Wasiyat of Hazrat Maulana Allah Yar Khan (RA) | Audio

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی آخری وصیت

 

حضرت مولانا الله یار خان رحمته الله علیه نے اپنی وفات 18 فروری 1984 سے ایک مهینه قبل 12 جنوری 1984 کی رات کو اکابرین سلسله کے سامنے اپنی وصیت ریکارڈ کروائی. یہ وہ آخری ھدایات ہیں جو حضرتؒ نے اپنے خلفا اور جماعت کے لئیے چھوڑیں۔ آڈیو کوالٹی بہت عمدہ نہیں ہے، لیکن چند بار سننے سے حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی یہ آخری وصیت اور ھدایات واضح ہو جائیں گی۔ 

 

 

آڈیو کے شروع میں آپ نے سختی سے پوری جماعت کو حکم دیا که اکرم اور اس کے کچھ ساتھی میری میت کو اغوا کر کے مناره میں دفنانا چاہتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہ کیا جائے اور مجھے چکڑاله میں هی دفن کرنا، کیونکہ میرے گھر والوں کو میری ضرورت ہے. آپ نے یه بھی فرمایا که مجھے ہزار دفعہ یہ خیال آتا ہے، اور قاضی صاحب اور دوسرے رفقاء کو بھی یہ خیال آتا ہے، کہ اکرم اعوان کی موت کے کچھ عرصه بعد دارلعرفان مناره کا وجود ختم هو جاۓ گا، اور اکرم اعوان کے جانشین اسے تقسیم کر لیں گے اور توڑ دیں گے۔

 

اس کے بعد آپ نے فرمایا که میرے مرنے کے بعد اگر تو نجات نہ ہوئی تو کوئی فائدہ نہیں، لیکن اگر میری نجات ہوگئی اور میں سارے سوالات پاس کر گیا تو یہ یاد رکھنا، کہ جو ساتھی بھی میرا مخالف هوگا, اس کے منازل و مناصب سب سلب کرلئے جائیں گے. جماعت کے ساتھی ایسے شخص کا ساتھ چھوڑ دیں۔

 

پھرآپ فرماتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد ساتھی میرے بیوی بچوں کا هر پریشانی و دکھ میں ساتھ دیں. جس کی جو جو استطاعت هو, مالی امداد کرسکے تو مالی امداد کرے, جانی امداد کرسکے تو جانی امداد کرے. میری بیوی اور بیٹی نے جماعت کی لگ و بھگ چالیس سال خدمت کی هے, ان کا خیال رکھنا. جو شخص ان کی پریشانی و تکلیف کا علم هونے کے باوجود ان کی امداد نهیں کرے گا, اس کا هم سے کوئی تعلق نهیں. یه نمک حلالی نهیں, یه ظلم هے۔ 

 

جس شخص کا مجھ سے تعلق ختم هو جائے اسے میرا تقرب حاصل نهیں, میرا قرب حاصل نهیں, وه چاهے جتنے بلند منازل والا هو, سلوک میں اسے کوئی قرب حاصل نهیں هوگا, کوئی تقرب حاصل نهیں هوگا. وه خالی کا خالی ره جاۓ گا۔

 

 حضرتؒ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو جو حکومت کا جنون پیدا ہو گیا ہے، اسے دل سے نکال دیں۔ اللہ نے ظاہری اور باطنی دونوں حکومتیں خلفاء راشدین اور حضرت عم بن عبدلعزیز تک عطا کی ہیں، اس کے بعد نہیں۔ اگر کسی شخص کے بارے میں میرے دل میں کدورت پیدا هو گئی, وه چاهے جتنے بھی بلند منازل یا مناصب کا حامل هو, وه شخص گر جائے گا, پھر اگر دوباره وه بھی کوشش کرے, میں بھی کوشش کروں, اسے اس کے منازل واپس نہ ہونگے۔ 

 

خلفاء کے حقوق مساوی ہونگے

 

ریکارڈنگ کے تقریباً 8 منٹ پر حضرت جی  اپنے خلفاء کا ذکر فرماتے ہیں۔ تین خلفاء حضرتؒ نے مقرر فرمائے۔ ان کے علاوہ 5 اور علاقائی مجازین متعین فرمائے۔ پھر فرمایا کہ ان 3 کے علاوہ ایک اور خلیفہ بعد میں آئے گا، کیونکہ ابھی اسکی تربیت مکمل نہیں ہوئی۔

 

حضرت جیؒ واضح طور پر فرماتے ہیں کہ میرے چار خلیفه جو هیں ان کے حقوق  بالکل مساوی هوں گے اور میں نے اس لئے یه چار خلفاء مقرر کئے هیں که مجھے خطره پیدا هو چکا هے , میں پهلے سے خوفزده هوں۔ منظور حسین شاه نے ساری جماعت کو خراب کیا هے شیطان کے چکر میں آکر , اس کے بعد مولوی سلیمان نے بھی ایسا کیا هے. یه چار خلیفاء اس لئے مقرر کئے هیں که اگر ایک خراب هوجائے (جس کا آپ کو ڈر تھا) تو دوسرا سلسله کو سنبھال لے گا, دوسرا خراب هوا تو تیسرا سنبھال لے گا, تیسرا خراب هوا تو چوتھا سنبھال لے گا. یه جو هیں بنیاد حسین شاه صاحب, بیگ صاحب, اکرم صاحب, چوتھا آدمی جو آۓ گا, یه مساوی حقوق والے هوں گے, ان میں کوئی فرق نهیں هوگا. اس حکم سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف آپ هی شیخ سلسله هیں, باقی سب آپ کے خلفاء هونے کی حیثیت سے سلسله عالیه کی ترویج و ترقی کے لئے کام کریں گے.

 

جس شخص کا بھی مجھ سے تعلق هے, مجھ سے فیض لے رها هے, ان سب کے لئے بهتر یه هے که سب مل کر اتفاق سے رهیں, اسی میں سب کی بھلائی هے. که یک جان هو کر بھائی بھائی بن کر رهیں۔

 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی اس وصیت سے  ان کے کسی بھی خلیفہ کی جانب سے شیخ سلسلہ ہونے کے دعویٰ کی تردید ہوتی ہے۔ حضرت جیؒ نے اتحاد و اتفاق کی تلقین فرمائی، اور اسے دنیا و آخرت میں بھلائی کا موجب قرار دیا۔ 

 

اس وصیت کی روشنی میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی تمام جماعتوں سے دردمندانہ درخواست کی جاتی ہے کہ اپنی ویبسائیٹس، کتب اور تعلیمات میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے حقیقی اور اصل شجرہ مبارک کو شایع کریں اور اپنے ہاں موجود شجرہ میں تصیح فرمائں۔

 

 محمد اکرم اعوان یا کسی بھی اور شخص کے شیخ سلسلہ ہونے کے دعویٰ کو رد کیا جاتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد و اتفاق اور حضرت مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ پر عمل کرنا نصیب فرمائے۔ آمین۔