I Keep Waiting for You | مجھے تمہارا انتظار رہتا ہے

Rate this item
(0 votes)

Mujhe Tumhara Intizar Rehta Hai

by Major (Retd) Ghulam Muhammad

Click here for English

مجھے تمہارا انتظار رہتا ہے
میجر ریٹائرڈ غلام محمد

ایک وقت تھا کہ لوگ موسیٰ خیل سے پانی بھرنے واں بھچراں آتے تھے۔ واں بھچراں میں شیر شاہ سوری کے عہد حکومت کا کنواں اور مسجد موجود ہے۔ اس طرح کے کنویں چوبیس کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈپر آپ کو اور بھی ملیں گے۔ایک آدھ بار تو میں ساتھیوں کو اس تاریخی کنویں پر لے بھی آیا مگر اب اس شہر والوں نے اس کنویں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیا ہے۔
میرے مرشد حضرت اللہ یار خان چکڑالہ سے پیدل واں بھچراں آتے تھے اور یہاں سے ٹرین یا بس پکڑ کر سرگودھا جاتے اور وہاں سے لنگر مخدوم اپنے شیخ حضرت اللہ دین مدنیؒ کے پاس پہنچتے تھے۔ اس زمانے میں بیس پچیس کلو میٹر پیدل چلنا معمول کی بات سمجھی جاتی تھی۔ جب مجھے حضرت شیخ المکرم نے یہ بات بتائی تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ میں بھی بچپن میں اٹھارہ بیس کلو میٹر چل لیتا تھا۔
حضرت شیخ المکرم کی زندگی میں جماعت کے ساتھی ہر ماہ چکڑالہ آتے ہوتے تھے کیونکہ بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے اب پہلے کی طرح سفر کرنا آپ کے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ ملاقات کا شوق اور شیخ کی عقیدت ہمیں دوڑائے رکھتی تھی۔ کرنل مطلوب حسین صاحب کی دی ہوئی تاریخیں ہمیں ازبر یاد رہتی تھیں جن پر حاضری کے لئے ہم اپنی باقی مصروفیات کو آگے پیچھے کر کے چکڑالہ ضرور پہنچتے تھے۔ حضرت شیخ المکرم ساتھیوں سے پیسے قبول نہیں فرماتے تھے۔ کہتے تھے کہ کسی کا حرام کا ایک روپیہ بھی آ گیا تو حلال کو بھی حرام کر دے گا۔ فرماتے تھے کہ یہ چندے والی جماعت نہیں۔ میں آپ کا روحانی والد ہوں اور تمہاری کفالت بھی میرے ذمہ ہے۔ اس لئے جب یہاں آؤ تو میرا حلال کھانا کھاؤ۔ راستے میں ہوٹل کا کھانا کھانے سے منع فرماتے تھے۔
فوجی آفیسر اور نیوی کے ملازمین جماعت پر چھائے ہوئے تھے۔ نیوی میں اکثریت بنگالیوں کی تھی۔ سعید بنگالی تو حضرت کا محبوب شاگرد تھا۔ کیپٹن زین العابدین کے کشف کا بھی بہت چرچا تھا۔ ایک دفعہ ہم نے اسے حضرت شیخ المکرم کو لینے کے لئے رسالپور سے چکڑالہ بھیجا تو راستے میں ایکسیڈنٹ مار دیا۔ جب پوچھا کہ یہ کیسے ہو گیا حالانکہ آپ تو اچھے ڈرائیور تھے، کہنے لگا کہ میں نے دیکھا گاڑی میں سوار تمام لوگ اوپر چل رہے ہیں۔ میں بھی بے اختیار آنکھیں بند کر کے ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ اس دوران گاڑی درخت سے جا ٹکرائی اور ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں حضرت شیخ المکرم بھی زخمی ہو گئے اور قاضی ثناء اللہ کو بھی معمولی زخم آئے۔
حضرت شیخ المکرم کے ساتھ ہماری رفاقت چودہ پندرہ سالوں پر محیط رہی۔ یہ ماہ و سال کتنی تیزی سے گزر گئے اس کا پتہ بھی نہیں چلا۔ آپ کے ساتھ لگے تو ایسا جذبہ، ایسی لگن، ایسا شوق، ایسی محبت ہم میں پیدا ہو ئی جس نے ہمیں یکسر بدل ڈالا۔ ہمارے شب و روز عبادت ریاضت اور ذکر اذکار میں بسر ہونے لگے۔ ہم سب پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ ہم سے شیخ المکرم کے اتباع میں کمی نہ آنے پائے۔ شاید اسی کو فنا فی الشیخ کہتے ہیں سلوک کی اصطلاح میں۔ شروع شروع میں ایسے جان نثار سالکین کی تعداد پچاس ساٹھ سے زیادہ نہ تھی مگر گزرتے دنوں کے ساتھ اس تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب تو سلسلہ اویسیہ دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔
حضرت شیخ المکرم کا پورے ملک میں رعب و دبدبہ تھا۔ ہر مخالف نظریہ رکھنے والا آپ کا سامنا کرنے سے کتراتا تھا۔ کتابوں کا اکثر مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے ایران، عراق اور سعودی عرب سے علماء و صوفیا کی اصل کتب وہاں کے ساتھیوں کو کہہ کر منگوایا کرتے تھے۔ ترجمہ کی ہوئی کتب نہیں پڑھتے تھے کیونکہ ترجمہ کرنے والے مصنف کتب میں تحریف کر دیا کرتے ہیں۔ ملتے رہنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ملاقات سے لطائف پر بہت اثر پڑتا ہے۔ تین مہینے سے زیادہ شیخ سے دور نہیں رہنا چاہئیے ورنہ لطائف کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ذکر اذکار چھوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نمازوں میں سستی آ جاتی ہے۔ نفس دنیا کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ فرماتے تھے کہ مجھے تمہارے آنے کا انتظار رہتا ہے۔
ان دنوں موبائل سروس نہیں تھی۔ خط و کتابت سے سارا کام چلتا تھا۔ ساتھی اپنی پریشانیاں لکھ لکھ کر حضرت قبلہ عالم کو پریشان کئے رکھتے تھے۔ ان کی اپنی اولاد نے بھی انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آپ کا بیٹا عبد الرؤف تصوف سے زیادہ عملیات کی طرف راغب تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کو سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی باگ ڈور دوسروں کے حوالے کرنا پڑی جو سلسلے کو متحد رکھنے کی بجائے ’’اُدھر تم ادھر ہم‘‘ کے فلسفہ کو اپنا کر اپنا اپنا کام نکال رہے ہیں۔
حضرت شیخ المکرم ۱۸ فروری ۱۹۸۴ء کو ہم سے جدا ہوئے۔ جس جگہ دفن ہوئے اس جگہ کی نشاندہی ۶ ماہ پہلے کر دی تھی۔ اکتوبر ۱۹۸۳ء میں لنگر مخدوم کے اجتماع میں ساتھیوں کو بتا دیا تھا کہ میرے بعد جماعت کو کون چلائے گا مگر افسوس کہ آپ کی وفات کے بعد وہ حالات نہ رہے جیسا آپ چاہتے تھے۔ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن والی صورت سامنے آ گئی۔ جلسے جلوس ریلیاں مقدمے اقرباء پروری زور پکڑ گئی۔ میڈیا کے ذریعے خود نمائی کے چرچے ہوئے۔ سکینڈل بنے۔ نفرتوں نے جنم لیا اور یوں حضرت شیخ المکرم کی پچاس سالہ محنت پر پانی پھر گیا۔ تا حیات ناظم اعلیٰ کرنل مطلوب حسین سیلاب زدہ صورتِ حال کو سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں مگر لگتا ہے نقصان کی تلافی میں کچھ وقت لگے گا۔ اللہ سے امید ہے کہ وہ اس جماعت کو بکھرنے نہیں دے گا۔
۱۹۹۲ء میں ڈاکٹر سلمان اور ڈاکٹر عظمت نے میرے پاس آنا شروع کیا۔ پھر اللہ کے فضل و کرم سے پی اے ایف کے درجنوں فائٹر پائلٹ ہمارے ساتھ ذکر میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے اللہ کی یاد کو اوڑھنا بچھونا بنایا اور اس پختگی کے ساتھ ذکر میں لگے کہ انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔ ان دنوں ’’شاہپر‘‘ ڈرامہ ٹی وی پر دکھایا جا رہا تھا۔ اس ڈرامے کے تمام ایکٹر پائلٹ ذکر میں لگ گئے۔ گروپ کیپٹن سرفراز، گروپ کیپٹن عارف کاظمی، ونگ کمانڈر مزمل جبران، سکواڈرن لیڈر محسن خان قابل ذکر ہیں جو اب دوسروں کے لئے مشعل راہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک دفعہ محسن نے اپنا جہاز ’’رن وے‘‘ پر بغیر پہیے کھولے اتار کر لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ جہاز کے پہیے فنی خرابی کی وجہ سے کھل نہیں پائے تھے۔ یہ اس کی کرامت ہی تھی کہ جہاز زمین کے ساتھ رگڑ کھا کر بھی ایکسپلوڈ نہ ہوا حالانکہ اس میں فیول بھرا ہوا تھا۔
۱۹۹۶ء میں حافظ محمد عثمان سکواڈرن لیڈر محمود فوزی (یہ اب ونگ کمانڈرہیں) کے ساتھ ذکر کرنے میرے پاس آئے تھے۔انہوں نے جنوری ۲۰۰۷ء میں مجھ سے پھر رابطہ کیا اور کہا کہ وہ دینی تعلیم سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور اب میرے پاس آ کر سلوک طے کرنا چاہتے ہیں۔ حافظ عثمان کے ذکر میں آنے کے بعد گجرانوالہ اور لاہور سے بڑی تعداد میں ساتھی ذکر میں لگ چکے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر حافظ عثمان ذکر پر نہ لگتا تو گجرانوالہ اور لاہور کے سینکڑوں لوگ بھی میرے ساتھ نہ ہوتے ۔ حافظ عثمان اور گلشن راوی لاہور کے حسن فاروق حمید کے ساتھ ذکر کے سلسلہ میں میَں ایک لاکھ کلو میٹر سے زیادہ کا سفر طے کر چکا ہوں۔ ہارٹ سرجری کے باوجود اللہ تعالےٰ نے سفر کرنے کی توفیق دی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی لوگوں تک سلسلہ اویسیہ کی ترویج کی غرض سے جاتے رہنے کی ہمت عطا فرمائے۔
واں بھچراں سے میانوالی، میانوالی سے بن حافظ، بن حافظ سے چکڑالہ اور پھر مرشد آباد کا فاصلہ ستر بہتر کلو میٹر بنتا ہے۔ بن حافظ تک پبلک ٹرانسپورٹ عام مل جاتی ہے۔ میں اکثر بن حافظ پر ساتھیوں کا انتظار کرتا ہوں جو مرشد آباد جانے کے لئے مجھے یہاں سے پک اور ڈراپ کرتے ہیں۔ سال کا میرا مرشد آباد حاضریوں کا ٹارگٹ ۳۳ ہے۔ جب ساتھی نہیں آ پاتے تو میں بن حافظ سے لوکل گاڑی میں بیٹھ کر ڈاک بنگلہ اتر جاتا ہوں۔ وہاں سے مرشد آباد ۳ کلو میٹر ہے۔ یہ فاصلہ میں پیدل چل لیتا ہوں۔ میرا مرشد بھی سیال موڑ سے خواجہ اللہ دین مدنیؒ کے مزار تک پیدل جاتا ہوتا تھا جو ۶ کلو میٹر بنتا ہے۔ میرا بھی ڈاک بنگلے سے مرشد آباد تک آنا جانا ۶ کلو میٹر بن جاتا ہے۔ اب صحت نہیں رہی اس لئے یہ سفر مشکل لگتا ہے۔ سن ۲۰۰۳ء سے نومبر ۲۰۱۳ء تک ۱۱ سالوں میں ۳۳۷ دفعہ مرشد آباد جا چکا ہوں۔

 

I Keep Waiting for You

 

Major (Retd) Ghulam Muhammad

 

There was a time when people used to come from Moosa Khail to Wan Bhachran to get drinking water. A well and mosque from Sher Shah Suri's era still exist in Wan Bhachran. You will find similar wells after every 24km along the GT Road. I took my companions to this historical well once or twice, but now the people of the city have started throwing garbage into it.

My Murshed Hazrat Allah Yar Khan used to come from Chikrala to Wan Bhachran on foot. From here, he used to board a train or bus to go to Sargodha, from where he used to go to Langar Makhdoom to reach his Shaykh Hazrat Allah Deen Madni>Rehmatullah Alaih. In those times, walking for 20 or 25 kilometers was not considered to be unusual. I wasn’t surprised when Hazrat, my respected Shaykh, told me this, because I too used to walk 18 to 20 kilometers in my childhood.

The fellows of the Jamaat used to visit Chikrala every month in Hazrat Shaykh-ul-Mukarram's lifetime, because illness and old age had made it impossible for him now to travel like before. It always used to be the instinct, passion of love, and respect for the Shaykh that we were driven by fondness and enthusiasm to see him in order to get our Lata-if charged. We remembered by heart the dates notified by Colonel Matloob Hussain, and we always reached Chikrala on those dates even if we had to adjust the rest of our activities. Hazrat, the honorable Shaykh, never accepted money from the companions. He said that even if a single unlawfully earned (Haraam) rupee came through a donation, it would render the Halal to be Haraam as well. He used to say that his Jamaat is not the Jamaat of donations. "I am your spiritual father, and your sustenance is my responsibility. Therefore, eat of my Halal food when you come here," he used to say. He forbade us from eating from the hotels on the way.

Army officers and Navy employees dominated the Jamaat. The majority of the Navy personnel was Bengali. Saeed Bengali was Hazrat's favorite pupil. Captain Zain-ul-Abideen's Kashaf was also famous. Once we sent him from Risalpur to Chikrala to fetch the respected Shaykh. On the way back, he banged the car into a tree. We asked him how it had happened, as he was a good driver. He replied that he saw that everyone else was travelling high up (on their Stations). "I involuntarily closed my eyes and joined them. Meanwhile the car hit the tree," he said. Hazrat Shaykh-ul-Mukarram was also injured in the accident and Qazi Sanaullah received some minor injuries.

Our companionship with Hazrat, the honorable Shaykh, spanned over 14 to 15 years. We never realized how quickly those months and years had gone by. We were completely transformed by the passion, the desire, the determination, and the love that was born inside us as a result of his company. We started spending our days and nights in worshipping, making efforts (to please Allah), and performing the Zikr. We were possessed by the passion to follow our respected Shaykh in every respect. Perhaps, this is what is called Fana-fi-Shaykh in the terminology of Salook. In the beginning, there were no more than 50 or 60 of such fully committed seekers, but their numbers kept increasing as days kept passing. Today, Silsila Awaisia has spread to all corners of the world.

Hazrat Shaykh-al-Mukarram held sway and stature over the whole country. His every ideological opponent was hesitant to face him. He read books very often, and used to ask the companions residing in Iran, Iraq, and Saudi Arabia to send the original books of Ulema and Sufis from those countries. He did not read translated books because translators make alterations in the books. He used to stress upon us to keep seeing him, and said that a meeting (with the Shaykh) has a very positive impact upon the Lata-if. One should not stay away from the Shaykh for more than three month, otherwise the Lata-if become weak. In that case one starts missing the sessions of Zikr. Slackness seeps into the prayers. The Nafs gets attracted towards the world. He used to say: "I keep waiting for you to come."

No mobile phones existed at that time. Letters were the only mode of communication. The companions kept writing about their troubles to Hazrat Qibla Alam, making him worried. Even his own child didn’t let him sit peacefully. His only son Abdul Rauf was more inclined towards magic than Tasawwuf. That was the reason why he had to hand over Silsila Naqshbandia Awaisia to people outside his family. Instead of keeping the Silsila united, those people have divided it into their own domains for their own purposes.

Hazrat JeeRehmatullah Alaih departed from us on 18th February, 1984. He had demarcated his burial place six months prior to his death. He had told his followers who would head the Jamaat after him, but unfortunately, things did not stay as he would have liked them to be after his death. The analogy of "the eagles' nests are under the sway of vultures" was realized. Political gatherings, processions, rallies, litigation, and nepotism became rampant. The media was used for self-projection. Scandals were made. Hatred was born. And hence, Hazrat Shaykh-ul-MukarramRehmatullah Alaih's 50-year struggle was undone. The lifetime Chief Manager Colonel Matloob Hussain is at work to control the damage, but it seems it will take some time before the loss is compensated. We hope from Allah that He will not let this Jamaat fall apart.

Doctor Salman and Doctor Azmat started coming to me in 1992. Then, by the Grace of Allah, dozens of PAF fighter pilots joined us in Zikr. They made Allah's remembrance the purpose of their lives, and got into the Zikr with such conviction that when you see them they remind you of Allah. The TV serial "Shahpar" was being aired back in those days. All the actor-pilots of the cast joined the Zikr. Group Captain (Air Cdre) Sarfaraz , Group Captain (Air Cdre) Arif Kazmi, Wing Commander Muzammil Jibran, and Squadron Leader Mohsin Khan are worth a mention. They have become guiding lights for others. Once, Mohsin landed his aircraft on the runway without the landing gear extended. The wheels had failed to come out because of some technical fault. It was indeed his Karamat that the aircraft did not explode despite grinding against the length of the runway, and despite being filled with fuel.

Hafiz Muhammad Usman had come to me for Zikr along with Squadron Leader Fauzi (now Wing Commander) in 1996. He again contacted me in 2007 and told me that he had completed his religious education and wanted to come to me for learning Salook. Since Hafiz  Usman joined the Zikr, a large number of his fellows from Gujranwala and Lahore have also joined. I sometimes think that had Hafiz Usman not joined the Zikr, hundreds of people from Gujranwala and Lahore would not have been with me. I have travelled more than 100,000 kilometers with Hafiz Usman, and with Hassan Farooq Hameed from Gulshan Ravi Lahore, just for the sake of Zikr. Allah has blessed me with the ability to travel despite me having undergone a heart surgery. I pray to Allah, the Exalted Lord, that He may bless me with the strength to keep going to people for the purpose of spreading Silsila Awaisiah in the future also.

The cumulative distance from Wan Bhachran to Mianwali, from Mianwali to Ban Hafiz, from Ban Hafiz to Chikrala, and from Chikrala to Murshed Abad is around 70–72 kilometers. Public transport is easily available till Ban Hafiz. I often wait at Ban Hafiz for my fellows, who pick me up from here to go to Murshed Abad, and drop me off here on their way back. I have set a target to present myself at Murshed Abad 33 times in a year. When no one else can come, I board a local transport and get off at Dak Bangla. Murshed Abad is 3km from there. I walk this distance. My Murshed used to walk from Sial Morr to the shrine of Khwaja Allah Deen MadniRehmatullah Alaih, a distance of 6km. I also walk for 6km up and down from Dak Bangla. This distance looks daunting now, since I'm not in good health like before. I have gone to Murshed Abad 337 times in 11 years, from 2003 to 2013.