Introduction to Silsila Naqshbandia Awaisia

اردو کے لئیے یہاں کلک کریں

The name of our Silsila is Naqshbandia-Awaisiah, which means that I train my disciples according to the Naqshbandi Tareeqa. And I have drawn Faiz and taken permission from my beloved Shaykh's Rooh (spirit). There is a gap of about 400 years between me and my esteemed Shaykh. I followed this same Awaisi Tareeqa to acquire Faiz from my Shaykh's spirit, and was also blessed with the Khilafat. Thanks to Allah, my beloved Shaykh's Faiz is now spreading to all corners of the world.

Hazrat Maulana Allah Yar Khan Rehmatullah Alaih - The Last Shaykh of Silsila Naqshbandia Awaisiah

The Awaisi (Owaisi )Tareeqa

In the Sufi terminology, the acquisition of Faiz from the spirit is known as Awasi Tareeqa (also spelled as Owaisia). This Silsla is not connected to Hazrat Awais Qarni (RA). Rather, Awaisia actually means to acquire Faiz from Rooh. This Silsila may, however, be related to Hazrat Awais Qarni in the sense that he did not stay in the company of the Holy Prophet (SallAllahu Alaih Wasallam) for his spiritual training. Rather, he acquired Faiz from the magnificent spirit of the Holy Prophet (SallAllahu Alaih Wasallam). So, it may be said that he was the first Awais.

Hazrat Shah Waliullah (RA) has mentioned the qualities of Silsila Awaisia (Owaisia) on page No 86 of his book Him'aat.

In a nutshell, just like water remains present underground, and springs forth sometimes to irrigate the land, in the same way true Tasawwuf and Sulook (the Islamic Sufi path) also disappears (underground) sometimes. Then, Allah SWT creates a special person, and the spring of Tasawwuf and Sulook gushes forth through that person, cultivating the hearts of masses. This is the reason Silsila Awaisia is not connected on the surface. But it is connected in the spiritual world. The people who are unaware of the acquisition and transmission of Faiz from/to the Spirit (Ruh) can hardly understand the nature of this connection and can do little but object ignorantly.

The writing by the Imam of Hind (Hazrat Shah Waliullah) shows that Awaisiah is the most effective Silsila, because it is connected spiritually. The next most powerful Silsila is Qadria. The receivers of Faiz through Awaisia Silsila hold a special stature.

Hazrat Shah Wali Ullah in his Lam'aat (p 86) eulogizing the Owaisiah Order writes that it is the fastest spiritual Order in producing the desired effects and that its devotees are men of great munificence and awe. On page 63 he states that Owaisiah Order is indeed a world of spirits. And on page 21 he writes:-

"In the chain of saints there is an Order called Owaisiah, handed down by Khwaja Owais Qarni. He received beneficence directly from the Holy Prophet's ﷺ spirit. So did one of the greatest saints of Indian subcontinent, namely Shaikh Badr-ud-Din".

The above explanation shows that:-

(1) An Awaisi is the one who derives spiritual beneficence (Faiz) from the spirit (Rooh) of a Wali-ullah.

(2) Many famous Aulia Allah have drawn Faiz from the spirits of their predecessors.

(3) The adherents of this Silsila also draw spiritual beneficence directly from the Holy Prophet ﷺ

By Allah's Grace, I am acquiring Faiz from the exalted spirit of the Holy Prophet ﷺ right now.

Hazrat Maulana Allah Yar Khan Rehmatullah Alaih - The Last Shaykh of Silsila Naqshbandia Awaisiah

 

 ہمارے سلسلے کا نام نقشبندیہ اویسیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے شاگردوں کی تربیت نقشبندیہ طریقہ کے مطابق کرتا ہوں۔ اور میں نے اپنے محبوب شیخ رحمۃ اللہ کی روح سے اخذ فیض اور اجازت لی ہے۔ میرے اور میرے شیخ مکرم کے درمیان کوئی ۴۰۰ سال کا فاصلہ ہے، میں نے اسی اویسی طریقہ سے اپنے شیخ کی روح سے فیض بھی حاصل کیا، خلافت بھی ملی، اور بحمد اللہ میرے محبوب شیخ کا فیض تربیت اس وقت دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل رہا ہے۔ 

حضرت مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آخری شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

اویسی طریقہ

 

روح سے فیض حاصل کرنے کو اصطلاح صوفیہ میں اویسی طریقہ کہتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ یہ سلسلہ حضرت اویس قرنیؒ سے ملتا ہے بلکہ اویسیہ سے مراد مطلق روح سے فیض حاصل کرنا ہے۔ چونکہ روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض دونوں صورتیں ہوتی ہیں، اس لئے سلسلہ اویسیہ کی یہی دونوں خصوصیات ہیں۔ اس اصطلاح کو حضرت اویس قرنی سے اگر کوئی نسبت ہو سکتی ہے تو شاید اس بناء پر کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ بلکہ حضور ﷺ کی روح پر فتوح سے اخذ فیض کیا تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ پہلے اویس تھے۔ 

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ھمعات ص۸۶ پر سلسلہ اویسیہ کی خصوصیات کا ذکر فرمایاہے

 خلاصہ یہ ہے کہ جیسے پانی زیر زمین موجود رہتا ہے کسی وقت چشمہ کی صورت میں باہر ابل پڑتا ہے اور زمین کو سیراب کرتا ہے اسی طرح حقیقی تصوف و سلوک بھی کبھی کبھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کی ذات کے واسطہ سے تصوف و سلوک کا چشمہ ابل پڑتا ہے اور ایک مخلوق کے قلوب کو سیراب کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سلسلہ اویسیہ ظاہر میں متصل نہیں ہوتا۔ مگر حقیقت میں وہ متصل ہوتا ہے۔ جو لوگ روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض سے واقف نہیں ہوتے وہ بے چارے اس اتصال کی حقیقت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اور اخذتہ العزۃ بالاثم کے تحت جاہلانہ اعتراض کے بغیر کچھ کر نہیں پاتے۔ 
امام الہند کی عبارت کے مطابق سب سے زیادہ زود اثر سلسلہ اویسیہ ہے کیونکہ روحانی سلسلہ ہے پھر قادریہ ہے۔  سلسلہ اویسیہ کے متوسلین بڑی عظمت اور ہیبت کے مالک ہوتے ہیں۔ 

ھمعات میں ص۶۳ پر اسی وجہ سے فرمایا کہ ’بسااست کہ اویسی عالم ارواح است اجمالا‘ یعنی سلسلہ اویسیہ عالم ارواح ہے۔ پھرحضرت شاہ ولی اللہؒ ہمعات ص۲۱ پر فرماتے ہیں۔

مشائخ عظام میں ایک سلسلہ اویسیہ بھی ہے جس کے سردار خواجہ اویس قرنی ہیں ان کو حضور اکرم ﷺ سے روحانی طور پر فیض حاصل ہوا۔ اور شیخ بدیع الدین کو بھی حضور اکرم ﷺ سے روحانی طور پر فیض ملا اور وہ ہندوستان کے کبار مشائخ سے ہوئے ہیں۔ 

معلوم ہوا کہ
 اویسی وہ ہوتا ہے جسے کسی ولی اللہ کی روح سے فیض حاصل ہوا ہو۔ 
 بڑے بڑے اولیاء اللہ اس سلسلہ اویسیہ کے طریقہ سے فیض لیتے رہے ہیں۔ 
 اس سلسلہ والے حضور اکرم ﷺ کی روح پر فتوح سے بھی فیض لیتے ہیں۔ 

بحمد اللہ کہ اس فقیر کو اب بھی حضور اکرم ﷺ کی روح پر فتوح سے فیض حاصل ہو رہا ہے۔ 

حضرت مولانا اللہ یار خانؒ۔ آخری شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ