The Companion Jinn | صحابی جن

Rate this item
(0 votes)

 Click here for ENGLISH

 

صحابی جن
میجر ریٹائرڈ غلام محمد

یہ جون 1973ء کی بات ہے ،بھٹو کا دور تھا ۔ مری بگٹی قبائل نے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے ۔ میں173انجینئر بٹالین میں تھا ۔ میری یونٹ نے مجھے سائٹ دیکھنے کیلئے کوئٹہ بھیجا۔ میرے ساتھ سکیورٹی گارڈ بھی تھے جن کے بغیر سفر محفوظ نہیں تھا ۔میس میں میرے لیے رہائش کا انتظام نہیں ہو سکا تھا اس لیے مجھے امداد ہوٹل میں کمرالینا پڑا ۔جوانوں کو بھی میں نے برآمدے میں پہرا دینے کی بجائے اندر سو جانے کو کہہ دیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہا ں کو ئی آرمی آفیسر ٹھہرا ہوا ہے۔ صبح نماز تہجد کیلئے اٹھا اور واش روم جانے لگا تو دیکھا کہ میرا ایک سپاہی شوکت ٹانگیں سینے سے لگا کے سویا ہوا تھا۔ میں نے سمجھا کہ شاید اس کو سردی لگ رہی ہے اس لیے اپنے بسترسے ایک چادر اٹھا کے اس پر ڈال دی۔ جوں ہی چادر ڈالی وہ بولنا شروع ہوگیا ’’میں نے اس کو پکڑا ہوا ہے اور اس کی بہن کو بھی ۔اس کی خیریت چاہتے ہو تو اس کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ۔‘‘
 
میں نے سرہانے کے نیچے سے پستول اٹھایا اور اس پر تان لیا۔مجھے سمجھ آگئی کہ اسے جِن نے پکڑا ہوا ہے۔جِن فوراً بول اٹھا کہ گولی نہ چلانا ورنہ میں فوراً اس سے الگ ہو جاؤں گا۔اور یہ آپ کے ہاتھ سے مارا جائیگا ۔ میں نے جن سے کہا کہ کیا تم مجھے جانتے نہیں۔وہ بولاکہ جانتا ہوں ،آپ مولانا اللہ یار خان کے شاگرد ہیں۔میں نے پوچھا کہ تم حضرت مولانا اللہ یار خان کو کیسے جانتے ہو۔کہنے لگا مولانا اللہ یار خان کو کون نہیں جانتا۔ان کا سینہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہے۔اور یہ روشنی ہمیں بہت دور سے نظر آتی ہے۔میں نے پوچھا کیا تم نے حضرت مولانا اللہ یا رخان کو دیکھا ہے۔کہنے لگا کہ میں نے انہیں دور سے دیکھا ہے ،ان کے قریب نہیں جا سکتا۔میں نے اس سے کہا کہ تم نے شوکت کو کیوں پکڑا ہے۔کہنے لگا کہ یہ ان کا شاگرد نہیں ہے۔اس کا مولانا اللہ یار خانؒ سے تعلق ہوتا تو میں اس کو ہرگز نہ پکڑتا ۔میں نے جن سے کہا کہ شوکت کو چھوڑدو اور اسے دھمکی دی کہ اگرتو نے اسے نہ چھوڑا تو تجھے انوارات سے جلا کر راکھ کر دوں گا۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے آپ ایک گھنٹے کی مہلت دیں میں اسے ہمیشہ کیلئے چھوڑ دوں گا۔مگر میں اس کی بہن کو نہیں چھوڑوں گا۔
 
ایک گھنٹہ تک شوکت بے ہوش پڑا رہا ۔میں نے کئی دفعہ اسے بلایا ،جھنجوڑا اور اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ بددستور بے ہوش رہا ۔ٹھیک ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد جن نے آکر السلام علیکم کہا ۔میں نے اس سے کہا کہ تم مسلمان ہوتے تو اس طرح لوگوں کوایذا نہ پہنچاتے۔کہنے لگا کہ آپ کی وجہ سے میں اسے چھوڑ رہا ہوں پھر کبھی اس کے قریب نہیں آؤں گا۔پھر کہنے لگا کا ش تمہاری طرح ہمیں بھی کوئی کامل شیخ مل سکتا ۔ہمیں تو کامل کی بجائے عامل ہی ملتے ہیں جو ہم سے نیکی کی بجائے برائی کراتے ہیں ۔اس کے بعد وہ سلام کہہ کر چلا گیا۔اب میں نے شوکت کو آوازدی تووہ اٹھ بیٹھا۔میں نے جن والی ساری بات اس کو بتائی تو وہ کہنے لگا کہ سراس جن نے ہم بہن بھائی کو بچپن سے پکڑا ہوا ہے۔مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔تومیری بہن کو بھی ہوجاتی ہے۔اب تو یہ ہر دوسرے چوتھے روز ہمیں پکڑ لیتا ہے ۔کچھ دنوں بعد میں حضرت شیخ المکرم کے پاس چکڑالہ حاضر ہوا تو سارا ماجرا بیان کیا۔حضرت جی ؒ فرمانے لگے کہ جِن کسی کو چھو بھی لے تو وہ بے ہوش ہو جاتا ہے اور جب کوئی آدمی کچھ عرصہ سے اس کے زیراثر ہو تو جن کا اس کی طرف خیال کرنے سے ہی اس کی طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔کچھ خواتین ڈرامہ بھی کرتی ہیں کہ وہ جن کے زیر اثر ہیں تا کہ گھر والے ان کی فرمائشیں پوری کرتے رہیں۔
 
حضرت جی نے مجھے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا واقعہ سنایا کہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھے پَرکے ساتھ لکھ رہے تھے کہ دروازے سے ایک سانپ اندر داخل ہوا۔ انہوں نے وہ پَراس پر دے مارا جو سانپ کے سر میں پیوست ہو گیا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ اپنی جگہ سے اٹھے کہ اپنا پَر سانپ کے سر سے نکال لیں مگر سانپ آناََ فاناََغائب ہو گیا۔ انہوں نے سانپ کوبہت ڈھونڈا مگر نہ ملا تو واپس اپنی نشست گاہ میں آ کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد دو اجنبی شخص آگئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ ہمارے بادشاہ کے پاس چلو۔حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ان سے پو چھا کہ کس لئے چلوں اور یہ کہ اس فقیر سے بادشاہ کو کیا کام۔ تمہیں غلطی لگی جو میرے پاس آگئے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ خود نہیں آئیں گے تو ہم آپ کو زبردستی اٹھا کر لے جائیں گے۔آپ ان کے ساتھ جانے پررضا مند ہو گئے تو وہ انہیں اٹھا کر کوہ قاف اپنے بادشاہ جنات کے پاس لے گئے ۔ آپ نے دیکھا کہ جنوں کے بادشاہ کی کچہری لگی ہوئی ہے اور ان کا مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش ہے۔بادشاہ نے کہا کہ تم نے ہمارے ایک جِن کو قتل کیا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہؒ نے کہا کہ انہوں نے کسی جن کو نہیں مارا۔ہاں ایک سانپ ان کے کمرے میں آیا تھا جس کو انہوں نے پَر مارا تو وہ اس کے سر میں جا کر پیوست ہو گیا۔اس کے علاوہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔بادشاہ کہنے لگا کہ وہ سانپ جن تھا اس لئے آپ جن کو قتل کرنے کے مرتکب ہوئے۔ شاہ صاحب نے حضور نبی کریمﷺ کی ایک حدیث پڑھی جس کا مفہوم ہے کہ اگر جِن اپنی شکل سانپ کی بنا لے اور وہ کسی آدمی کے ہاتھوں مارا جائے تو یہ قتل تصور نہیں ہو گا۔بادشاہ نے کہا کہ ٹھہرو ہمارے پاس ایک صحابی جِن ہے میں اس کو بلاتا ہوں۔تم اس کے سامنے یہ حدیث پڑھنا۔اگر اس نے کہہ دیا کہ یہ صحیح حدیث ہے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔اتنے میں صحابی جن کو طلب کیا گیا وہ آیا تو بادشاہ نے تعظیماََ اپنی کرسی اس کیلئے خالی کردی۔جب وہ بیٹھ گئے تو بادشاہ نے کہا کہ اب حدیث پڑھو۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے حدیث پڑھی۔ صحابی جن نے حدیث کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔جس کے بعد جنوں کے بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں اپنے گھر پہنچا دیا جائے۔اس واقعہ کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ اس اعتبار سے تابعی ہیں کیونکہ انہوں نے ایک صحابی جن کی زیارت کی ہے۔

اکوڑہ خٹک میں دریائے کابل کے کنارے ایک عمر رسیدہ شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ جو چھ سات سال سے مسلسل روزے رکھ رہا تھا۔لوگ اپنی گمشدہ یا چوری شدہ اشیاء کے متعلق پوچھنے کیلئے اس کے پاس آتے تھے۔ہمارے استفسار پر اس نے ہمیں بتایا کہ تمہارا شیخ حضر ت اللہ یار خان ؒ اس و قت سب سے بڑے باطنی منصب پر فائز ہے۔ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ غوث کا منصب ہے؟کہنے لگا کہ نہیں یہ اس سے اوپر کا ہے۔لوگ اس شخص کی عبادت،ریاضت اور تقویٰ سے بہت متاثر تھے۔ وہ کہتا تھا کہ وہ روح سے بات کر سکتا ہے اور یہ کہ اسے کوئی بات پوچھنی ہو تو وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے پوچھ لیتا ہے۔ اُس نے بتایا کہ حضرت مولانا اللہ یار خان کے منصب کے بارے میں بھی اسے حضرت خواجہ صاحب نے ہی بتایا تھا۔
 
ایک دفعہ حضرت جیؒ کے ہمراہ سفر میں اکوڑہ خٹک سے گزر ہوا تو ہم نے حضرت جی ؒ سے اس شخص کے بارے میں بات کی۔آپ نے قاضی ثناء اللہ لیٹی والے کو فرمایا کہ دیکھو اس کے پاس کیا ہے مجھے تو وہ خالی لگتا ہے۔قاضی صاحب کہنے لگے کہ اس کے پاس کچھ نہیں صرف مؤکل ہیں جن سے باتیں پوچھ کر لوگوں کو بتاتا ہے۔حضرت مجھ سے فرمانے لگے کہ بیٹا! اس وقت دنیا میں سوائے ہماری جماعت کے کسی شخص کی برزخ میں رسائی نہیں اورنہ کوئی روح سے کلام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہاں نفس کشی کے ذریعے جنات اور شیاطین کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں اور وہ ان کی مد د کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد میری برج بٹالین نوشہرہ میں تبدیلی ہو گئی۔پتہ چلا کہ وہ شخص اسی بٹالین کا سویلین ملازم ہے۔میں نے اس کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ تو تنخواہ فوج سے لیتا ہے اور کام کیوں نہیں کرتا تو رو پڑا۔کہنے لگا میجر صاحب ! میں اپنے مؤکل جنوں کو تابع رکھنے کیلئے رات دن نفس کو مارنے کی مشقت کرتا ہوں۔مجھے ڈر ہے کہ اگر ایسا نہ کروں تو وہ مجھے مار دیں گے ۔ جان بچانے کی خاطر کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے،یہ مجھے بیوی بچوں کے پاس بھی نہیں جانے دیتے ، بس ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہوں ۔ کہنے لگا کہ میں ایک دفعہ حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کی زیارت کے لیے رسالپور بھی گیا مگر یہ مجھے فوراً وہاں سے واپس لے آئے۔ میں نے اسے کہا کہ تم ان کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ کہنے لگا یہ بات ممکن نہیں اب تو مَرکر ہی ان سے جان چھوٹے گی۔
 
 

The Companion Jinn

Major (Retd) Ghulam Muhammad

 

This was June, 1973. Bhutto was in power. The Murree and Bugti tribes were up in arms against the government. I was posted to 173 Engineer Battalion. My unit sent me to Quetta to survey a worksite. I had guards with me for security, as it wasn’t safe to travel without them. I could not get the accommodation at the Mess, so I had to rent a room in Imdad Hotel. I asked the soldiers to sleep inside the room instead of standing guard outside, so that no one could know that an army officer was staying there. When I woke up for the Tahajjud prayer and was going to the washroom, I saw that one of my soldiers Shaukat was sleeping with his knees to his chest. I thought that he was feeling cold, so I picked up a sheet from my bed and threw it on top of him.

As soon as I covered him with the sheet, he started speaking: "I am in possession of him, and his sister too. If you want him to be well, take him to a witch doctor ". I took out my gun from under my pillow and aimed at him. I had sensed that he had been possessed by a Jinn. The Jinn spoke at once: "Don’t fire, because I'll separate from him instantly, and he will be killed by your hand." I asked the Jinn: "Don’t you know me?" He said, "I know you. You are a disciple of Maulana Allah Yar Khan. I asked him how he knew Hazrat Maulana Allah Yar Khan. He said who didn’t know Maulana Allah Yar Khan. "His chest is brighter than the sun, and we can see this light from far away," he said. I asked him whether he had seen Maulana Allah Yar KhanRA. He replied that he had seen him from a distance, as he could not go close to him. I asked him why he was possessing Shaukat. He said, "He's not one of his disciples. Had he been connected to Maulana Allah Yar KhanRA, I would have never ever possessed him." I told the Jinn to let go of Shaukat immediately, and threatened him that if he did not leave him, I would burn him to ashes with the Lights. He asked me to give him one hour, after which he would leave him forever. But he said he would not leave his sister.

Shaukat remained unconscious for one hour. I called his name and shook him several time during this period, trying to wake him up, but he remained motionless. Exactly after an hour had passed, the Jinn spoke again and said, "Assalam-o-Alaikum". I told him had he been a Muslim he would never tease people like this. He said he was leaving him because of me, and would never come close to him again. He said he wished he could get a Kamil Shaykh, but they only got Aamils who made them do wrong things. After that, he again said Salam and left. Now when I called Shaukat's name, he got up at once. I narrated the whole Jinn episode to him. He told me that the Jinn had possessed him and his sister right since their childhood. He said whenever he went through an episode of possession, his sister also used to show the same symptoms. The stage had reached when the Jinn had started holding them after every couple of days.

After a few days when I visited Hazrat Allah Yar Khan at Chikrala, I brought the incident to his knowledge. Hazrat JeeRA said that even if a Jinn touches a person, that person becomes unconscious. And when someone has been under the influence of a Jinn for some time, that person starts feeling restless even if the Jinn thinks about him or her. There are also women who fake being possessed just in order to get their demands fulfilled by their family. Hazrat JeeRehmatullah Alaih narrated the incident of Shah Waliullah Muhaddis DehlviRA. Once upon a time he was sitting in his room, writing with a quill pen, when a snake entered through the door. He hit it with his pen, which pierced the snake's head and it died on the spot. Hazrat Shah Waliullah got up from his seat to retrieve his pen, but the snake had vanished. He looked for it everywhere, but could not find it and returned to his seat.

After a while, two strangers entered the room and asked him to accompany them to their king's court. Hazrat Shah Waliullah asked them the reason, and said that he was a Faqeer and had nothing to do with kings. He said that they must had been mistaken. The strangers said that if he did not come with them willingly, they would carry him by force. He had to agree, and they lifted him and took him to the King of Jinns at Koh Qaaf. He saw that the court was in session and his case was being presented before the King. The King said that he had murdered one of their Jinns. Hazrat Shah WaliullahRA replied that he had not murdered any Jinn. However, a snake had entered his room, which he had hit with his pen and the pen had pierced into its skull. That was all that had happened. The King said that the snake was actually a Jinn, and he was guilty of a Jinn's murder.

Shah Sahib recited a Hadees of Huzoor Nabi KareemSall-Allahu-alaih-Wasallam, according to which if a Jinn adopts the form of a snake and is killed by a human, it is not considered to be a murder. The King asked him to wait, and said that they ha d a Companion Jinn. The King would send for him and the Hadees would be recited in his presence. If the Companion Jinn said that the Hadees is right, Hazrat Shah Waliullah would be acquitted. The Companion Jinn came and the King vacated his throne for him to sit. When everyone had settled down, the King asked Hazrat Shah Waliullah to read the Hadees again. He recited the Hadees and the Companion Jinn testified that it was indeed true. Hearing this, the King ordered that Hazrat Shah Waliullah be returned to his home. After this incident, Hazrat Shah WaliullahRehmatullah Alaih used to say that he was a Tabaee , because he had sighted a Companion Jinn.

I came by an old man at the bank of the River Kabul in Akora Khatak. He had been fasting continuously for six or seven years. People used to come to him to ask about their lost or stolen things. Upon our questioning, he told us that our Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRA was appointed to the highest rank in the Hidden World at that time. We asked him if that was the Appointment of a Ghaus. He replied in the negative, and said it was a higher Appointment than that. The people of the area were quite in awe of this old man's worships, piety and struggle. He used to claim that he could talk to spirits and asked whatever he needed to ask from Hazrat Khwaja Moeen-ud-Deen ChishtiRA. He told us that it was Khwaja Sahib who had told him about Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA's (Spiritual) Appointment.

Later on, we happened to pass through Akora Khatak with Hazrat JeeRA and I asked him about that person. He told Qazi Sanaullah of Laitee to observe that old man and see if he possessed anything, as he could see that he had nothing. Qazi Sahib said that he indeed had nothing except for Muakkils , from whom he asked different things and told people the answers. Hazrat said to me, "Son, there is no one in the world at this time who has access to the Barzakh or can converse with spirits, except for our Jamaat. However, some people suppress their Nafs and get Jinns and Satans under their control."

After some time, my Bridge Battalion was relocated to Nowshehra. I discovered that the old man was in fact a civilian employee of the Battalion. I called him to my office and asked him why he didn’t work and was still drawing his salary. He started weeping. He said, "Major Sahib, I strive against my Nafs day and night in order to keep the Muakkil Jinns under my control. I fear that they will kill me if I don’t follow this arduous routine. I have quit eating and drinking just to save my life. They don’t even let me visit my wife and kids, and I have to stay in their company all the time". He said he had once gone to Risalpur to see Hazrat Maulana Allah Yar KhanRA, but the Jinns had forced him to come back immediately. I asked him why he didn’t just quit them. He said, "It's not possible. Now only death can rid me of them."