Second Objection | اظہارِ کشف و الہام جائز نہیں

Rate this item
(0 votes)

Click here for ENGLISH

 

تحدیث نعمت اور اظہار دین
تحدیث نعمت از روئے حکم باری تعالیٰ ضروری ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ(الضحیٰ)میں فرمایا کہ صوفیہ کرام کے اس اظہار پر تنکیر نہ کی جائے اور ارشاد الطالبین میں مذکور ہے کہفَمَنْ اَنْکَرَ عَلیٰ ھٰءُولَاءِ الرِّجَالِ فِی مِثْلِ ھٰذِہٖ الْمَقَالِ فَکَاَنَّہ‘ اَنْکَرَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ (جس نے اس قسم کی باتوں میں صوفیہ کا انکار کیا گویا اس نے آیت قرآنی کا انکار کیا)۔
اور مشکوٰۃ باب اللباس فصل دوم میں حضرت عمر بن شعیبؓ سے روایت ہے قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ اَنْ یُّریٰ اَثْرَ نِعْمَۃِ عَلیٰ عَبْدِہٖ (اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اظہار کیا جائے جو بندہ پر ہوئی)
اور اللمعات شرح مشکوٰۃ ۳:۵۴۸میں ہے 
جا معلوم شود کہ پوشیدہ کردن نعمت و کتمان آں روانیست و گویا موجب کفران نعمت است وہم چنیں ہر نعمتے کہ وے تعالیٰ بر بندہ داد مثل علم و فضل، باد کہ ظاہر کند تامردم بستناسند واستفادہ نمایند ودر مصداق مما رزقنٰھم ینفقون داخل شود۔
اس سے معلوم ہوا کہ نعمت کا چھپانا جائز نہیں۔گویایہ نعمت کی ناشکری ہے۔ اسی طرح وہ نعمت جو اللہ تعالیٰ نے بندہ پر فرمائی مثلا علم اور فضیلت (خواہ علم ظاہری ہو یا باطنی) اس کا اظہار ضروری ہے تاکہ لوگ واقف ہو جائیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ قرآن مجید کی آیت ’’جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں‘‘ کے مصداق میں داخل ہوجائے۔ 
فائدہ: اظہار کمالات باطنیہ برائے فائدہ خلق جائز اور چھپانا ناجائز اور چھپانے والا ماخوذ ہوگا۔ ہاں مدار نیت پر ہے 

اور تفسیر جمل ۲:۴۴۵میں اسی آیت کے ضمن میں مذکور ہے۔ 
وَلِذَالِکَ جَوَّزُوْا لِلْخَامِلِ اَنْ یُّعِیْنَ نَفْسَہ‘ حَتیٰ یُعْرَفُ فَیَقْتَبِسْ مِنْہُ لَمْ یَکُنْ مِنْ بَابِ التَّزْکِیَۃِ۔ 
اسی وجہ سے گمنام آدمی کے لئے جائز ہے کہ اپنے آپ کو ظاہر کرے کہ لوگ اس کو پہچان کر اس سے فائدہ اٹھائیں۔تو اسکا اپنے اوصاف بیان کرنا فخر میں داخل نہ ہوگا 

اور تفسیر ابن کثیر ۲:۴۸۲میں ہے 
قَالَ اجْعَلْنِی عَلیٰ خَزَاءِنِ الْاَرْضِ ....... مَدَحَ نَفْسَہ‘ وَیَجُوْزُ لِلرَّجُلِ ذِٰلکَ اِذَا جَھَلَ اَمْرَہ‘ لِلْحَاجَۃِ۔
مجھے خزانوں پر مامور کردے (حضرت یوسف ؑ کا یہ فرمانا) اپنی مدح کا بیان ہے اور آدمی کے لئے ایسا اظہار اور مدح جائز ہے۔ جب لوگوں کو ضرورت ہو اور اسکا کمال پوشیدہ ہو۔ 

اور اسی آیت کے تحت تفسیر جمل ۳:۵۴۸میں ہے 
اَمَّا اِذَا قَصَدَ تَزْکِیّۃُ النَّفْسِ وَمَدَحَھَا اِیْصَالُ الْخَیْرِ وَالنَّفْعِ اِلَی الْغَیْرِ فَلَا یَکْرَہ۔ذٰٓلِکَ وَلَا یَحْرُمُ بَلْ یَجِبُ عَلَیْہِ ذٰلِکَ مِثَالُہ‘ اَن یَّکُوْنَ بَعْضُ النَّاسِ عِنْدَُہُ عِلْم’‘ نَاِفع’‘ وَلَا یَعْرِفُ بِہٖ فَاِنَّہ‘ یَجِبُ عَلَیْہِ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا عَالِم’‘۔
اگر کوئی شخص اپنی تعریف محض لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے کرتا ہے تو یہ نہ مکروہ ہے نہ حرام، بلکہ اس کا اظہار واجب ہے۔ مثلا ایک آدمی کے پاس علم ہے۔ اور نافع علم اور لوگوں کو اس کی واقفیت نہیں تو اس پر واجب ہے کہ یہ اعلان کرے کہ میں اس علم کا عالم ہوں۔ 

عدم اظہار مشروط بہ شرط ہے
جو شخص اظہار میں فخر سمجھتا ہو یا اس اظہار سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہتا ہو جو شرعا حلال نہیں تو اس کا اظہار ریا، خود نمائی اور فخر میں داخل ہوگا اور یہ ناجائز ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ایک قانون کی نشاندہی کی ہے۔ 
وَمِنْ ھٰذَا یُوخَذُ الْاَمْرُ بِکْتِمَانِ النِّعْمَۃِ مَتیٰ یُوْجَدُ وَیَظْہَرُ کَمَا وَرَدَ فِیْ حَدِیْثِ اِسْتَعِیْنُوْا عَلیٰ قَضَاءِ الْحَوَاءِجِ بِکِتْمَانِھَا فَاِنَّ کُلُّ ذِیْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْد’‘۔ (تفسیر ابن کثیر ۳:۴۶۹) 
اس سے معلوم ہوا کہ نعمت کا اس وقت تک کتمان ضروری ہے جب تک وہ ظاہر ہو کر وجود میں نہ آجائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اپنی حاجتوں کی امداد انہیں (پورا ہونے تک) پوشیدہ رکھ کر کرو کیونکہ ہر صاحب نعمت محسود ہوتا ہے۔ 

فوائد
(۱) اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ پر انعام کرنا چاہتا ہے اور اس بندہ کو بذریعہ کشف و الہام مطلع فرمادیتا ہے تو جب تک وہ انعام حاصل نہ ہو جائے اظہار نہ کرے شاید وہ نعمت روک لی جائے۔ 
(۲)جس پر انعام زیادہ ہوگا اس کے حاسد بھی اسی نسبت سے بہت ہوں گے۔ 
(۳)وہ اسرارورموز جو اللہ تعالیٰ اور ولی اللہ کے درمیان خاص ہیں اور ان کے اظہار سے مخلوق کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ اظہار فتنہ مخلوق کا سبب بنے تو ان کا اظہار صحیح نہیں۔ ان امور کو ظاہر نہ کرے تاکہ صاحب اسرار بن جائے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ کمال خواہ کسی قسم اور کسی درجے کا ہو ظاہر ہو کر ہی رہتا ہے۔ 
نیکو ردی تاب مستوری ندارد        چوبندی درز روزن سر بر آرد 
اگر اظہا ر نہ ہو تو حق باطل میں تمیز کیسے ہو۔ حقیقی صوفیہ اور بے معنی مدعیان تصوف میں فرق کیونکر ظاہر ہو لوگوں کو کیسے معلوم ہو کہ صحیح اسلامی تصوف کیا ہے؟ عوام کی تو یہ حالت ہے کہ ہر دیوانے کو مجذوب سمجھنے کے لئے تیار ہیں اور مدعیان تصوف میں سے جسے چاہیں قطب زماں سمجھتے ہیں۔ 

 


 

 

 

Answer to the Second Objection

It has been wrongly presumed that matters pertaining to Kashf should not be disclosed. No only the masses, but even some of the Ulema consider expression of Kashf as unlawful and criticize it. The fact is that expression of the knowledge of Salook becomes essential for three reasons:

1. Allah's blessing must be talked about, as a token of his gratitude

2. Salook is an important branch of the Deen and must be propagated in its entirety, as a matter of obligation

3. The fact that a particular truth is being denied makes the expression of that truth necessary. In this case, the denial of Tasawwuf has crossed all limits, and has reached a stage where this fundamental branch of the Deen is being refuted.

Talking about Allah's Bounties and Expressing Faith

It is essential to express Allah's blessings, as enjoined in the Holy Quran:

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ

You shall proclaim the blessing your Lord has bestowed upon you.

The author of Tafseer-e-Mazhar writes in the explanation of this verse: "No refutation should be made by anyone upon the disclosure of Allah's bounties by the Sufis. According to Irshad-ut-Talibeen, "whoever refutes the Sufis in such things denies the Ayaat of the Quran."

In Mishkat Vol II "Chapter on Raiment," Hazrat Umer bin Shoaib (RAA) has quoted the Prophet ﷺ:

"Allah likes that His servants should talk about His bounties."

According to "Al-Lama'at (an explanation of Mishkat Vol III P548):

"The concealment of Allah's bounty is not permissible because it amounts to ingratitude. Similarly, any blessing that He bestows upon His servants such as knowledge and other forms of excellence (inward and outward) must be expressed. This will keep the people informed and allow them to benefit from that blessing. Such a disclosure will, of course, be in accordance with the Quranic pronouncement: "...spend of what We have bestowed upon them." (2:3)

Benefit: The expression of spiritual (inward) excellence for the benefit of people is permissible, and concealing it is forbidden. The one who conceals such blessings will be held accountable. However, it depends upon the intention.

Tafseer-e-Jumal 2:445 states under the explanation of the same Ayah:

"Therefore, it is permissible for an unknown person to make himself known, so that people may benefit from him. So, if he states his qualities, it will not be counted as pride."

And Tafseer-ibn-Kathir 2:482 states:

"Appoint me upon the treasures," (as Hazrat YousufAS said to the King) is the expression of one's own praise, and it is permissible for a person to express his own praise when the people need it and his excellence is hidden."

And Tafseer-e-Jumal (3:548) continues explaining under the same Ayat: 

"If a person praises himself just for the sake of benefiting people, it is neither undesirable nor prohibited. Rather, it is mandatory (Wajib) to make such expression. For example, if a person has knowledge that is beneficial for people, and the people don't know about it, it is mandatory for that person to announce that he holds such knowledge."