Shaykh E Silsila

Rate this item
(1 Vote)

Click here for English>>

 

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ دوسرے سلاسل کی طرح ظاہری طور پر متصل نہیں ہوتا۔ اویسیہ سلسلہ میں شیخ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ شیخ سلسلہ اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو برزخ سے سلسلہ عالیہ کو دوبارہ دنیا میں جاری و ساری کرتا ہے، اور ایسی ہستی اللہ تعالیٰ صدیوں بعد پیدا فرماتے ہیں۔ یہی وجہ  ہے کہ شجرہ مبارک میں حضور انور ﷺ سمیت صرف 10 نام ہیں، وگرنہ سلسلہ تو قریباً 1500 سال پرانا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ دور حاضر میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ کے واحد شیخ حضرت مولانا اللہ یار خان ہی ہیں۔ یہ بات حضرت جیؒ کی وصیت سے بھی واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں خصوصاً اسی مقصد کے لئیے پیدا فرمایا کہ گزشتہ شیخ سلسلہ حضرت سلطان العارفین اللہ دین مدنیؒ سے انکا رابطہ کروایا جائے اور پھر سلسلہ اویسیہ کو حضرت  جیؒ کے توسط سے دنیا میں پھیلایا جائے۔ حضرت اللہ یار خانؒ کے ارشادات کے مطابق آپ کے شیخ حضرت اللہ دین مدنیؒ ہی ہیں۔ حالانکہ حضرت جیؒ کا حضرت اللہ دین مدنیؒ سے رابطہ حضرت عبدالرحیمؒ نے کروایا تھا، پھر بھی حضرت جیؒ نے انھیں اپنا شیخ نہیں کہا، اور نہ ہی مولانا عبد الرحیم کا  نام شیخین کی فہرست یعنی شجرہ مبارک میں لکھا جاتا ہے۔ یہ بات حضرت جیؒ کے دلائل السلوک میں لکھے مندرجہ ذیل ارشاد سے واضح ہے۔

 

ہمارے سلسلے کا نام نقشبندیہ اویسیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے شاگردوں کی تربیت نقشبندیہ طریقہ کے مطابق کرتا ہوں۔ اور میں نے اپنے محبوب شیخ رحمۃ اللہ کی روح سے اخذ فیض اور اجازت لی ہے۔ میرے اور میرے شیخ مکرم کے درمیان کوئی 400 سال کا فاصلہ ہے، میں نے اسی اویسی طریقہ سے اپنے شیخ کی روح سے فیض بھی حاصل کیا، خلافت بھی ملی، اور بحمد اللہ میرے محبوب  شیخ کا فیض تربیت اس وقت دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل رہا ہے۔ (حضرت مولانا اللہ یار خانؒ، دلائل السلوک، سلسلہ اویسیہ) ۔

 

یاد رہے کہ شجرہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں صرف شیخ سلسلہ کا نام آتا ہے، اس کے خلفاء کا نہیں، وگرنہ شجرہ اتہائی طویل ہوتا۔ ظاہر ہے کہ حضرت حسن بصری، حضرت دائود طائی، حضرت جنید بغدادی اور شجرہ مبارک میں موجود دیگربرگزیدہ ہستیوں کے اپنے اپنے دور میں خلفاء ضرور ہونگے، لیکن ان میں سے کسی خلیفہ کا نام شجرہ مبارک میں نہیں آتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حضرتؒ کی وفات کے بعد ایک مختصر عرصے میںبہت سے نام شجرہ مبارک میں لکھ دئیے گئے؟

 

حضرت جیؒ کی وفات کے بعد ان کے ایک خلیفہ مجاز نے سلسلہ عالیہ کے شجرہ مبارک میں اپنا نام لکھ لیا، اور خود کو شیخ سلسلہ کہلانے لگے۔ بلاشبہ یہ ایک غلطی اور حضرت جیؒ کی آخری وصیت کی خلاف ورزی تھی، لیکن ان کی دیکھا دیکھی بعض دوسرےے مجازین نے بھی یہی کیا، اور اس طرح شجرہ مبارک میں ابہام پیدا ہو گیا۔ پھر بعض   ایسے لوگوں نے بھی سلسلہ عالیہ میں اپنا نام لکھنے کی جسارت کر ڈالی جو سرے سے حضرت جیؒ کے مجاز ہی نہیں تھے۔ان لوگوں نے اپنے مریدوں کو بھی یہی باور کروایا کہ اب ان کے پیر ہی شیخ سلسلہ ہیں۔ اس طرح حضرت جی کی وفات کے بعد 30 سال کے اندر اندر بہت سے اور نام شجرہ مبارک میں شامل کر دئیے گئے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا شیخ سلسلہ ہونے کا دعویٰ تسلیم نہیں کرتا۔ یہ اعزاز حضرت میجر غلام محمد کو اور ان کی جماعت کو جاتا ہے، کہ انھوں نے اصل شیخ سلسلہ کا مقام واضح کیا، اور سلسلہ عالیہ کے شجرہ مبارک کو دوبارہ اپنی اصل حالت پر لوٹایا۔ الحمد لللہ۔

 

حضرت اللہ یار خانؒ کے مکتوبات اور آپؒ کے ارشادات سے ثابت ہے کہ حضرت جی تاریخ تصوف میں بلند ترین مناصب و منازل کے حامل ہیں۔ آپ کے بعد اس پائے کے صرف ایک اور ولی اللہ دنیا میں تشریف لائں گے، جو کہ امام مہدی ہونگے۔ حضرت ؒ کا سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اب معدوم نہیں ہوگا، اور حضرت امام مہدی کے ظہور تک جاری رہے گا۔ سلسلہ عالیہ کے لوگ حضرت امام مہدی کو پہچانیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، انشااللہ۔

 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے ہمیں بتایا کہ وہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے آخری شیخ ہیں۔  دربار نبویﷺ میں صرف ایک کرسی خالی رکھی ہے جو حضرت امام مہدی کے لئیے مختص ہے۔ فرمایا کہ میرے اور امام مہدی کے درمیان پانچ چھ سو سال سے زیادہ کا فاصلہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ میرے سلسلہ کے تربیت یافتہ لوگ انشا اللہ امام مہدی کو ملیں گے۔ (حضرت میجر ریٹائرڈ غلام محمد، مرشد جیسا نہ دیکھا کوئی)۔

 

امید ہے کہ اس مضمون سے سلسلہ اویسیہ کے شیخ کے بارے میں ابہام ختم ہو جائے گا۔ حضرت مولانا اللہ یار خان ہی صاحب سلسلہ اور شیخ سلسلہ ہیں، اور یہ سلسلہ انہی کا ہے۔  سلسلہ منتقل نہیں ہوا کرتا بلکہ شیخ سلسلہ کے تصرف میں رہتا ہے۔ یہ روحانی سلسلہ ہے اور برزخ سے چلتا ہے۔ سلسلہ کی باگ ڈور آج بھی حضرت جیؒ کے پاس ہے اور آپ کا فیض آپ کی قبر مبارک سے آپ کے خلفا مجازین کے توسط سے سالکین تک پہنچ رہا ہے، اور دنیا کے گوشے گوشے کو منور کر رہا ہے۔

واللہ اعلم۔

 

مزید معلومات کے لئیے مندرجہ ذیل سیکشن وزٹ کیجئیے۔

شجرہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے خلفا مجازین

حضرت مولانا اللہ یار خان کی وصیت 


 

 

 

 

 

Shaykh-e-Silsila Naqshbandia Awaisia

 

Unlike other Silsilas, Silsila Awaisia is not connected in the apparent or worldly sense. The Shaykhs of Awaisia Silsila are born after centuries. Shaykh-e-Silsila is the noble person who extracts the esteemed Silsila from Barzakh and reintroduces it to the world. Allah SWT sends such a person after several hundred years. This is the reason the Chain of Succession contains only 10 names including that of the Holy Prophet ﷺ, whereas the Silsila is nearly 1500 years old.

 

There is no doubt that Hazrat Maulana Allah Yar Khan(RA) is the last and only Shaykh of Silsila Naqshbandia Awaisia in this day and age. This is also proven by his Last Will. Allah SWT created him for the purpose and connected him with Hazrat Sultan-ul-Arifeen Allah Deen Madni(RA) , because it was planned to spread Silsila Awaisia into this world through the medium of Hazrat Jee's(RA) noble figure. According to Hazrat Jee's sayings, his Shaykh is Hazrat Allah Deen Madni(RA), although it was Hazrat Abdul Raheem(RA) who served as a medium between him and his Shaykh. Yet Hazrat Maulana Allah Yar Khan(RA) did not call Hazrat Abdul Raheem as his Shaykh, and his name is therefore not included in the list of Shaykhs, i.e. the revered Chain of Succession. This reality is reflected by the following saying of Hazrat Allah Yar Khan(RA).

 

"The name of our Silsila is Naqshbandia Awaisia, which means that I train my students according to the Naqshbandia Tareeqa. And I have drawn Faiz and obtained permission from my beloved Shaykh's (RA) spirit. There is a gap of about 400 years between me and my beloved Shaykh (RA). Through the same Awaisi Tareeqa, I acquired Faiz from my Shaykh's (RA) spirit and was blessed with Khilafat. By the grace os Allah, the Faiz of my beloved Shaykh (RA) is spreading in all corners of the world." (Hazrat Maulana Allah Yar Khan RA, Dalail-as-Salook, chapter on Silsila Awaisia)

 

It must be remembered that only the names of Shaykh-e-Silsila are included in the Succession List of Silsila Naqshbandia Awaisia. Their Khulfa (or immediate successors) are not included in the Shajra, otherwise the list would have been very long. Obviously, Hazrat Hassan Basri (RA), Hazrat Daood Tai (RA), Hazrat Junaid Baghdadi (RA), and other noble personages in the Succession List must have had their Khulfa in their times. But none of the Khulfa's names appear in the Shajra. One wonders why so many names were added to the Chain within a short period after Hazrat Jee's (RA) death.

 

After Hazrat Allah Yar Khan's (RA) death, one of his Khulfa added his name to the esteemed Shajra (Chain of Succession) as Shaykh-e-Silsila, violating Hazrat Allah Yar Khan's (RA) last will (Wasiyat). Some other Khulfa also followed suit and repeated the same mistake by adding their names to the Chain of Succession. Then , many other people who were not even authorized by Hazrat Jee (RA) dared to write their names in the esteemed Shajra as Shaykh-e-Silsila. These people made their followers believe that their Peer is Shaykh-e-Silsila. Hence, every Jamaat added the name of its Ameer or Peer to the Shajra, and more names were added to the Shajra in 30 years after Hazrat Jee's death. The funny thing is that none of these self-proclaimed Shaykhs accepts others claims and is adamant on being the next one in the sequence. The credit goes to Hazrat Major (R) Ghulam Muhammad and his Jamaat, that they clarified the status of the real Shaykh-e-Silsila, and restored the Esteemed Shajra to its real form. Alhmdulillah!

 

The sayings and writings of Hazrat Maulana Allah Yar Khan (RA) depict that he holds the highest Stations and Appointments in the history of Tasawwuf. Only one more person of this stature will come to the world after Hazrat Jee (RA), and that person is going to be Imam Mehdi. Hazrat Maulana Allah Yar Khan's (RA) Silsila Naqshbadia Awaisia will not become dormant again until the arrival of Imam Mehdi. The people from this Silsila will recognize Hazrat Imam Mehdi and pledge allegiance to him Insha-Allah.

 

"Hazrat Maulana Allah Yar Khan (RA) told us that he is the last Shaykh of Silsila Naqshbandia Awaisia. Only one more chair is vacant in the Holy Prophet's ﷺ Court, and it is reserved for Hazrat Imam Mehdi. He said that there's a time period of less than 500-600 years between him and Imam Mehdi, and that the people trained by his Silsila would Insha-Allah meet Imam Mehdi." (Hazrat Major Ghulam Muhammad, excerpt from Murshed Jaisa Na Dekha Koi)

 

It is hoped that this article will end the confusion about the Sheikh of Silsila Naqshbandia Awaisia. Doubtlessly, Hazrat Maulana Allah Yar Khan (RA) is the holder and the Shaikh of the Silsila, and this Silsila is a sacred trust that belongs to Hazrat Jee (RA). The Silsila is not handed over to anyone and stays under the control of Sheikh-e-Silsila, because it is a spiritual Silsila that is managed from Barzakh. Hazrat Jee (RA) is still controlling Silsila Naqshbandia Awaisia and the Faiz from his grave is reaching the seekers through the medium of Hazrat Jee's Khulfa and Majazeen, illuminating all corners of the world.

And Allah SWT knows the best.

 

For more info visit the following pages:

Chain of Succession (Shajra)

Khulfa Majazeen of Maulana Allah Yar Khan (RA)

The Last Will of Maulana Allah Yar Khan (RA)

 

Back to Top