Hazrat Allah Yar Khan's 4th Khalifa Featured

Rate this item
(3 votes)

 

 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے چوتھے اور آخری خلیفہ

آخری شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے اپنی وصیت مورخہ 12 جنوری 1984 میں فرمایا کہ انھوں نے چار خلفاء مقرر کئیے ہیں۔ ان میں سے تین خلفاء کے نام حضرت جیؒ نے بتائے (سید بنیاد حسین شاہ صاحب، میجر احسن بیگ صاحب، اور محمد اکرم اعوان صاحب)۔ چوتھے خلیفہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بعد میں آئے گا، جب اسکی تربیت مکمل ہو جائے گی۔ حضرت جیؒ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ایک خلیفہ گر جائے تو دوسرا سلسلہ کو سنبھالے گا، دوسرا گر جائے تو تیسرا، ورنہ پھر چوتھا خلیفہ سلسلہ کو سنبھالے گا۔

اپنی اس آخری وصیت میں حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نےآپس میں اکٹھے پو کر بھائی بھائی بن کر رہنے کی  بھی تاکید فرمائی۔ لیکن جہاں تک سلسلہ کو  اکٹھا رکھنے کا تعلق تھا، تو بد قسمتی سے حضرت جیؒ کے تینوں نامزد خلفاء اس مقصد میں ناکام ہو گئے۔حضرت جیؒ کی وفات کے بعد ہی اکرم اعوان صاحب نے شیخ سلسلہ ہونے کا دعویٰ کر دیا اور سلسلہ کے واحد متولی بن بیٹھے۔ رد عمل کے طور پر احسن بیگ صاحب اور بنیاد حسین صاحب الگ ہوگئے اور انہیوں نے بھی سلسلہ کے واحد وارث اور جانشین ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اب انکے مریدین اپنے اپنے شیخ کو ہی سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا مختار کل سمجھتے ہیں۔

حضرت جیؒ نے اپنی زندگی میں بار بار دنیا اور مال کی محبت سے منع فرمایا اور اپنے طرز زندگی سے سادگی اور فقیری کا سبق دیا۔ لیکن ان کے خلفاء مال اور دنیا سے اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔ آج وہ اربوں کی جائیداد کے مالک ہیں، جبکہ بظاہر تصوف کے علاوہ ان کا کوئی "ذریعہ آمدن" بھی نہیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنے نام بھی شیخ سلسلہ کے طور پر شجرہ مبارک میں لکھ ڈالے۔ اس طرح حضرتؒ کے سلسلے کا حلیہ بگاڑ دیا گیا اور سلسلہ بہت سی جماعتوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا۔

میجر ریٹائرڈ غلام محمد، حضرت جیؒ کے چوتھے اور آخری خلیفہ

حضرت جیؒ کی وفات کے بعد بہت سے لوگوں نے ان کا چوتھا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان دعووں کی بنیاد خواب، کشف اور بشارت پر تھی۔ ہم کسی بھی ایسے شخص کا اعتبار نہیں کر سکتے جو خود پیری کا دعویٰ کرے، کیونکہ یہ حضرت جیؒ کی سنت اور شرعی طریقہ کے خلاف ہے۔ کامل شخص  کبھی اپنی بڑائی کے دعوے نہیں کرتا، بلکہ لوگ اس کی توثیق و تصدیق کرتے ہیں۔ان چوتھے خلیفہ ہونے کے جھوٹے دعوے داروں کی توثیق اس لئیے بھی نہیں کی جاسکتی کہ ان میں سے کسی کا نام حضرت جیؒ کے خلفاء و مجازین کی کسی بھی فہرست میں شامل نہیں رہا، اور آپ نے ان میں سے کسی کو سالکین کی تربیت کرنے کی کبھی بھی اجازت مرحمت نہیں فرمائی۔

 ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ میجر غلام محمد (حضرت جی) نے آج تک چوتھا خلیفہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن مندرجہ ذیل آثار سے یہ بات روز
روشن کی طرح عیاں ہے کہ میجر غلام محمد ہی حضرتؒ کے چوتھے اور آخری خلیفہ ہیں۔

۔۔۔میجر غلام محمد کا نام حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے خلفاء مجازین کی مصدقہ فہرست میں موجود ہے اور آپ 1974 سے حضرت جیؒ کے مجاز ہیں۔ تصدیق کے لئیے خلافت نامہ ملاحظہ فرمائیے۔

 

 ۔۔۔ حضرت میجر غلام محمد مولانا اللہ یار خانؒ کے وہ واحد مجاز ہیں جن کا نام رسول اللہ ﷺ نے بذات خود اپنی انگشت مبارک سے مجازین کی فہرست میں رقم فرمایا۔ حضرت مولانا اللہ یار خان نے جب اپنے تجویز کردہ مجازین کی فہرست دربار نبوی میں پیش فرمائی تو صاحب کشف بزرگوں نے دیکھا کہ اس میں سے کچھ افراد کے نام رسول اللہ ﷺ نے حذف فرما دئیے، اور میجر غلام محمد کا نام اس میں شامل فرما دیا۔ یہ وہ سعادت ہے جو صرف میجر صاحب کو حاصل ہوئی، کہ انکا نام دربار نبویﷺ سے براہ راست مجازین میں شامل فرمایا گیا۔ تمام پرانے ساتھی بشمول اکرم اعوان اور بیگ  صاحب اس کے گواہ ہیں۔ ہماری رائے میں حضرت میجر غلام محمد کے چوتھا خلیفہ ہونے کا اس سے بڑا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

۔۔میجر غلام محمد قدس سرہُ نے روپے پیسے اور دولت کو ٹھکرایا اور اپنے شیخ ، تمام اولیا اللہ اور نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپناتے ہوئے فقر کو گلے لگایا۔ایک جھونپڑا نما مکان میں رہتے ہیں، بان کی چارپائیاں اور ایک کرسی میز ان کی کل متاع حیات ہیں۔ دوسرے مجازین یا روائتی پیروں کی طرح انہوں نے وی آئی پی لائف سٹائل نہیں اپنایا۔ ساتھیوں کے ساتھ رہنا، اٹھنا  بیٹھنا اور ان کی تربیت کرنا ہی حضرت جی کی زندگی کا مقصد ہے۔

۔۔حضرت جی مولانا اللہ یار خان کے واحد مجاز ہیں جو ایک سال میں 40 سے 50 بار اپنے شیخ کے پاس مرشدآباد حاضری دیتے ہیں۔ پچھلے کم و بیش 10  سال سے یہی معمول ہے۔ اس کے علاوہ 2012 سے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مرشد آباد میں ساتھیوں کے ہمراہ اعتکاف بھی فرماتے ہیں۔اسی اعتکاف کے دوران روحانی بیعت اور مقامات بالا بھی کروائے جاتے ہیں۔ میجر صاحب بذات خود روحانی بیعت کروانے کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ اپنے آپ کو ایک مکبر کہتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں تو صرف تربیت کر کے ساتھیوں کو شیخ سلسلہ حضرت اللہ یار خانؒ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ روحانی بیعت تو وہی کرواتے ہیں۔

۔۔حضرت جی کے دو بھائی اور تین بیٹے، بھتیجہ اور داماد فنا فی الرسول ہیں، اور منازل بالا کے حامل ہیں۔ جبکہ خاندان میں اور واں بھچراں شہر میں بہت سے لوگ حلقہء ذکر میں شامل ہیں۔ دوسرے مجازین پر نظر کیجئیے تو ان کی اپنی اولاد تک حلقہء ذکر میں بھی شامل نہیں۔

۔۔پچھلے 45 سے زیادہ سالوں سے تہجد، ذکر اذکار، درود شریف، تلاوت قرآن، مراقبات، اور ساتھیوں کو توجہ دینے کے لئیے سفر کرنا آپ کے معمولات میں شامل ہیں۔ مختلف شہروں میں جماعت کو ذکر کروانے کے لئیے اپنے خرچ پر لاکھوں میل کا سفر طے کر چکے ہیں۔ مختصر یہ کہ آپکی زندگی ذکر اللہ اور جماعت کے لئیے وقف ہے۔

ان تمام آثار سے ظاہر ہے کہ حضرت میجر غلام محمد قدس سرّہُ ہی مولانا اللہ یار خانؒ کے چوتھے اور آخری مجاز ہیں۔ اور آپ ہی وہ شخصیت ہیں جس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی تجدید کریں گے اور اپنے مرشد کے طریقہ کے مطابق سلسلہ کی اصل شکل و صورت  کو قائم و دائم رکھیں گے۔آپ میانوالی کے قریب واں بھچراں میں رہائش پذیر ہیں۔

واللہُ اعلم۔