Different Beliefs about Tasawwuf I تصوف کے متعلق مختلف نظریات

Rate this item
(0 votes)

Click here for ENGLISH

 تصوف کے متعلق مختلف نظریات 

دلائل السلوک سے اقتباس

منکرین تصوف


تصوف کا انکار مختلف بہانوں اور مختلف الزامات کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔ ان میں قدر مشترک یہ ہے کہ تصوف بدعت ہے۔ بدعت کی بحث مناسب مقام پر آجائیگی اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ تصوف بدعت ہے یا سنت اور روحِ اسلام ہے۔ یہاں ہم اصولی طور پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ منکرین تصوف کی حیثیت نہ تو مجتہد کی ہے کہ ان کا انکار کسی کے لئے حجت ہو اور نہ یہ علمائے حق اور صوفیہ محققین پر کسی طرح فوقیت رکھتے ہیں کہ ان کی رائے کا احترام کیا جائے بلکہ بقول مولانا احمد علی ؒ لاہوری یہ منکرین تصوف چور، ڈاکو اور راہزن ہیں جو دین کا ایک اہم جزو دین سے خارج کرنا چاہتے ہیں۔ امام حسن بصریؒ سے لے کر آجتک کروڑوں نفوسِ قدسیہ کو بدعتی کہنے کے بجائے یہ زیادہ قرین عقل و انصاف ہے کہ ان منکرین تصوف کو ہی بدعتی سمجھا جائے۔ ان کے انکار کی وجہ ان کی جہالت اور کم علمی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسے لوگ ہمیشہ ایسا کرتے آئے ہیں کَماَ قَالَ اللہ تَعاَلیٰ بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ(بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے)(۰۱:۹۳))اگر یہ لوگ ارشاد ربانی کو پیش نظر رکھتے کہ وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْم’‘ (اور جس بات کی تحقیق نہ ہو اس پر عملدرآمد مت کیا کر) (۷۱:۶۳)تو ممکن ہے انہیں انکار کی جرأت نہ ہوتی۔ 

قائلین تصوف


قائلین تصوف کے پھر دو گروہ ہیں ایک قلیل جماعت اعتقاداً تصوف کی قائل ہے اور عملاً بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ در حقیقت یہی لوگ اہلِ حق ہیں اور قَلِیْل’‘ مِنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْر’‘ (میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہیں) (34:13)کے مصداق ہیں۔ ان کا وجود ہر زمانے میں رہا ہے اور نبوت کے اس شعبہ کی برکات انہیں کے وسیلے سے دنیا میں پھیلتی رہی ہیں۔  ایک جماعت ایسی ہے جو بظاہر تو تصوف کی قائل ہے مگر عملاً اس کی منکر ہے ان کے نزدیک تصوف صرف کتب تصوف کا مطالعہ کرلینے، اولیاء اللہ کی حکایات سن لینے سر دھننے اور جھومنے تک محدود ہے۔ یہ لوگ اول تو کسی عارف کامل مزکی و مصلح کی تلاش کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے جو عملاً سلوک سکھائے اور اتباع سنت پر زور دے۔ اور اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو تزکیہ باطن کا طریقہ سکھائے یا راہِ سلوک طے کرائے تو اس پر یقین نہیں کرتے بلکہ اس کا تمسخر اڑایا جاتا ہے حالانکہ ان کی بے یقینی کی اصل وجہ ان کا فکری اور عملی جمود ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ محنت نہ کرنی پڑے۔ محض زبانی باتوں اور حکایتوں سے ہی سلوک طے ہوجائے یہ لوگ بھی در اصل تصوفِ اسلامی کے منکر ہیں۔ اس جماعت میں بعض اوقات اس نعرہ کی گونج بھی سنائی دیتی ہے کہ ”شریعت اور چیز ہے اور طریقت اور چیز ہے“۔ یہ نعرہ کیا ہے کتاب و سنت سے آزادی اور اتباع سنت سے فرار کی ایک راہ نکال لی ہے۔

انکار کرامات

انکار کرامات کے اعتبار سے لوگوں کی کئی قسمیں ہیں 
 (۱)وہ جو مطلقاً منکر ہیں یہ مشہور اہل مذہب اور پرہیز گاری سے منحرف ہیں 
(۲)وہ جو اگلے لوگوں کی کرامات کے قائل ہیں مگر اپنے زمانے کے کرامات کے منکر ہیں یہ لوگ بقول سیدی ابو الحسن شاذلیؒ، بنی اسرائیل کے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ں کی اس وقت تصدیق کی جب ان کو نہیں دیکھا اور محمد ﷺ کی تکذیب کی اور اس کا باعث حسدو عداوت اور شقاوت کے سوا کچھ نہ تھا (۳) جو اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے زمانے کے لوگوں میں بھی اللہ کے اولیاء ہیں لیکن کسی شخص معین کی تصدیق نہیں کرتے۔ ایسے لوگ اولیاء اللہ کی رہنمائی سے محروم ہیں (روض الریاحین از امام شافعیؒ بحوالہ الطبقات الکبری از علامہ عبدالوہاب شعرانی ترجمہ ص ۹۳ مرتب)

 

Beliefs about Tasawwuf

Deniers of Tasawwuf

Tasawwuf is denied under the pretext of different excuses and accusations. The most common among them is that Tasawwuf is ‘Bidah’ (innovation in Deen). The discussion of Bidah will come at the appropriate time place and it will be proven whether Tasawwuf is ‘Bidah’, or whether it is Sunnat and the Spirit of Islam. Here, we want to make it clear as a matter of principle, that the deniers of Tasawwuf are not Mujtahid, that there denial should become precedence for someone. Nor are they in any way superior to the righteous Sufis and true Scholars, that their opinion should be respected.
 
According to Maulana Ahmed Ali Lahori Rehmatullah Alaih, these deniers of Tasawwuf are like thieves, robbers and highway men, who want to steal an essential part of Deen. Rather than accusing millions of noble souls (who practiced Tasawwuf) from the times of Imam Hassan Basri Rehmatullah Alaih till present-day of following a Bidah, it is more appropriate to call these deniers of Tasawwuf as Bidatis themselves.
 
The reason for their denial lies in their ignorance and lack of knowledge. This is not something new. People like them have been denying the truth for ages. Allah SWT says: Rather, they have denied that which they encompass not in knowledge (10:39) Had these deniers heeded this Word of Allah: “And do not pursue that of which you have no knowledge” (17:36), would not have dared to deny Tasawwuf.
 

Believers of Tasawwuf

Two groups exist among the believers of Tasawwuf. The minority group believes in Tasawwuf as a matter of faith and also endorses it as a matter of practice. In fact, these are people of the Truth (ahl-e-haq) and can be likened with the Ayah 34:13 of the Glorious Quran:  وَ قَلِیْل’‘ مِنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْر (And few of my servants are grateful). Such people have existed through all times and the blessings of this particular department of the Prophethood have been spreading in the world by virtue of their existence. 
 
The other group in this category endorses Tasawwuf verbally, but denies it practically. To them, Tasawwuf is limited to reading books of Tasawwuf, listening to the accounts of Aulia Allah, and enjoying themselves. These people don't bother to look for a Kaamil (accomplished), cognizant, and righteous Muzakki (spiritual guide) who can n accomplished,  spiritual teacher who teaches the practice of Tasawwuf and stresses upon obedience to the Sunnah. And, if at all they come across such a person who can teach them the method of spiritual purification and make them progress on the way of Sulook, they disbelieve and ridicule that person.
 
The real reason for their disbelief is the sluggishness of thought and action. They don't want to make an effort and want to complete Sulook just by narrating and listening to stories. In reality, they are also among the deniers of Islamic Tasawwuf. Sometimes, a slogan can be heard echoing through this group that Shariat is something different from Tareeqat. It's not a slogan but a way they have devised to free themselves from the obligations of the Quran and the Sunnah and an excuse to escape the obedience to the Sunnah.