Kya Tumhain Maloom Hai? (Did You Even Know?)

Rate this item
(0 votes)

Kya Tumhain Maloom Hai

Click here for ENGLISH

 

کیا تمھیں معلوم ہے

 

میجر ریٹائرڈ غلام محمد



حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب کوئی ایسا کھانا کھا لیتے جس میں شبہ ہوتا تھا اور بعد کو انھیں معلوم ہوتا تھا تو وہ قے کر لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ائے خدا جو کچھ رگوں آنتوں میں سرایت کرگیا اس پر مواخذہ نہ فرما۔

کثرت گریہ کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دو کالی دھاریاں پڑ گئی تھیں۔ جب مبتلائے غم ہوتے تھے تو اپنے کپڑے اتار ڈالتے اور مختصر سا کپڑا جو بمشکل زانو سے نیچے پہنچتا تھا پہن لیتے اور دھاڑیں مار مار کر روتے اور استغفار کرتے اور دونوں آنکھیں ڈبڈبائی ہوتی تھیں، یہاں تک کہ ان کو غش آ جاتا تھا۔ جب ایسا واقعہ گزرتا تھا تو گھر سے باہر نہیں آتے تھے اور لوگ بیمار سمجھ کر ان کی عیادت کو جاتے تھے۔

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ کی بیوی ام الدرداء کہا کرتی تھیں کہ میں نے ہر چیز میں عبادت کی جستجو کی مگر میں نے کسی چیز کو ذکر کی مجلسوں سے افضل اور میرے سینے کو سب سے زیادہ شفا بخش نہ پایا۔ چنانچہ لوگ ان کے پاس حاضر ہو کر ذکر کیا کرتے تھے اور یہ بھی ان کے ساتھ ذکر کیا کرتی تھیں۔

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے محل میں جو عقیق میں تھا گوشہ نشینی اختیار کی اور مسجد نبوی آنا ترک کیا تو لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو کہا کہ میں نے دیکھا کہ اب مسجد میں پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ اب یہ کھیل کود کے اکھاڑے، ہزلیات کی منزلیں اور بے حیائی کے اڈے بن گئے ہیں۔ اس لئے مجھے یہیں آفیت معلوم ہوتی ہے۔

حضرت عمر بن عبد العزیز خضر علیہ السلام سے ملتے رہتے تھے اور تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد قاصد کو اور کسی کام کے لئے نہیں بلکہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سلام پہنچانے کو مدینہ طیبہ بھیجا کرتے تھے۔
حضرت ثابت بن اسد بنانیؒ کا قول ہے کہ ذکر کرنے والے جب ذکر کرنے کو بیٹھتے ہیں تو گو ان کے گناہ پہاڑوں جیسے کیوں نہ ہوں جب ذکر کر کے اٹھتے ہیں تو ایک بھی گناہ باقی نہیں رہتا۔ یہ دعا مانگتے تھے کہ ائے اللہ تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو قبر میں نماز پڑھنے کی نعمت سے نوازا ہے تو مجھے بھی عطا فرما۔ چنانچہ جب انہوں نے وفات پائی اور قبر کے اوپر اینٹیں چن دی گئیں تو ایک اینٹ گر پڑی اور لوگوں نے دیکھا کہ قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حضرت مالک بن دینار دو چیہ کا نمک خرید لیا کرتے اور سال بھر اسی سے روٹی کھاتے تھے اور صرف قربانی کے دنوں میں اس سبب سے گوشت کھاتے تھے کہ قربانی میں سے کھانے کی فضیلت حدیثوں میں آئی ہے اور اپنے گھر کے لوگوں سے کہاکرتے تھے کہ جو شخص تھوڑے میں میرا ساتھ دے وہ میرے ساتھ رہے ورنہ الگ ہو جائے۔

امام احمد بن حنبلؒ کہا کرتے تھے کہ علم کے خزانے اللہ تعالیٰ انہی کو تقسیم فرماتا ہے جن کو دوست رکھتا ہے اور اگر علم کے لئے کسی کو مخصوص فرماتا تو یقیناً اہل نصب کو ترجیح ہوتی۔ عطا حبشی غلام تھے۔ حسن بصری بھی آزاد کئے ہوئے غلام تھے اور ابنِ سیریں انصار کے آزاد کئے ہوئے غلام ہی تھے۔

سعید بن جبیر کا جس وقت حجاج نے سر کاٹا انہوں نے دو مرتبہ لا الہٰ الا اللہ کہا اور تیسری مرتبہ کہنا شروع کیا ہی تھا کہ زبح کر دئیے گئے۔ انہوں نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ خدایا میرے بعد حجاج کو کسی پر دسترس نہ دینا اور ہوا بھی یہی کہ ان کے بعد حجاج پندرہ برس زندہ رہا۔ اس کا پیٹ سڑا جاتا تھا اور جب تک زندہ رہا چلا چلا کر یہی کہتا رہا کہ سعید بن جبیر میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

حضرت سفیان ثوریؒ کا نام لوگوں نے حدیث کا امیر المومنین رکھا تھا۔ یہ کہا کرتے تھے کہ دونوں فرشتوں کو نیکی اور بدی کی خوشبو و بدبو معلوم ہوجاتی ہے۔ ان سے ایسے شخص کی نسبت پوچھا گیا جو اپنے بال بچوں کے لئے کسب کرتا ہے۔ اگر وہ جماعت میں نماز پڑھے تو ان کی پرداخت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں اس کو کیا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گزران کے لئے کسب کرے اور اکیلا نماز پڑھے۔ ایک شخص نے ان کے سامنے اپنی مصیبت بیان کی تو اس سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے۔ کیا آپ کی نظر میں مجھ سے زیادہ ذلیل کوئی نہ تھا جس کے سامنے اللہ تعالٰے کا شکوہ کرتے۔
 
امام شافعیؒ کہا کرتے تھے کہ میں نے بیس سال صوفیوں کی صحبت اٹھائی۔ جو چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پر نور قلب کا دروازہ کھول دے اس کو خلوت میں بیٹھنا، کم کھانا، کم عقلوں سے ملنے جلنے کو چھوڑنا اور دنیا دار عالموں کو اپنا دشمن سمجھنا لازم ہے۔
 
امام مالک مدینہ طیبہ کی گلیوں میں ننگے پاؤں اور پیادہ پھرا کرتے اور کہتے تھے کہ مجھے اللہ تعالےٰ سے شرم آتی ہے کہ جس خاک میں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے اس کو میں جانوروں کے سموں سے روندوں۔ یہ پچیس برس تک گھر میں رہے اور نماز کی جماعتوں میں اس ڈر سے شریک نہ ہوئے کہ ان میں بری باتوں کو مٹانے کی سکت نہیں۔

ابراہیم بن ادہم بلخ کے رہنے والے اور شاہوں کی اولادوں میں سے تھے۔ ان کو جب حلال کھانا نہیں ملتا تو مٹی کھاتے اور ایک مہینہ تک اسی کو کھا کر رہتے اور کہتے تھے کہ اگر مجھے نفس کی اعانت کا اندیشہ نہ ہوتا تو جب تک مجھے حلال نہ ملتا مرتے دم تک مٹی کے سوا کوئی اور چیز میری خوراک نہ ہوتی۔ جہاں تک ان سے ہو سکتا تھا کھانے میں کمی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حلال میں فضول خرچی کی گنجائش ہی نہیں ہے یہاں تک کہ ایک وضو سے پندرہ نمازیں ادا کرتے تھے۔

حضرت ذوالنون مصری کا بیان ہے کہ جب مجھے بیڑیاں ڈال کر مصر سے بغداد لے چلے تو راستہ میں ایک اپاہج عورت ملی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ جب آپ خلیفہ متوکل کے سامنے حاضر ہوں تو اس سے خوف نہ کھانا اور نہ یہ سمجھنا کہ وہ تجھ سے بالا ہے اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لئے کوئی حجت پیش نہ کرنااس لئے کہ جس چیز کو اللہ جانتا ہے اس میں تو اس پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ اس لئے تجھے چاہئے کہ خدا سے مددکی دعا کرو اور اپنی مدد آپ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تجھے تیرے ہی حوالے کر دے گا۔ چنانچہ جب میں متوکل کے روبرو گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ تجھ پر کافر اور زندیق ہونے کا جو الزام ہے اس کے بارے میں تو کیا کہتا ہے۔ میں چپ رہا۔ پھر مجھ سے کہا کہ تو کیوں نہیں بولتا۔ میں نے کہا کہ ائے امیر المومنین اگر میں انکار کرتا ہوں تو جن مسلمان لوگوں نے مجھ پر الزام لگایا ہے ان کو جھٹلاتا ہوں اور اگر اقرار کرتا ہوں تو جھوٹ کہتا ہوں۔ میں اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہتا آپ جو مناسب سمجھیں وہ کریں۔ اس پر متوکل نے کہا کہ اس پر جو الزام ہے اس سے یہ شخص بری ہے۔ میں واپس اس عورت کے پاس آیا اور پوچھا کہ بتاؤ تم نے یہ کہاں سے سیکھا۔ اس نے کہا کہ قرآن مجید کے اس مقام سے جہاں ہد ہد نے آکر سلیمان علیہ السلام سے باتیں کی ہیں (پارہ ۱۹ رکوع ۱۷ سورہ نمل کی آیات ۲۱ تا ۲۴)

حضرت بشر حافی کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے گھر آیا تو ایک شخص کو میں نے وہاں بیٹھا پا کر اس سے پوچھا کہ تم میری اجازت کے بغیر میرے گھر کے اندر کیوں چلے آئے۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا بھائی خضر ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے لئے خدا سے دعا کیجئے۔ خضر علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالےٰ اپنی طاعت تم پر آسان کردے۔ میں نے کہا کہ کچھ اور۔ انہوں نے کہا کہ اور اس پر تم کو گھمنڈ نہ ہونے دے۔

حضرت سری سقطی کا قول ہے کہ جو شخص لوگوں کے ولی اللہ لہنے پر مطمئن ہو جائے وہ اپنے نفس کے ہاتھ میں قید ہے اور اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میرا گھر میں بیٹھنا میرے مسجد کی طرف جانے سے افضل ہے تو میں باہر نہ نکلوں اور اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میرا لوگوں سے الگ رہنا افضل ہے تو میں ان کے ساتھ بیٹھنا چھوڑ دوں اور تین باتیں بندے سے اللہ تعالےٰ کے ناراض ہونے کی نشانیاں ہیں کثرت سے کھیلنا ٹھٹھے کرنا اور غیبت کرنا۔

حضرت بایزید بسطامی نے اللہ رب العزت کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ ائے پروردگار میں تجھے کیوں کر پاؤں تو ارشاد ہوا کہ اپنے نفس کو چھوڑ اور میری طرف چلا آ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ عارف کی کیا صفت ہے تو کہا کہ جو دوزخیوں کی صفت ہے کہ اس میں نہ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں۔

حضرت سہیل تستری فرماتے ہیں کہ ولیوں کی کرامتوں کے احوال چار اسموں سے ملا کرتے ہیں الاول الآخر الظاھر اور الباطن۔ جو الظاھر کے اصحاب ہیں وہ قدرت کے عجائبات دیکھا کرتے ہیں اور جو الباطن والے ہیں وہ جو کچھ دلوں کے اندر گذرتا ہے اس کو ملاحظہ کرتے ہیں۔ الاول جن کے حصے میں ہے ان کا شغل گزشتہ واقعات ہیں اور الآخر والے آئندہ واقعات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا مکاشفہ اس کی روحانی طاقت کے انداز سے ہوتا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ اس کے بدن پر ایک جبہ تھا جس میں عجب تازگی پائی جاتی تھی۔ اس نے بتایا کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے میرے جسم پر ہے۔ مجھے اس پر تعجب ہوا تو اس نے کہا کہ ائے سہیل! بدن کپڑوں کو بوسیدہ نہیں کرتے ان کو تو گناہوں کی بو اور حرام کے کھانے بوسیدہ بنا دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا تم ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ملے تھے۔ اس نے کہا کہ ہاں میں ان پرایمان بھی لایا تھا جس وقت’’ جن‘‘ ان پر ایمان لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خضر علیہ السلام کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوتے کیوں کہ نہ وہ گناہ کرتے ہیں اور نہ حرام کھاتے ہیں۔
 
حضرت احمد بن محمد کہتے ہیں کہ جب آدم علیہ السلام نے نا فرمانی کی تو جنت کی ہر چیز نے ان پر گریہ کیا مگر سونے اور چاندی نے نہیں کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ان سے پوچھا کہ تم آدم پر کیوں نہیں روتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر نہیں روتے جو تیری نا فرمانی کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی میں ہر چیز کی قیمت تمہارے ہی ذریعہ سے کروں گا اور میں بنی آدم کو تمہارا خادم بناؤں گا۔

حضرت ابو الخیر کہا کرتے تھے کہ دیکھو خبردار اللہ تعالےٰ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ تم کو صبر عطا فرمائے بلکہ اللہ تعالےٰ سے یہ درخواست کرنا کہ تمہارے ساتھ نرمی کرے کیوں کہ ہمارے جیسے لوگوں پر صبر کی تلخیاں برداشت کرنا بہت دشوار ہے۔ زکریا علیہ الصلوٰۃ و السلام جب یہودیوں سے بھاگ نکلے تو ایک درخت نے ان کو آواز دی کہ میری طرف چلے آؤ اور وہ درخت ان کے لئے پھٹ گیا اور وہ اس کے اندر گھس گئے۔ درخت پھر برابر ہو گیا تو ان کے ایک دشمن نے آکر ان کی عبا پکڑ لی اور دوسروں کو آواز دی کہ زکریا یہ رہے چنانچہ ان لوگوں نے آرہ نکالا اور اس سے درخت کو چیرنا شروع کیا۔ جب آرہ زکریا علیہ السلام پر پہنچا تو ان کی زور کی آہ نکلی۔ اس وقت اللہ تعالےٰ نے زکریا علیہ السلام کو وحی بھیجی کہ ہم کو اپنی عزت و جلال کی قسم ہے اگر تمہارے منہ سے دوسری آہ نکلی تو میں نبوت کے دفتر سے تمہارا نام مٹا دوں گا۔ آخر زکریا علیہ السلام نے صبر کیا اور دو ٹکڑے کر دیے گئے مگر اف نہ کی۔اللہ کو یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ آپ اللہ کے سوا کسی اور سے مدد چاہیں۔

حضرت ابو بکر کتانی فرماتے ہیں کہ تین سو نقیب ہوا کرتے ہیں۔ ستر نجیب، چالیس ابدال، سات اخیار، چار عمد (قطب) اور ایک غوث۔ نقیبوں کا مسکن مغرب، نجیبوں کا مصر، ابدال کا ملک شام ہے۔ اخیار روئے زمین میں سیاحت کیا کرتے ہیں اور عمد زمین کے گوشوں میں رہتے ہیں اور غوث کا مسکن مکہ معظمہ ہے۔ حاجت کی قبولیت کے لئے نقیب گڑگڑاتے ہیں پھر نجیب پھر ابدال پھر عمد پھر غوث کا سوال ختم بھی نہیں ہونے پاتا کہ اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔

ایک مرتبہ مدرسہ نظامیہ میں فقیروں اور فقیہوں کی جماعت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے پاس جمع ہوئی۔ ان کے سامنے انہوں نے قضا و قدر پر تقریر شروع کی۔ اس دوران چھت سے ایک سانپ گرا جس سے سب حاضرین بھاگ نکلے اور صرف یہی رہ گئے۔ وہ سانپ ان کے کپڑوں میں گھس گیا اور ان کے جسم پر سے گذر کر گردن کے نزدیک اس نے سر باہر نکالا اور گلے میں لپٹ گیا۔ انہوں نے باوجود اس کے نہ سلسلہ تقریر کو توڑا اور نہ اپنی نشست بدلی۔ پھر وہ سانپ اتر کر زمین پر آیا اور اپنی دم کے بل ان کے سامنے کھڑا ہو گیااور چلایا۔ اس کے بعد وہ کچھ بولا جس کو حاضرین میں سے کوئی بھی نہ سمجھا پھر وہ چلتا بنا۔ تب سب لوگ واپس آئے اور ان سے پوچھنے لگے کہ وہ سانپ کیا بولا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے بہت سے ولیوں کو آزمایا مگر آپ کا سا استقلال دیکھنے میں نہ آیا۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ توُ تو ایک ذلیل کیڑا ہے تجھے وہی قضا و قدر حرکت دیتا ہے جس کے بارے میں میَں تقریر کر رہا تھا۔ اس کے دوسرے دن جب میں ایک کھنڈر میں گیا تو وہاں ایک شخص مجھے نظر آیا جس کی آنکھوں سے میں سمجھ گیا کہ یہ جن ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں وہی سانپ ہوں۔ میں بہت سے ولیوں کو آزما چکا ہوں۔ بعض باطن میں گھبرائے اور ظاہر میں ثابت قدم رہے اور بعض ظاہر و باطن میں بے چین ہو گئے مگر میں نے دیکھا کہ آپ نہ ظاہر میں گھبرائے اور نہ باطن میں۔ اس جن نے مجھ سے 
درخواست کی کہ وہ میرے ہاتھ پر توبہ کرنا چاہتا ہے چنانچہ میں نے اسے توبہ کرائی۔

شیخ ابو بکر ہوار رہزنیاں کیا کرتے تھے کہ ایک رات غیب سے ان کو آواز آئی کہ کیا تیرے اللہ تعالےٰ سے ڈرنے کا وقت نہیں آیا۔ بس اسی وقت انہوں نے توبہ کی اور یہی وہ پہلے شخص ہیں جن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خواب میں کپڑے کا خرقہ اور ٹوپی پہنائی اور جب یہ بیدار ہوئے تو دونوں چیزیں اپنے جسم پر پائیں۔ ابن ہوار نے یہ خرقے شنبکی کو عطا کئے۔ شنبکی نے تاج العارفین ابو الوفا کو۔ تاج العارفین نے شیخ علی بن ہیتی کو اور ابن الہیتی نے شیخ علی بن ادریس کو۔ اس کے بعد وہ گم ہو گئے۔
تین مولوی شیخ بقا بن بطور سے جاکر ملے اور ان لوگوں نے ان کی پیچھے نماز عشا پڑھی مگر جیسا مولوی چاہتے تھے ویسی درست قرات ان سے نہیں بن پائی اس لئے وہ ان سے بدظن ہوگئے کہ ان کو ٹھیک سے تلاوت کرنی بھی نہیں آتی۔ رات انہوں نے خانقاہ میں ہی قیام کیا۔ تینوں کو نہانے کی حاجت ہوئی اور نکل کر نہر پر آئے جو خانقاہ کے دروازے پر تھی۔ وہ نہر میں نہانے کو اترے ہی تھے کہ شیر آ موجود ہوا اور ان کے کپڑوں پر بیٹھ گیا۔ رات سخت جاڑوں کی تھی اس لئے ان کو یقین ہو گیا کہ اب زندہ نہیں بچتے۔ اتنے میں شیخ بقا بن بطور خانقاہ سے نکل آئے اور وہ شیر ان کے پاس چلا آیا اور ان کے قدموں پر لوٹنے لگا۔ یہ صورت حال دیکھ کر مولوی سخت شرمندہ ہوئے۔

بزرگان عراق کہا کرتے تھے کہ جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے باہر نکل آتا ہے اسی طرح شیخ جاگیر اپنی نفسانیت سے نکل آئے ہیں۔ یہ کہتے تھے کہ میں نے کبھی کسی شخص کی بیعت نہیں لی جب تک اس کا نام اور یہ مضمون کہ وہ میری اولاد میں سے ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا نہ دیکھ لیا۔ ان کا قول ہے کہ مشاہدہ بندہ اور رب کے درمیان کے پردوں کا اٹھ جانا ہے پس بندہ اپنے قلب کی صفائی سے اس غیب پر مطلع ہو تا ہے جس کی خبر دی گئی ہے اور وہ اللہ رب العزت کے جلال و عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔شیخ محی الدین نے فتوحات میں ذکر کیا ہے کہ میں اور بعض ابدال کوہ قاف پر پہنچے تو ہمارا گذر ایک سانپ کے پاس سے ہوا جو اس پہاڑ کو حلقہ کئے ہوئے تھا۔ میرے ساتھی نے مجھ سے کہا کہ اس کو سلام کرو یہ تمہارے سلام کا جواب دے گا چنانچہ میں نے سلام کیا اور اس نے جواب دیا۔ پفر اس نے پوچھا کس ملک سے آئے ہوہم نے کہا بجایہ سے۔ اس نے پوچھا کہ ابو مدین کا کیا حال ہے۔ ہم نے کہا کہ لوگ اس پر زندیق ہونے کا اتہام لگاتے ہیں اس نے کہا کہ واللہ بنی آدم کی آنکھوں پر پردے پڑے ہیں۔ واللہ میرا یہ گمان نہ تھا کہ اللہ عز و جل اپنے جس بندے کو دوست رکھے گا اس کو کوئی برا سمجھے گا۔ پھر ہم نے اس سے سوال پوچھا کہ تجھے اس کا علم کیونکر ہوا۔ اس نے کہا کہ سبحان اللہ روئے زمین پر کوئی جانور ایسا بھی ہے جو اس سے ناواقف ہو واللہ وہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالےٰ نے ولی بنایا اور ان کی محبت بندوں کے دلوں میں اتاری ہے۔ ان کو تو کافر یا منافق ہی برا سمجھے گا۔

اللہ تعالےٰ کا ذکر قلب کا نور زیادہ کرتا ہے اور نفس کی برائیوں کو کمزور کرتا ہے۔ بندہ اور آقا کے بیچ میں نفس ہی حجاب ہے۔ اگر دل پر نفس غالب ہو گیا تو دل کو اس نے اپنا قیدی بنا لیا اور اسی کی حکومت ہو گئی۔ نفس کی وجہ سے حب دنیا بندے کے دل سے نہیں جاتی۔ ایسے میں نہ کوئی خلوص سے ذکر کر سکتا ہے اور نہ ہی منازل سلوک طے کر سکتا ہے کیوں کہ ہوا و حوس نفس کی روح ہے شیطان اس کا خادم ہے شرک کا خمیر اس کی طبیعت میں ہے۔ حق سے جھگڑنا اور اس پر اعتراض کرنا اس کی جبلت میں ہے۔ شہرت اور نام و نمود کی محبت اس کی حیات ہے۔ نفس ہی وہ چیز ہے جو چاہتا ہے کہ جس طرح اس کا آقا پوجا جاتا ہے وہ بھی پوجا جائے اور جیسی اس کے مالک کی تعظیم ہوتی ہے ویسی تعظیم اس کی بھی ہو۔ ایسی صورت میں بندہ اپنے آقاسے کیوں کر قریب ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہم پر واجب ہے کہ نفس جن چیزوں کو برا سمجھے بندہ انہی کو گلے لگائے اور جن چیزوں کی طرف مائل ہو ان سے دور رہے۔ جس نے نفس کی قدر کی پرداخت کی یا یہ سمجھا کہ اس کے نفس سے زیادہ ذلیل بھی کوئی چیز ہے اس نے اپنا نقصان کیا۔ نفس زور آور رہے گا تو شیطان اس سے کنارہ نہ ہوگا اور برے خواطر اس سے موقوف نہ ہونگے اور وساوس اس کی جان نہیں چھوڑیں گے۔ ترکِ دنیا اس کا علاج نہیں بلکہ مجاہدہ ہی اس کو زیر کرتا ہے اور قابو میں رکھتا ہے ورنہ ساتھی ہیں کہ ایسے ایسے مقامات کا دعویٰ کرتے ہیں جہاں ان کو رسائی نہیں ہے اور نہ وہاں تک شیخ نے ان کو پہنچایا ہے۔ ایسے لوگ یقیناً اپنے نفس کے دھوکے میں ہیں اور خود بینی و خود فریبی کا شکار ہیں۔ ہم نے بڑے قد آور لوگ دیکھے جن کو شیخ کے نقشِ قدم پرچلتے نہ پایا اور نہ وہ حامل اسرار رہے۔ نفس نے ان کو پچھاڑ دیا۔

میرے شیخ المکرم فرمایا کرتے تھے کہ بصیرت کا حال بصارت سے مختلف نہیں، جس طرح آنکھ میں ادنیٰ سی چیز پڑ جانے سے نظر میں فتور آ جاتا ہے اسی طرح برائی کی صفات کا وجود بصیرت کی نگاہ میں خلل انداز ہو کے اسے دھندلا کر دیتا ہے۔ بندے کی فکر، ارادہ و خیالات کو پراگندہ کر دیتا ہے۔ اگر آدمی برائی پر جما رہے تو سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔ اگر سلامتی مقصود ہے تو زبان، اعضا و جوارح اور قلب کی حفاظت کرے۔ زبان سے غیبت نہ کرے، جھوٹ نہ بولے۔ اعضاء و جوارح کی حفاظت یہ ہے کہ معصیت کی طرف نہ دوڑے اور نہ کسی مسلمان کو ستائے۔قلب کی حفاظت یہ ہے کہ اسے ذکر میں لگائے رکھے اور فریب، مکر، دھوکہ اور حسد میں مشغول نہ ہو۔ نماز اور صبح شام کا ذکر پابندی سے کرو تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں گے۔
***
 

Did You Even Know?

Major (Retd) Ghulam Muhammad

When Hazrat Abu Bakr Siddique used to eat anything in which there used to be doubt (that it's not clean), he used to induce vomiting by inserting his finger into his throat, and used to pray that Allah may not hold him accountable for whatever had already been digested.

Two black streaks had appeared on Hazrat UmarRazi Allah Anhu's face because of excessive crying (before Allah). When the grief overtook him, he used to take off his clothes, dress in a short piece of cloth that barely covered his thighs, and kept wailing and crying and asking forgiveness for his sins. His eyes were continuously wet, until he used to faint. Whenever such an episode happened, he used to stop coming out of his house, and people used to go to inquire about his health, considering him to be ill.

Hazrat Abu Al DardaRazi Allah Anhu's wife Umm-e-Darda used to say that she had strived in multiple types of worships, but had not found anything better and more healing for her chest than the assemblies of Zikr-Allah. People used to go to her for doing Zikr and she also used to do Zikr with them.

When Hazrat Urwa bin ZubairRazi Allah Anhu went into recluse in his palace in Yemen and stopped coming to Masjid-e-Nabvi, people asked him the reason. He said that he had seen that the mosque had not stayed the same. They had become sports arenas, centers of useless talks, and dens of obscenity. Therefore, he felt it was more peaceful to be at home.

Hazrat Umer bin Abdul Aziz kept seeing KhizrAlaih as-Salam frequently. He used to send his messenger to the sacred Madina regularly just to convey his Salam to Allah's Prophet ﷺ, Hazrat Abu BakrRazi Allah Anhu, and Hazrat Umer Razi Allah Anhu.

Hazrat Sabit bin Asad Banani Rehmatullah Alaih has said that when the practitioners of Zikr sit down for doing Zikr, all their sins are forgiven by the time they get up, even if the sins may be as big as mountains. He used to pray that, "O Allah, if You have blessed any of your creation with the goodness of performing Namaz in their grave, bless it to me as well. When he died and his grave was lined with bricks, one of the bricks fell down, and people saw that he was standing up in his grave, praying Namaz.

Hazrat Maalik bin Dinar used to buy salt worth two Cheh and used to take his flat-bread with it for the whole year, other than the days of sacrifice, when he used to eat meat because the virtue of eating sacrificial meat has been mentioned in the Hadees. He used to tell his family members that whoever could live with him within meager resources was welcome to stay; otherwise, they were welcome to leave.

Imam Ahmed bin Hanbal Rehmatullah Alaih used to say that Allah distributes the treasures of knowledge only to the people whom He considers His friends; and had He preferred only particular people for receiving knowledge, He would have preferred those with a good family background. Ata Habshi was a slave. Hassan Basri was a freed slave. And, indeed, Ibn Sireen was also a slave set free by the Ansaar .

When Hajjaj cut off Saeed bin Jabeer's head, the latter said La Ilaha Ill-Allah twice and was about to say it the third time when he was slaughtered. He has said before he was killed that 'O Allah, do not give Hajjaj power over anyone after me,' and that was what did happen. Hajjaj lived for 15 years after him. His stomach hurt as if it were on fire. For as long as he lived, he kept crying aloud that Saeed bin Jabeer was not letting go of him.

Hazrat Sufyan Suri Rehmatullah Alaih was known among people as the Ameer-ul-Momineen of Hadees. He used to say that the two angels can smell the fragrance or stink of good and bad deeds. He was asked about a person who toils for the sake of his family. He cannot look after his family if he says his prayer with Jamaat. How should that person act in such a situation. He replied that he should work for the sustenance of his family and say his prayers alone. Someone narrated his trouble before him. Hazrat Sufyan Suri Rehmatullah Alaih told him to leave. "Was there no one lower than me in your eyes that you could complain about Allah before him?"

Imam Shaf'I used to say that he had availed the company of Sufis for 20 years. Whoever wishes that Allah SWT should open his heart's door to the Light must sit in solitude, eat sparingly, quit mixing with fools, and consider worldly Aalims to be his enemies.

Imam Maalik used to walk barefooted in the streets of Madina, and said he would feel ashamed before Allah to trample under animals' hooves the dust that contains His Prophet Sall-Allahu-alaih-Wasallam's grave. He stayed in his house for 25 years and did not join congregational prayers because he feared that they no longer had the power to eliminate evil.

Ibrahim bin Adham hailed from Balkh and belonged to the progeny of kings. When he could not find Permissible food to eat, he used to eat earth for a month. He used to say that he would have eaten nothing other than earth if he had not found Halal food, but he feared that his Nafs would become fond of eating it. He used to reduce his diet as much as he could and said that there was no room for extravagance in Halal earning. He used to perform 15 prayers (Namaz) with a single Wazu.

Hazrat Zulnoon Misri has stated that when his feet were shackled and he was being taken from Egypt to Baghdad, they happened upon a disabled lady on the way. She said to him not to fear Caliph Mutwakkil when he is presented in his court, and not to think that the Caliph was superior to him. She also advised him not to present any argument to prove himself right, because he would be trying to prove what Allah already knew. Therefore, he should pray to God for help and not to help himself, otherwise Allah will leave him to himself. So, when he appeared before Mutwakkil, and was asked to explain his position regarding the charge of being a disbeliever and a heretic, he kept quiet. Mutwakkil asked him why he was not saying anything. He replied: "O Ameer-ul-Momineen, if I refute these charges, I'll be pronouncing as liars the Muslims who have brought this charge against me. And if I accept these charges, I'll be telling a lie. Therefore, I'll not say anything in my defense. You can decide the case as you deem fit." Upon hearing this, Mutwakkil said that he was absolved of the charges against him. He returned to that disabled woman and asked her wherefrom she had learned such wisdom. She replied that she had learned it from the incident narrated in the Quran where the Woodpecker talks to Hazrat Sulaiman Alaih as-Salam. (Part 19, Ruku 17, Verse 21 to 24)

Hazrat Bashar Hafi says that one day, when he returned home, he saw a man sitting inside. He asked the man why he had entered his house without permission. The man said that he was his brother Khizr. Hazrat Bashar requested him to pray for him to Allah. Khizr Alaih as-Salam prayed that Allah may make it easier for him to obey Him. Hazrat Bashar requested for a bit more. Hazrat Khizr said that Allah may not let him become proud of his obedience.

Hazrat Sirri Saqti has said that the person who becomes satisfied with people calling him a Wali-Allah is indeed a captive of his Nafs. He said that if he came to know that his staying at home was better than going to the mosque, he would not go out. And if he came to know that it was better for him not to mix with people, he would quit sitting with people. And three things indicate that Allah is angry with a particular person—excessive playing, joking and laughing aloud, and backbiting.

Hazrat Bayazeed Bastami saw Allah, the Lord of Honor, in his dream. He asked: "O Almighty, how can I find You?" It was replied: "Leave your Nafs and come to Me." Hazrat Bastami was asked about the distinguishing quality of an Arif. He replied that the condition of an Arif was similar to that of the inhabitants of Hell, who can neither die nor live.

Hazrat Suhail Tastri says that the Karamat of Aulia stem from four Names—al-Awwal, al-Aakhir, al-Zahir, and al-Batin (the First, the Last, the Apparent, and the Hidden) . The people of al-Zahir (the Apparent) observe the wonders of nature. The people of al-Batin (the Hidden) witness what goes on inside the hearts. Those who have been given a share from al-Awwal (the First) are engaged with past incidents. And the people of al-Aakhir (the Last) are focused on future happenings. The quality of their paranormal insight depends upon their individual spiritual power. He states that he met a companion of Maseeh Alaih as-Salam, who was wearing a robe that appeared a special kind of fresh. He told him that he had been wearing that robe since the time of Maseeh Alaih as-Salam. When Hazrat Suhail expressed his astonishment, he said, "Suhail, the body does not cause the clothes to be worn out. Rather, it's the stink of sins and Haraam food that make them old." Hazrat Suhail says that he asked him if he had also seen our Prophet Muhammad ﷺ. He replied in the affirmative and said that he had believed in him at the time when the Jinn had believed in him. That's the reason why Khizr Alaih as-Salam's clothes don’t get worn out, because he does not commit sin or eat Haraam.

Hazrat Ahmed bin Muhammad says that when Adam Alaih as-Salam committed the disobedience, everything in the Paradise cried for him, but gold and silver did not. Allah SWT asked them through Wahi why they did not cry for Adam. They said they would not cry for someone who disobeyed Him. So, Allah SWT swore by His Honor and Anger that He would make the progeny of Adam their servant, and would make them the standard for determining the value of everything.

Hazrat Abu Al-khair used to say: "Look. Be warned. Never ever request Allah SWT to bless you with patience (during distress). Rather, pray to Him to deal with you softly, because people like us find it very hard to bear the bitterness of having to be patient."

When Zakriya Alaih as-Salam ran from the Jews, a tree called out to him to come towards it. That tree parted for him and he went inside it, after which the tree closed itself again. One of his enemies followed him and held his robe and called out to others that Zakriya Alaih as-Salam was inside the tree. They produced a saw and began sawing the tree. When the saw reached Zakriya Alaih as-Salam, he let out a loud scream. At that time Allah SWT sent a revelation upon ZakriyaAlaih as-Salam and swore by His Respect and Anger that if Zakriya Alaih as-Salam let out another cry, Allah would delete his name from the Office of Prophethood. Zakriya Alaih as-Salam exercised his patience and was sawed into two without letting out a whimper. Allah does not like it at all that you should ask anyone other than Him for help.

Hazrat Abu Bakr Katani says that there are 300 Naqeebs, 70 Najeebs, 40 Abdaals, 7 Akhyar, 4 Amad (Qutb), and one Ghaus . The Naqeebs live in the west, Najeebs in Egypt, and Abdaals are in Syria. The Akhyar keep roaming around the world, and Amad live in all corners of the world. And the abode of the Ghaus is the exalted city of Makkah. The Naqeeb keep begging for the prayer to be granted, followed by the Najeeb, Abdaal, Amad, and finally, the Ghaus. And the Ghause has barely spelled out his need when his prayer is granted.

Once upon a time, a group of Faqeers and Faqeehs gathered before Hazrat Shaykh Abdul Qadir Jilani at the Nizamia School. He started delivering a talk on Divine Will and Destiny. Meanwhile, a snake fell from the roof, seeing which all the attendees fled the room, and only the Shaykh was left behind. The snake entered his clothes, slid over his body, got its head out near his neck, and wound itself around his neck. Despite all this, he neither broke his sermon nor moved from his seat. Then, the snake slid down to the floor, stood before him on its tail, shouted something that nobody among those present could understand, and went away. When everyone had returned, they asked the Shaykh what the snake had spoken. He replied, "he told me that he had tried many Aulia, but had never seen the kind of resilience he saw in me. I told him that he was just a worthless worm. He is moved by the same Divine Will and Destiny that I was speaking about." The next day, the Shaykh happened upon a ruin where he saw a person. When he saw that person's eyes, he understood that it was a Jinn. The person told him that he was the same snake. He had tried many Aulia. Some of them were perturbed inside, but remained calm on the surface, while others were shaken internally and also visibly. But the Shaykh had shown no sign of distress on the inside and out. The Jinn requested him that he wanted to repent on the Shaykh's hand, so the Shaykh led him to repentence.

Shaykh Abu Bakr bin Hawar used to commit robberies. One night, he heard a voice from Ghaib asking him if time had still not come for him to fear Allah. So, he immediately repented and was the first person whom Hazrat Abu Bakr Siddique Razi Allah Anhu clothed in a robe and a cap in his dream. When he woke up, he found both the things on his body. Ibn Hawar gifted these clothes to Shanbaki. Shanbaki gave them to the Crown of the Cognizant Abu Al Wafa, who passed them on to Shaykh Ali bin Haiti. Ibn Al Haiti gave them to Shaykh Ali bin Idrees, after which those clothes got lost.

Three Maulvis went to see Hazrat Baqa bin Batoor. During Salaat, the Shaykh's recitation of the Quran was not up to the expectations of the Maulvis, so they thought negatively of him in their hearts. They stayed for the night at the seminary. Looking to refresh themselves after the tiring journey, they went to take a dip in the nearby canal. When they were inside, a lion appeared from somewhere and sat on their clothes. The water was cold, and the Maulvis became worried that they would die. At that moment, Shaykh Baqa appeared. The lion got up from the clothes and started rolling lovingly at the Shaykh's feet. The Maulvis were regretful of their thinking.

The elders of Iraq used to say that Shaykh Jageer had slipped out of his Nafs like a snake slips out of its skin. He used to say that he had never accepted anyone's Baet until he had seen that person's name in the Guarded Tablet, along with the inscription that he was among his progeny. There's a saying attributed to him that 'observation actually means that the veils are lifted between Allah and the seeker. Hence, the slave is informed about the Ghaib by virtue of the purity of his Qalb and observes the Grandeur and Highness of Allah, the Exalted Lord.

Shaykh Mohyyuddin has mentioned in Fatoohat that he arrived at Koh Qaaf along with some Abdaals, where they happened upon a snake that was encircling the mountain. "One of my companions asked me to say Salam to the snake, and said that it would reply my Salam. So, I said Salam to the snake and it replied. Then it asked us where we had come from. We said that we were from Bajaya. He asked if Abu Madin was fine. We replied that people accused him of being a heretic. It said that by God, the progeny of Adam had covers over their eyes, and that he could never imagine that anyone could think badly of a person whom Allah the Most High considers His Friend. We asked it how it knew this. It said, praise be to Allah, there was not a single animal in the world that was unaware of this fact. He (Abu Madin) was among the people whom Allah SWT had made His Friends and had poured their love into people's hearts. Only a non-believer or hypocrite could consider them as bad."

Allah's Zikr intensifies the Light of the Qalb and weakens the evil of the Nafs. The Nafs is indeed the veil between the Master and His slave. If the Nafs dominates the heart, it makes the heart its captive and established its rule. It is because of the Nafs that the love of this world does not leave a person's heart. In such a situation, a person can neither do Zikr sincerely nor attain the Stations of Salook. This is because lust and avarice are the essence of the Nafs. The Satan is its servant and the propensity for polytheism is in its temperament. It is in its nature to contest the Truth and object to the Truth. Love of fame and popularity is the life of the Nafs. It is the Nafs that wants to be worshipped and revered like its Master. How can a slave get closer to his/her Master with such an attitude? Therefore, it is incumbent upon us to embrace the things that the Nafs considers undesirable, and to avoid the things that the Nafs is attracted towards. Whoever values and nurtures the Nafs and considers anything else to be lower than their Nafs indeed harm themselves. If the Nafs continues to be strong, the Satan will not separate from it, bad habits will not stop afflicting it, and evil thoughts will not stop haunting it. The treatment for the Nafs is not to quit the world. Rather, only striving (in Allah's Zikr) can overpower the Nafs and keeps it under control. Otherwise, there are fellows who claim to have attained such Stations as they have no access to, nor has the Shaykh lifted them to those stations. Such people are surely being deceived by their Nafs and are the victims of vanity and self-deceit. We have seen many people who had a grand stature but did not follow the footsteps of the Shaykh. Ultimately, they lost the secret knowledge that they had, and the Nafs knocked them out.

My respected Shaykh used to say that the (spiritual) insight is not different from the (physical) eyesight. Just like the eyesight is disturbed when a tiny and worthless thing gets into the eye, the insight is also blurred when evil qualities (of the Nafs) interrupt it. One's intellect, will and thoughts are polluted by it (the Nafs). The person can lose everything if they remain adamant upon evil. If safety and salvation is the goal, one must guard their tongue, limbs and Qalb. One should not use the tongue for backbiting or telling lies. The guarding of the limbs means that one should not hasten towards sin nor harm another Muslim. The guarding of the Qalb means that one should keep it busy in Zikr, and must not let it engage in chicanery, trickery, fraud, deceit, and jealousy. If you offer your prayers and perform the morning and evening Zikr regularly, angels will start shaking hands with you.