALITY OF ISLAMIC SUFISM

What is Sufism

Regardless of the fact that the word Tasawwuf may itself have evolved from Soof (a coarse cloth traditionally worn by Sufis) or Safa (cleansing), there is no doubt that it is an important part of Deen-e-Islam. It has its foundation in the sincerity of actions and intentions, and its ultimate goal is to attain Allah's pleasure and get closer to Him. The Study of the Quran and Hadith and the practical life of the Holy Prophet ﷺ and his illustrious Companions provide undeniable proof of the reality known as Tasawwuf, or true Islamic Sufism.

 

The History of Sufism

During the time of the Prophet ﷺ and his Companions, the terminology for different disciplines of the Deen like Tafseer, Fiqah, theological philosophy, Kalaam, Hadith had not yet been coined, although they existed in principle and spirit. These branches of Islamic knowledge were compiled under their present titles at a later stage. Similarly, the crucial component of Deen known as Tasawwuf today also existed in those times. Tazkiya or inner purification was a part of the Prophet'sﷺ mission and the lives of the Companions reflected this reality. Just like the other branches of knowledge, the compilation of Tasawwuf as a separate discipline took place in later times.

No other title was more exalted than the title of a Companion. Therefore, terms like Muhaddith, Mufassir, Faqeeh, or Sufi were not used for the Companions. The people who subsequently devoted themselves to this branch became its torchbearers and specialists. Their lives were pristine role models of piety, simplicity, and sincerity. They ate sparsely and simply and wore coarse garments made of Soof. They were known as Sufis and the branch of knowledge associated with them became known as Sufism.

The Holy Quran refers to this part of the Deen as Taqwa (Piety), Tazkiya (Purification), Khashiat Allah (Fear of Allah) and the Hadith terms it as Ihsan. It has been regarded as the soul of Deen-e-Islam. Further details can be seen in the section Proof of Tasawwuf. In short, Sufism, Tasawwuf, Sulook (the Mystic Path), Ihsan, and Ikhlas are the different names for the same reality.

 

The Two Facets of Nabuwah (Prophethood)

There are two aspects of the Prophethood. Both are equally essential, as Allah says:

Allah has indeed done a great favor to the Muslims, that He sent a Prophet unto them who recites unto them His Verses, and purifies them, and teaches them of the Book and wisdom.(Aal-e-Imran 3-164)

The apparent or outward aspect of the Prophethood pertains to the recitation, instruction and explanation of the Quran. Whereas its inward or invisible aspect has to do with cleansing and purification of the inner self. Those respected people who benefited from the apparent or outward aspect of the Prophethood were termed as Mufassir, Muhaddith, Faqeeh and Muballigh. And those who were additionally blessed from the 'hidden' or inward aspect of the Prophethood were known as Sufi and some of them were appointed on the coveted ranks of Ghous, Qutab, Abdal and Qayyum. However, both branches stem from the Quran and the Sunnah.

 

The Principle and Outcome of Sufism

The Quran and the Sunnah define the boundaries of behavior Allah desires from man, and Salvation depends upon following them. The period from death (grave) to the Judgement Day will depend upon how much one adhered to the Book and the Sunnah. This is the reason why illustrious Muslim saints have declared it incumbent upon the Shaikh, or Sufi Guide to be well versed in the knowledge of the Quran and the Hadith. If a person can fly in the air but his practical life is not in conformance with the Quran and the Sunnah, he is not a Wali-Allah but a liar and an illusionist. Because adherence to the Sunnah is a pre requisite to being closer to Allah.

Say (to the Muslims, O Muhammad) if you love Allah, follow my ways; Allah will be loving you.(Aal-e-Imran 3-31)

Only those people rightly followed the ways of the Holy Prophet ﷺ who felt the importance of both the outward and the inward aspects of the Prophethood and never let teaching and preaching of Islam get divorced from purification of soul. All greatness is achieved by following the Great Prophet ﷺ, and the real outcome of Tasawwuf is obedience to the Sunnah.

Dalail-us-Sulook, the Reality of Islamic Sufism

 

Next Topic: Definition of Sufism

 

Visit the following links to learn more about True Islamic Sufism:

Tasawwuf in Islam

Tasawwuf in Quran

Tasawwuf in Hadees

 

Back to Top