Fana Baqa by Hazrat Major Ghulam Muhammad

Rate this item
(0 votes)

Click here for ENGLISH

 


فنابقا
میجر ریٹائرڈ غلام محمد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَلّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھدٰنَا اِلیٰ دِیْنِ اْلاِسْلَام
اللہ تعالٰے کا فرمان ہے اَلرّحْمٰنُ عَلَی اْلعَرْشِ اسْتَوٰی (پارہ۱۶ رکوع ۱۰ سورہ طہٰ آیت ۵)
اِنَّ رَبَّکُمُ  اللہِ اّلَذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (یونس10:3)
وَھُوَ اَلّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی اْلمَاءِ

حضرت امام مالک سے کسی نے اَلرّحْمٰنُ عَلَی اْلعَرْشِ اسْتَوٰی کا مطلب پوچھا تو پسینہ پسینہ ہوگئے اور سر نیچے کر لیا اور جو لکڑی ان کے ہاتھ میں تھی اس کو ٹھکرانے لگے ۔ پھر انہوں نے سر اٹھایا اور کہا کہ اس کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی اور اللہ کا استوٰی نا معلوم نہیں اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے اور میرا گمان ہے کہ تو بدعتی ہے اور اسکو نکلوا دیا۔ انہوں نے نو سو استادوں سے علم حاصل کیا تھا جن میں سے تین سو تابعی تھے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ روایتوں کی کثرت سے علم نہیں آتا۔ وہ تو ایک نور ہے جو اللہ تعالٰے قلب میں اتارتا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ آسمان وزمین کی پیدائش سے پہلے حق تعالٰے ایک ایسے عماء (بادل ) میں تھے جس کے اوپر بھی ہوا تھی اور نیچے بھی ہوا تھی۔ ان الرب تبارک وتعالٰی قبل خلق السمٰوٰت والارض کان فی عماء ماتحتہ ھواء ومافوقہ ھواء اور عرش پر حق تعالٰی کا استوٰی ابھی نہیں ہوا تھا۔

ہم پڑھ چکے ہیں کہ اَلرّحْمٰنُ عَلَی اْلعَرْشِ اسْتَوٰی (الرحمن عرش پر مستوی ہے) اور یہ کہ انہ ینزل فی کل لیلۃ الی السماء الدنیا (اللہ تعا لٰے ہر شب نچلے آسمان پر اترتے ہیں) وانہ یحول من المرء وقلبہ (اللہ تعا لٰے آڑے آجاتے ہیں درمیان آدمی کے اور اس کے قلب کے) ہم کو اس کی بھی اطلاع دی گئی ہے وانہ نادیٰ من جانب الطور الایمن فی البقعہ المبارکہ من الشجرۃ ان یا موسیٰ(پکارا اللہ تعالٰے نے اس پہاڑ کے داہنے طرف سے جو برکتوں سے بھری ہوئی جگہ میں تھا درخت سے پکارا کہ ائے موسیٰ ! اور یہ کہ انہ تجلّٰی للجبل فجعلہ دکا (ظاہر ہوا خدا پہاڑ پر پھر کر دیا اس کو ریزہ ریزہ ) ہمیں رسول اللہﷺ نے یہ بھی خبر دی کہ عرش اللہ رب العزت کی وجہ سے اس طرح مچمچاتا ہے جس طرح سوار کی وجہ سے کجاوہ مچمچاتا ہے۔ اللہ رب العزت کے ذاتی تجلیات باری جب حد سے بڑھ جائیں تو لگتا ہے کہ عرش معلےٰ اب ٹوٹا کہ اب ٹوٹا۔

حضرت شاہ اسماعیل شہید ؒ نے ’عبقات‘ میں لکھا ہے کہ اللہ رب العزت کا عرش پر استویٰ اپنی مخلوق کیلئے ہے اور آدمی کے بدن کی صفات کو عرش والی تجلی سے گہری نسبت ہے مثلاًعرش سے ایک تجلی آتی ہے جو بندے کی قوتِ گویائی بنتی ہے ایک تجلی آتی ہے جو اس کی قوتِ سماع بنتی ہے ایک تجلی آتی ہے جو اس کی بینائی بنتی ہے اور ایک تجلی آتی ہے جو اس کی قوتِ محرکہ بنتی ہے۔ یوں یہ نہ ختم ہونے والا تجلیات کا سلسلہ انسانی حیات کو دوام بخشتا ہے۔ اگر سمجھو تو اوپر عرش عظیم ہے اور نیچے عرش صغیر(یعنی قلب) ہے اور یہ دونوں ایک سانس کے فاصلے پر ہیں۔ سانس میں آپ اسم اللہ کھینچ کر عرش پر لے جاتے ہیں واپسی پر یہ سانس عرش سے قلب پر انوارات لے آتا ہے۔ قیامت کے روز منور قلب ہی آپ کا آلہ بنے گا جس کے ذریعہ آپ اللہ رب العزت کی زیارت کریں گے اور جس کا قلب منور نہیں ہوگا وہ اللہ تعالٰے کی زیارت سے محروم رہے گا۔

علامہ اقبالؒ نے عقل اور قلب کا مکالمہ لکھا ہے ۔قلب عقل سے کہتا ہے۔
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا طائرِ سدرہ آشنا ہوں میں
کس بلندی پہ ہے مقام میرا عرشِ ربِ جلیل کا ہوں میں

معراج کی رات حضرت جبرائیل امین سدرۃ المنتہی پر پہنچ کر رک گئے کیوں کہ یہ عالم خلق کی آخری حد ہے۔ سدرہ ایک درخت ہے اس کے بارے میں انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ ایسا مبارک درخت ہے جس کی جڑیں ساتویں زمین تک جاتی ہیں۔ قلب ،روح ، سری، خفی،اخفیٰ بھی روح کی طرح عالمِ امر سے ہیں۔ ایسی صورت میں عقل کا قلب سے کیا موازنہ۔ مگر وہ کیا کیا جائے دانشور طبقے کا جو عقل کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔

ایک روز میرے شیخ حضرت اللہ یارخان ؒ نے فرمایا کہ ’’ اللّٰہ نورالسمٰوٰت والارض‘‘ اللہ جب نور ہے تو اللہ کا کلام بھی نور ہے۔ نور میں الفاظ اور آواز کیسے؟ پھر وحی قلب پر نازل ہوئی اور قلب امر ہے مخلوق نہیں۔ فرمایا کہ امام احمد بن حنبل کے دور میں اس بات نے بہت زور پکڑا کہ قرآن مخلوق ہے مگر امام احمد بن حنبل اس بات پر اڑے رہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ مخلوق نہیں۔ اس کے لیے آپ کو سزا بھی ملی مگر پھر بھی ثابت قدم رہے۔اس ثابت قدمی کے انعام میں منجانب اللہ دربارِ رسالت سے امام احمد ؒ کو ’’صدیق‘‘کا منصب عطا ہوا۔ حضرت جیؒ فرماتے تھے کہ پچھلے دور میں (تابعین کے شاگردوں کے بعد) دو ہی صدیق گذرے ہیں ایک امام احمدؒ اور دوسرے امام غزالی ؒ ۔

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَافَانٍoوَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوْالَجلَالِ وَالْاِکْرَام(۲۷) (الرحمٰن پارہ۲۷) یہاں ہر کسی کو فنا ہے مگر اسے بقا حاصل ہو جاتی ہے جس کا رخ رب ذوالجلال کی جانب ہو گیا۔ یعنی جس کو اللہ رب العزت کی تجلیات نصیب ہوگئیں۔ صبغۃاللّٰہ وَمَنْ احسن من اللّٰہ صبغۃونحن لہ عابدون(۱۳۸) البقرہ (اللہ کے رنگ کی کیا ہی بات ہے اور پھر اللہ رب العزت کی تجلیات سے بہتر کون سا رنگ ہوسکتا ہے)۔

ہماری عافیت کی خاطر رب ذوالجلال نے خود کو اوٹ در اوٹ یعنی وراالورا میں رکھا ہوا ہے ورنہ اللہ ذوالجلال کی ایک تجلی انسان کی برداشت سے باہر ہو جائے۔ میرے شیخ حضرت اللہ یار خانؒ ہمیں کہتے ہوتے تھے کہ دیکھو کس طرح پہاڑی پر تجلی پڑی تو وہ ریزہ ریزہ ہو کے بھسم ہو گئی اور کیسے حضرت موسیٰ ؑ دوسری پہاڑی پر تجلی کی تاب نہ لاتے ہوئے بیہوش ہو کے گر پڑے۔ فلمَّا تجلّٰی ربہ للجبل جعلہ دکاوخر موسیٰ صعقا۔

رسول اللہﷺ کے قلب پر بھی وحی کا نزول ہوتا تھا تو آپ کی حالت غیر ہو جاتی تھی۔ سانس پھول جاتا تھا۔ دنیا و مافیھا سے بے خبر ہو جاتے تھے ۔ شروع شروع میں یاد کرنے کی غرض سے الفاظ کو دہرانا شروع کیاتو اللہ رب العزت نے منع فرمادیا کہ لاتحرک بہ لسانک فرمایا ان عیلنا جمعہ کہا کہ اپنی زبان کو حرکت مت دو آپ کے قلب میں وحی کا محفوظ رکھنا ہمارا کام ہے آپ یہ کبھی نہ بھول پائیں گے۔ 

اناارسلنٰک شاھدًا ومبشراً و نذیراً وداعیاًالی اللّٰہ باذنہ وسراجاًمنیرا

آپﷺ چونکہ سراجاً منیرا ہیں اس لئے آپ کے قلب اطہر سے قیامت تک لوگ مستفیض ہوتے رہیں گے۔ منازل سلوک میں فنابقا کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ فنابقا کرانے کیلئے شیخ اپنے جس ساتھی کو اہل سمجھتا ہے اسے حضرت محمدﷺ کے سامنے لاکے بٹھا دیتا ہے۔ آپﷺ اپنی شہادت کی انگلی مبارک سے سالک کے قلب پر لکھتے ہیں ’’اللّٰہ‘‘اور لطیفہ روح پر لکھتے ہیں ’’محمد‘‘پھر قلب پر لکھتے ہیں لاالٰہ الاللّٰہ روح پر لکھتے ہیں محمد رسول اللّٰہ۔ پھر قلب پر لکھتے ہیں اللھم صلی علٰی محمد نبی الامیّ وٰالہٖ واصحابہ وبارک وسلم یہی درودشریف روح پر سری پرخفی پر اوراخفیٰ پر بھی لکھتے ہیں۔آپﷺ کا لکھا ہوا ایک ایک حرف صاف چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے پھر بدن کے ایک ایک اعضاء پر درود لکھتے ہیں۔ بعد ازاں جب پڑھتے ہیں کل من علیھا فان تو سالک کا سارا بدن درود بن کر نور کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر جب آپ ﷺ ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام پڑھتے ہیں تو سالک اپنی پہلی صورت پر واپس آجاتاہے ۔ (اگرچہ دیکھنے میں شیخ ہی فنا بقا کرا رہا ہوتا ہے مگر اس کی حیثیت مکبر کی ہوتی ہے)یہ عمل دربار نبوی میں کیا جائے تو یہ ’’فنافی الرسول‘‘ کہلاتا ہے اور جب یہی عمل عرش رب جلیل پر دہرایا جائے تو اسے ’’ فنا فی اللہ بقا باللہ ‘‘ کہتے ہیں۔ فنابقا کیلئے آقائے نامدارحضرت محمدﷺ سے روحانی بیعت کا ہونا لازمی شرط ہے۔ سالک کو مراقبات ثلاثہ (احدیت معیت اقربیت) کراکے شیخ مکرم اسے سیرِ کعبہ سیرِ صلاۃ اور سیرِ قرآن سے گزار کے روضہ اطہر میں لے جا کے حضورﷺ کی روح مبارک سے رابطہ کراتا ہے پھر اسے مسجد نبوی میں لے کے آتا ہے۔ مسجد نبوی میں حضورﷺ کی امت کے تمام سلاسل کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اپنے سلسلہ کے حاضر لوگوں میں سے جو روحانی بیعت کے اہل ہو پاتے ہیں وہ اگلی صف میں پہنچ جاتے ہیں پھر حضور ﷺ کے حکم ملنے پر شیخ مکرم ان کو روحانی بیعت کے لئے پیش کرتا ہے۔ روحانی بیعت سے مشرف ہونے کے بعد ان کو فنافی الرسول اور پھر فنا بقا کرایا جاتا ہے۔ ایسے شخص کا ایک ایک سجدہ دوسروں کی سو سو سال بلکہ ایک ایک لاکھ سال کی عبادت سے بھی بہتر ہوتا ہے۔ بعض احادیث میں صاحبِ فنا بقا (صاحبِ ولایتِ صغریٰ) کو ’’خانہ روشن‘‘ سے اور غافل شخص کو ’’خانہ تاریک‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حق تعالٰے ہمیں اور تمہیں فنا بقا والے گروہ میں شامل رکھے اور انہی کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے۔ آمین!

فنا فی اللہ شخص اپنا اختیار و ارادہ ترک کرکے اللہ پر توکل کرتا ہے ۔ اپنے تمام کاموں میں اور ہر چیز میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کا مالک ہے اور مالک کائنات ہے اور جو مقلب القلوب ذات ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ ایسے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ چونکہ ان کے قلوب حق تعالٰے کے قریب ہیں اس لئے وہ غیر کی بات نہیں سنتے غیر کو دیکھتے نہیں قرب ان کو متوالا بنائے رکھتا ہے ہیبت ان پر چھائی رہتی ہے اور محبت ان کو محبوب کے پاس مقید رکھتی ہے۔ انسان جنات اور فرشتے اور قسم قسم کی مخلوق ان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ 

حضرت اللہ یار خانؒ فرماتے تھے کہ جس کو فنابقا حاصل ہو جائے اس کے لطائف جاری ہو جاتے ہیں۔ ہر پل ہر لمحہ ان کے لطائف پر عرشِ عظیم سے تجلیات برستی ہیں اور ان پر انوارات کا نزول رہتا ہے۔ انوارات اور تجلیات کے تواتر سے لگتا ہے جیسے ان کے سینے سے لے کے عرش معلےٰ تک نور کا ایک کالم اور مینار ہے جس کو تمام مخلوق دیکھتی ہے سوائے انسانوں کے ۔ یہاں تک کہ سمندروں کہ تہہ میں موجود مخلوق بھی اس کو پہچانتی ہے اور اس کے لئے دعائیں کرتی ہے۔

جہاں الحاد اور کفر نے ترقی کی وہاں داعیاً الی اللہ اور تصوف کے میدان میں بھی بہت کام ہوا۔ ظلم و استبداد کے خلاف تحریکوں نے زور پکڑا تو اللہ اللہ کرنے والوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے اللہ رب العزت نے حضرت اللہ یار خان جیسی ہستی کو پیدا کرکے روئے زمین کے کونے کونے میں سلوک کو پھیلا دیا۔کشف ہو یا کلام بالا رواح منازلِ سلوک ہوں یا مذاہب باطلہ کی تردید اور مناظرہ، حضرت اللہ یار خان ؒ کا ثانی آپ کو اس دور میں نہیں ملے گا۔ ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ تم لوگ سلوک کے سبجیکٹ کے سپیشلسٹ ہو اپنی سپیشلٹی میں دھیان دو۔ فرائض کی ادائیگی سے فارغ ہو کے جو وقت ملے اس میں لطائف کرو مراقبہ کرو۔ اپنے سبق دہراؤ ۔ القاء اور توجہ میں بخل نہ کرو۔ میرے خلفاء مجازین اگر حصولِ دنیا میں پڑ گئے تو تمہارے حالات خراب ہو جائیں گے۔ اعمال میں بگاڑ آجائے گا۔ دلوں کا خلوص جاتا رہے گا۔

حضرت اللہ یار خان ؒ کا خدشہ درست نکلا۔ آج سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جو حال ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ 
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھاگئے 

فرماتے تھے یہ اولیاء اللہ کی جماعت ہے۔ یہ صوفیاء کی آخری جماعت ہے۔ اس جماعت کے لوگ امام مہدی کے زمانے تک پہنچیں گے۔ اس کی عزت کا خیال رکھنا۔ میری عزت کا خیال رکھنا ۔ میری جماعت کو بٹہ نہ لگانا۔

 


 

 

Fana Baqa

 

Major (Retd) Ghulam Muhammad

 

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَلّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھدٰنَا اِلیٰ دِیْنِ اْلاِسْلَام

Praise be to Allah who blessed us with rewards and guided us towards Deen-e-Islam.

اَلرّحْمٰنُ عَلَی اْلعَرْشِ اسْتَوٰی

The Most Merciful [who is] above the Throne[1] established. (20:5)

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہِ اّلَذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْش

Indeed, your Lord is Allah , who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne… (10:3)

وَھُوَ اَلّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی اْلمَاءِ

And it is He who created the heavens and the earth in six days - and His Throne had been upon water. (11:7)

When someone asked Hazrat Imam Maalik the meanings of The Most Merciful [who is] above the Throne established, he started sweating profusely. He bowed his head and started tapping the wooden stick that he was holding. Then, he raised his head and said that it is something beyond the comprehension of the mind; and that Allah's Astawa (establishment) is not unknown and it is mandatory to believe in it; and that to inquire about it is a Bidat[2]. He said that he thought that the inquirer was a Bidati[3] and got him expelled from there. He received knowledge from 900 tutors, out of whom 300 were Tabaeen. He used to say that knowledge is not acquired through excessive studying. It is a Light that Allah SWT emlightens into one's Heart.

It is in the Hadees[4] that before the heaven and the earth were created, Allah SWT was in an Ama' (Cloud) that had air above and below it, and his Establishment on the Throne had not yet taken place.

ان الرب تبارک وتعالٰی قبل خلق السمٰوٰت والارض کان فی عماء ماتحتہ ھواء ومافوقہ ھواء

We have read that اَلرّحْمٰنُ عَلَی اْلعَرْشِ اسْتَوٰی (The Most Merciful [who is] above the Throne[5] established), and that انہ ینزل فی کل لیلۃ الی السماء الدنیا (Allah SWT descends to the lower heaven every night) وانہ یحول من المرء وقلبہ (and Allah SWT comes between a person and his Heart). We have also been informed that وانہ نادیٰ من جانب الطور الایمن فی البقعہ المبارکہ من الشجرۃ ان یا موسیٰ (Allah SWT called out from the right side of the mountain that was situated in a blessed place, called out from the tree: O Moosa) and that انہ تجلّٰی للجبل فجعلہ دکا (God manifested Himself upon the mountain and turned it into particles). Allah's ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam has also told us that the Arsh creaks because of Allah's presence just like a camel's saddle creaks under the weight of the rider. When Allah's Personal Lights become extremely intense, it seems that the Higher Arsh will break any moment.

Hazrat Shah Ismail ShaheedRehmatullah Alaih has written in "Abqaat" that Allah has established Himself on the Arsh for the sake of His creations. Man's physical qualities are closely related to the Brightness from the Arsh. For example, a Flash of Light comes, which becomes man's speaking power. Another Flash comes, which becomes man's hearing power. Another Flash comes, which becomes man's sight, and another Flash comes, which becomes man's movement. In this way, this never-ending series of Flashes perpetuates human life. If you want to understand, the Higher Arsh is up there, and the Smaller Arsh is the Qalb. The two of them are at the distance of a single breath. While breathing in, you stretch Allah's Name and take it all the way up to the Arsh. On the way back, this breath brings the Lights from the Arsh to your Heart. On the Judgement Day, your luminous Qalb will become the scope through which you will observe Allah, the Most High. The person whose heart is not illuminated will remain deprived of Allah's sight.

Allama IqbalRehmatullah Alaih has written the dialog between the mind and the Heart. The Heart says to the mind:

You are concerned with time and space, whereas I'm the bird that knows the Sidra;

See how high my status is, that I'm from the Throne of the Almighty Lord

On the Night of Ascension[6],  the Trusted Angel JibrailAlaih as-Salam stopped at Sidra-tul-Muntaha, because this is the last limit of the Realm of the Created. Sidra is a tree about which he told Allah's ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam that it's a blessed tree that has its roots extending to the seventh earth. The Qalb, Rooh, Sirri, Khaffi, and Akhfa[7] belong to the Realm of Command, just like the spirit. It's obvious that there's no comparison between the Qalb and the mind, but the intellectuals consider the mind to be everything.

One day my Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRehmatullah Alaih said that اللہ نورالسمٰوٰت والارض (Allah is the Light of the heavens and the earth). If Allah is the Light, his word is also Light. How can Light contain sound and words? Also, the Wahi[8] was descended upon the Qalb, and the Qalb is Amr[9] and not a creation. He said that in the times of Imam Ahmed bin Hanbal, it was argued very forcefully that the Quran is a creation. But, Imam Ahmed bin Hanbal remained adamant that the Quran is Allah's Word and hence, it's not a creation. He was also punished for this, but remained steadfast. As a reward for his steadfastness, he was also granted the Appointment of "Siddiq" from the Prophet's Court by Allah's approval. Hazrat JeeRA used to say that there had been only two Siddiqs in history (after the disciples of the Tabaeen)—Imam AhmedRA and Imam GhazaliRA.

oوَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوْالَجلَالِ وَالْاِکْرَامoکُلُّ مَنْ عَلَیْھَافَانٍ(Al-Rahman Chapter 27).

Everyone here will perish, except for the one who faces towards Allah; in other words, the one who is fortunate to acquire the Lights of Allah, the Respected Rubb.

 صبغۃ للّٰہ وَمَنْ احسن من اللہ صبغۃ ونحن لہ عابدون (Al-Baqarah 138).

The Color of Allah, and which color can be better than the Color of Allah's Lights?

The Almighty has kept Himself behind veil after veil for the sake of our safety. Otherwise, man cannot sustain even a single Flash of His Light. My Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRehmatullah Alaih used to tell us, "look, how the Flash has hit the hill and turned it into charred dust, and how Hazrat MoosaAlaih as-Salam has fainted on the other hill, unable to bear the Light.

فلمَّا تجلّٰی ربہ للجبل جعلہ دکاوخر موسیٰ صعقا۔

"But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious." [7:143]

The Holy Prophet'sSall-Allahu-alaih-Wasallam condition used to be precarious when the Wahi[10] used to descend on his Qalb. His breathing used to accelerate and he used to be oblivious to his surroundings. In the beginning, he tried to repeat the words in order to remember them by heart, but Allah SWT forbade him that لاتحرک بہ لسانک'Do not move your tongue' and ان عیلنا جمعہ'it's Our job to preserve the Wahi in your Qalb. You'll never forget it'.

اناارسلنٰک شاھدًا ومبشراً و نذیراً وداعیاًالی اللہ باذنہ وسراجاًمنیرا

"O Prophet, indeed We have sent you as a witness and a bringer of good tidings and a warner. And one who invites to Allah , by His permission, and an illuminating lamp." [33:45-46]

Because the Final ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam is an illuminating lamp, people will continue drawing Faiz from his Sacred Heart until the Judgment Day. Fana-Baqa holds great importance among the Stations of Salook. For conducting Fana-Baqa, the Shaykh presents his disciple, whomever he considers worthy, before Hazrat MuhammadS-A-W. HuzoorS-A-W writes with his blessed index finger the word "Allah" upon the Qalb of the seeker. Then, heS-A-W writes "Muhammad" on the Latifa Rooh. Then, he writes "La Ilaha IlAllah" on the Qalb, and writes "Muhammadur-Rasoolullah" on the Rooh. Then, heS-A-W writes "Allah-humma Sall-e Ala Muhammad-e Nin-Nabi-el Ummi-yi wa Aalihee wa Ashabihee wa Barik Wasallam" upon the Qalb and upon the Lata-if of Rooh, Sirri, Khaffi and Akhfa. Each letter written by the Holy ProphetS-A-W look bright and clear. HeS-A-W then writes the Darood on each and every limb of the body. After this heS-A-W recites کل من علیھا فان and the seeker's whole body morphs into the Darood and turns into the Light. Then, the Holy ProphetS-A-Wrecites ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام, and the seeker returns to his original state. (It's apparently the Shaykh who is conducting Fana-Baqa, but he is just acting as the announcer).

If the above sequence is conducted in the Prophet's Court, it's called "Fana-fir-Rasool"; and when the same sequence is repeated on the Arsh of the Almighty, it's termed "Fana-fi-Allah Baqa-bi-Allah". The Spiritual Baet with the Holy ProphetS-A-W is a precondition for Fana-Baqa. The honored Shaykh advances the seeker through the Triple Meditations (Ahdiyyat, Maiyyat, Aqrabiyyat), takes him through Sair-e-Ka'ba, Sair-e-Salat and Sair-e-Quran, and takes him to Roza-e-Athar[11] to connect him with the exalted spirit of the Holy ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam. After that, the Shaykh ushers him into Masjid-e-Nabvi[12], where people belonging to all the Silsilas of the Prophet's Ummah are present. Those who become worthy of the Spiritual Baet move to the front row in their own Silsila. Then, upon receiving the Holy Prophet's orders, the honorable Shaykh presents them for the Spiritual Baet. After being blessed with the Spiritual Baet, they are progressed to Fana-fir-Rasool and then, to Fana-Baqa. A single prostration by such a person is superior to the worships of a hundred years, or, rather one hundred thousand years by others. In some of the Ahadees, the holder of Fana-Baqa (or the holder of the Smaller Friendship) has been likened to an "illuminated house", whereas a heedless person has been likened to a "dark house". May Allah, the Exalted Truth, keep me and you among the holders of Fana-Baqa, and may our Final Judgment be carried out with them. Aameen!

A person who is Fana-fi-Allah gives up his own will and choice, and relies only on Allah. He refers to Allah for all his affairs…Allah, who is his Master and the Master of the Universe, the Being who knows what's in the hearts. Shaykh Abdul Qadir JilaniRehmatullah Alaih says about such people that because their Hearts are closer to Allah, they neither heed nor look at beings other than Allah. His Nearness keeps them dazed, His Might holds them in awe, and His Love keeps them captivated close to their Beloved. Humans, Jinns, Angels, and other types of creations remain at their service.

Hazrat Allah Yar Khan Rehmatullah Alaih used say that when a person achieves Fana-Baqa, his Lata-if start working by themselves. Every moment, each second, the Flashes from the Greater Arsh pour down upon their Lata-if, and the Lights descend on them. The continuity of Flashes and Lights creates a sort of column of Light, or a tower of Light that extends from their chest all the way to the Higher Arsh. All types of creatures see this column, except humans, to the extent that the creatures in the bottom of the oceans also recognize them and pray for them.

Just as disbelief and denial have become stronger, significant progress has been made in the field of Tasawwuf and calling people to Allah. When the movements against tyranny and oppression gathered steam, Allah SWT created the being of Hazrat Allah Yar Khan to quench the thirst of the people calling out to Allah, and spread Salook to all corners of the world. Be it Kashaf or conversing with spirits, be it the Stations of Salook or the rejection of false ideology through argument, you'll not find a parallel to Hazrat Allah Yar Khan Rehmatullah Alaih in these times. He used to tell us: "you people are the specialists of the subject of Salook. Concentrate on your specialty. When you have performed the obligatory worships, do your Lata-if and Meditations. Revise your lessons. Don’t be a miser in doing the Alqa and paying Spiritual Attention. If my Authorized Successors are occupied by worldly pursuits, their affairs will deteriorate. The actions will become spoiled and the sincerity will vanish from the hearts".

Hazrat Allah Yar Khan's apprehension turned out to be true. We are all aware of the condition of Silsila Naqshbandia Awaisia today. [Urdu Verse]

Those who used to sell the medicine of the Heart have packed up and gone.

He used to say this is the Jamaat of Allah's Friends. "This is the last Jamaat of Sufis. The people from this Jamaat will reach the times of Imam Mehdi. Take care of this Jamaat's honor. Take care of my honor. Never give a bad name to my Jamaat."

 



[1] The actual Arabic word is Arsh, which means a level beyond the seven heavens

[2] Innovation in the matters of the Deen. Adopting a practice that has no precedence considering it to be a part of the Deen.

[3] Anyone who engages in Bidat

[4] The sayings of the Holy Prophet SalAllahu alaih Wasallam

[5] The actual Arabic word is Arsh, which means a level beyond the seven heavens

[6] Meraaj. The night when the Holy Prophet (SAW) ascended to meet Allah.

[7] Names of the Lata-if

[8] Message from Allah

[9] Allah's Commandment

[10] Quranic Revelation

[11] The Holy Prophet's Grave

[12] The Prophet's Mosque