Recent History

Rate this item
(2 votes)

پاکستان میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی تاریخ

حضرت اللہ دین مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے پردادا مرشد اور حضرت مولانا اللہ یار خان کے شیخ ہیں، تقریباً دس صدی ہجری کے اوائل میں مدینہ منورہ میں مقیم تھے۔ ان کے مرشد کی جانب سے انہیں ہند کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا۔ جب وہ کئی سالوں یا مہینوں کا سفر طے کرکے سرگودھا کے نواحی قصبہ لنگر مخدوم پہنچے، تو وہیں پڑاؤ کا حکم ملا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت اللہ دین مدنیؒ کا انتقال ہو گیا اور وہ لنگر مخدوم میں ہی مدفون ہوئے۔ صدیاں بیت گئیں اور حضرتؒ یہ سوچتے تھے کہ نہ جانے اس جنگل بیابان میں آنے کے پیچھے کون سی حکمت کار فرما ہے، چونکہ ظاہری طور پر تو اس ہجرت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تھا۔

 

پھر یوں ہوا کہ بیسویں صدی کے وسط میں حضرت عبد الرحیمؒ نامی ایک بزرگ کا گزر حضرت اللہ دین مدنیؒ کی قبرسے ہوا۔ یہ تصوف کا کمزور دور تھا اور منازل والے لوگ خال خال ہی تھے۔ حضرت عبدالرحیمؒ کو ان کے مرشد نے بمشکل تمام احدیت تک منازل کروائے تھے اور انہیں کچھ مشاہدات بھی ہوتے تھے۔ حضرت اللہ دین مدنیؒ نے دیکھا کہ اس شخص کو احدیت ہوتی ہے اور  برزخ میں رابطہ بھی ہے، تو  آپؒ نے حضرت عبد الرحیم سے روحانی کلام شروع کی۔ انھیں اپنی قبر کے گرد چار دیواری کرنے کا کہا کیونکہ جانور وغیرہ ان کی قبر پر چڑھ آتے تھے۔ حضرت عبد الرحیمؒ کا رابطہ ہونے کے بعد قبر پر آنا جانا ایک معمول بن گیا، اور حضرت اللہ دین مدنیؒ نے انھیں لطائف اور مراقبات بھی شروع کروا دئیے۔

 

انھی دنوں حضرت اللہ یار خان دینی تعلیم سے فارغ التحصیل ہو چکے تھے اور مختلف مساجد میں دین کے مسائل بیان فرمایا کرتے تھے۔ لنگر مخدوم کے قریب کسی مسجد میں کلام بالارواح پر وعظ فرما رہے تھے اور حضرت عبد الرحیمؒ بھی وہیں موجود تھے۔ حضرت عبد الرحیم نے فرمایا کہ مولوی صاحب، مجھے بھی ایک صاحب قبر سے کلام ہوتی ہے۔ حضرت اللہ یار خانؒ متجسس ہوئے اور ان سے کہا کہ انھیں بھی ان صاحب قبر کے پاس لے چلیں۔ اس طرح حضرت اللہ یار خانؒ اپنے مرشد کی قبر تک پہنچے۔ جب حضرت عبد الرحیمؒ انھیں لے کر حضرت اللہ دین مدنیؒ کی قبر پر آئے تو مرشد نے فرمایا کہ ہاں، یہی وہ شخص ہے جس کے لئے میں چار سو سال پہلے ہجرت کرکے یہاں آیا تھا۔ آج وہ شخص آ گیا ہے۔

 

اس کے بعد حضرت عبد الرحیم کے وسیلہ سے حضرت اللہ یار خانؒ کی تربیت کا آغاز ہوا۔ توجہ حضرت اللہ دین مدنی کی تھی، جو حضرت اللہ یار خانؒ اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ ہیں۔ حضرت عبد الرحیمؒ کا کام ایک وسیلہ یا رابطہ تک محدود تھا۔ 

 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی تربیت لگ بھگ پچیس سال جاری رہی، جس کے دوران حضرت اللہ دین مدنیؒ نے انھیں منازل سلوک طے کروائیں اور آپ کشف و الہام کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ ایک وقت ایسا آیا جب حضرتؒ کے منازل حضرت عبد الرحیمؒ سے اوپر نکل گئے، تو حضرت عبد الرحیمؒ شکوہ لے کر حضرت اللہ دین مدنیؒ کے پاس گئے، کہ آپ نے میرے شاگرد کو مجھ سے اوپر چلا دیا ہے۔ اس پر حضرت اللہ دین مدنیؒ نے فرمایا کہ خبردار، اس کی برابری کا کبھی نہ سوچنا، کیونکہ وہ سلسلہ اویسیہ کا شیخ ہے۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحیم ؒ خاموش ہو گئے۔ جلد ہی ان کا انتقال بھی ہو گیا۔

 

حضرت اللہ یار خانؒ نے تصوف و سلوک کی تعلیم دینا شروع کی اور آپؒ کے پہلے شاگرد قاضی ثناء اللہ ؒ تھے، جو کہ چکرالہ کے قریب گاؤں لیٹی کے رہائشی تھے۔ چراغ سے چراغ جلتے گئے اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک بار پھر دنیا میں رائج ہو گیا۔ آج اس سلسلہ کے پیرو کار دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں، اور حقیقی اسلامی تصوف پر عمل پیرا ہیں۔