Kalaam-bil-Arwah by Hazrat Major (R) Ghulam Muhammad Featured

Rate this item
(0 votes)

Click here for ENGLISH

کلام بالا رواح 

میجر ریٹائرڈ غلام محمد


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھَدٰنَا اِلٰی دِیْنِ الاِسْلَام۔ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ ۱۹۷۰ میں میرے شیخ حضرت اللہ یار خان ؒ کراچی تشریف لے گئے۔ میں بھی ان کے ہمرا ہ تھا۔نیوی کے کواٹر میں قیام تھا، شام کو حضرت جی ؒ نے سید احمد رفاعیؒ کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی ۔ فرمایا کہ سید احمد رفاعیؒ کو اللہ نے ایسا کمال دیا تھا کہ جب آپ وعظ فرماتے تھے تو دور نزدیک والے سب ان کو ایک جیسا سنتے تھے۔ جب کوئی ان کے پاس آتا اور ان کے پاس اس کو کھلانے کو کچھ نہ ہوتا تو یہ اسے کہتے کہ مجھ سے دعا کی درخواست کرو کیوں کہ اس وقت میں رسول اللہﷺ کے نمونہ پر ہوں ۔ سید احمد رفاعیؒ حج پر گئے تو جب روضہ رسولﷺ پر پہنچے تو پیغمبرﷺ کو مخاطب کرکے عرض کیا کہ یا رسول ﷺمیں روحانی طور پر تو آپ کی خدمت میں آیا کرتا ہوں آج جسمانی طور پر خود حاضر ہوا ہوں آپ اپنا دست اقدس باہر نکالیں تاکہ میں اس کو بوسہ دے کر اپنی محبت کی پیاس بجھا سکوں۔ اس پر رسولﷺکا دست اقدس لحد سے باہر نکل آیا تاکہ سید احمد رفاعیؒ آپ کے دست اقدس کو بوسہ دے سکیں۔ چناچہ سید احمد رفاعیؒ نے رسول اللہﷺ کے دست اقدس کو بوسہ دیااور یہ منظر وہاں پر موجود ہزاروں لوگوں نے دیکھا پھر دوسرے خوش قسمت لوگوں کو بھی جو وہاں قریب تھے بوسہ دینے کا موقع مل گیا۔ 
محفل میں موجود ایک شخص نے حضرت جی ؒ سے سوال کیا کہ اس واقعہ کا کیا ثبوت ہے؟ ہم سب کو اس کا یہ سوال اچھا نہیں لگا۔ حضرت جیؒ نے اس شخص سے پوچھا کہ ’’تم حرامی ہوکہ حلالی‘‘ اس نے جواب دیا کہ میں حلالی ہوں۔ حضرت جیؒ نے پوچھا کہ تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے۔ وہ کہنے لگا کہ میرے ماں باپ کا نکاح۔ حضرتؒ نے پوچھا کہ تمہارے ماں باپ کے نکاح کا کیا ثبوت ہے؟ وہ کہنے لگا کہ میرے ماں باپ کے نکاح کا ثبوت ہیں نکاح کے گواہ۔ اس پر حضرت جیؒ نے کہا کہ حیرانگی ہے تمہارے ماں باپ کے دو گواہ ہیں اور نکاح کو کوئی چیلنج نہیں کرتا اور جس واقعہ کے ہزاروں گواہ ہوں اس واقعہ کا تم ثبوت مانگتے ہو۔ تمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس واقعہ کا سب سے زیادہ معتبر چشم دید گواہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ بھی ہیں۔ سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ وہ جماعت اسلامی کا آدمی ہے ۔ حضرت جی ؒ نے فرمایا کہ جماعت اسلامی والے تو حیات انبیاء اور کلام بالا رواح کو سرے سے مانتے ہی نہیں پھر تم یہاں کیا لینے آگئے ہو۔ جاؤ چلتے بنو اور یوں اس کو وہاں سے نکال دیا۔ 
یہ2004 کی بات ہے جب مجھے میرے شیخ حضرت اللہ یار خانؒ نے فرمایا کہ بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا میرے ساتھ قبر میں مسلسل رابطہ رہے تو روح کی لطافت برقرار رکھنے کے لیے صحت اجازت دے تو چالیس روز کا چلہ اختیار کرو۔ جس میں راتوں کو جاگو اور عبادت کرو اور دن کو پیاسے رہو یعنی روزہ رکھو۔ اپنے شیخ کے حکم پر میں نے چالیس روز کا چلہ (25 اپریل سے3 جون تک) کاٹا ۔ اس کی وجہ سے کشف اور کلام میں بہت فرق پڑا اور نکھار آیا ۔ حضرت جی ؒ نے فرمایا کہ یہ ہر دور کے صوفیاء کی اختیار کردہ سنت ہے اگر چہ میری زندگی میں تمیں اس کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ میری اپنے شیخ سے وقتاً فوقتاًان سے قبر میں کلام ہوتی رہتی ہے۔ چند مثالیں عرض کرتاہوں۔ 
یہ غالباً 2003 کا واقعہ ہے میرے ایک ساتھی سکواڈرن لیڈر سلمان احمد اور ان کی مسز ڈاکٹر نوشین نے لاہور سے مجھ سے ٹیلی فون پر کہا کہ میں حضرت جی ؒ سے ان کی قبر پر حاضری کی اجازت لے کر ان کو مطلع کروں میں نے حضرت جیؒ سے ان کی حاضری کی اجازت طلب کی ۔ حضرت جیؒ نے فرمایا کہ دونوں آسکتے ہیں ۔ کچھ روز بعد وہ دونوں لاہور سے میانوالی آئے ۔ رات پی اے ایف بیس پر گزاری۔ صبح جب وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے میرے پاس واں بھچراں آئے تو عین اس وقت حضرت جیؒ کی مجھ سے روحانی کلام شروع ہوگئی ۔ حضرتؒ نے فرمایا کہ ڈاکٹر نوشین (مسز سلمان احمد ) کو ادھر ہی روک لو، اس کو مت آنے دو ۔ میں ایک دم پریشان ہوگیا۔ سوچنے لگا کہ میری پہلے والی کلام درست تھی اجازت والی یا اب منع کرنے والی۔ پہلے اجازت فرمائی تھی اب کیوں منع فرما دیا ۔ ڈاکٹر نوشین یہیں رک گئیں اور ہم دونوں براستہ موسیٰ خیل جب دندہ شاہ پہنچے تو دیکھا کہ وہاں رات بھر اسقدر موسلادھار بارش ہوئی تھی کہ ہر طرف پانی ہی پانی بھر گیا تھا۔ وہاں سے مرشد آباد کو جانے والا راستہ چونکہ کچا تھا اس لیے کار کا چلنا مشکل ہوگیا۔ اور دو تین کلو میٹر جانے بعد ہمیں کار کو چھوڑکر کیچڑ میں سے پیدل جانا پڑا۔ اس وقت معلوم پڑا کہ حضرت جیؒ نے ڈاکٹر نوشین کو آنے سے کیوں روک دیا تھا۔ اس کے کچھ ماہ بعد یہ دونوں دوبارہ مرشد آباد آئے۔ اب کی دفعہ انہوں نے ایک بچہ گود لینے کی حضرت جی ؒ سے اجازت طلب کی حضرت جیؒ نے مجھے بتایا کہ ان کو بتاؤ کہ جب ان کے ہاں اپنی اولاد ہونی ہے تو پھر بچہ گود لینے کا کیا فائدہ؟ دراصل ان کی شادی کو اس وقت چھ سات سال ہوگئے تھے اور ان کی اولاد نہیں ہوئی تھی حضرت جیؒ کے منع کرنے پر یہ بچہ گود لینے سے رک گئے۔ بعد میں ان کے ہاں دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی جو آج کل سکول میں پڑہتی ہیں۔ 
میرے ایک اور ساتھی عامر جلال ہیں جو ایک ایئر لائین میں پائلیٹ ہیں۔ ان کا چھوٹا بھائی کاشف جدہ کی کسی یونیورسٹی میں لیکچرر ہے ۔کاشف نے اپنی اور بہن کی شادی کے لئے انٹر نیٹ پر امریکہ میں مقیم کسی پاکستانی فیملی سے وٹہ سٹہ کی بات پکی کرلی۔ وہ لوگ بعد میں پاکستان بھی آئے اور لڑکا لڑکی پسند کرگئے ادھر حضرت جیؒ سے جب اس رشتہ کے بارے میں بات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ کاشف کو اس رشتے سے روکو۔ جس سے رشتہ کر رہے ہیں وہ اچھا لڑکا نہیں ہے۔ چناچہ میرے کہنے پر انہوں نے یہ رشتہ توڑ دیا بعدمیں انہیں لڑکے کے کیریکٹر کے متعلق تصدیق بھی ہوگئی۔ 
ڈاکٹر عابد علی منہاس نے آسٹریا میں سرکاری خرچ پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔2002 میں یہ میرے پاس آئے تھے اور مرشد آبادمیرے شیخ حضرت اللہ یارخانؒ کی قبر پر ذکر کی غرض سے بیٹھے تو انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے خرچ پر کسی فارن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت جی ؒ نے فرمایا کہ اس سال رہنے دو تم اگلے سال سرکاری خرچہ پر پی ایچ ڈی کے لیے باہر چلے جاؤ گے اور پھر واقعی اگلے سال باہر کے ملکوں میں سٹڈی کے لئے پی ایچ ڈی کی اسامیاں مشتہر ہوئیں۔ عابد علی مہناس نے ٹیسٹ انٹرویو دیا اور آسٹریا میں پی ایچ ڈی کی سٹڈی کیلئے گورنمنٹ آف پاکستان نے انہیں منتخب کرلیا۔ آسٹریا میں سٹڈی کے دوران ان کا دل اچاٹ ہوگیا اور یہ اپنے انگریز ٹیوٹرز کے روئیے کیو جہ سے مایوس ہوگئے ۔ ٹیوٹرز کے معاندانہ رویہ کی وجہ ا ن کی بڑے سائز کی شرعی داڑھی تھی۔ میں نے مرشد آباد جا کر حضرت جی ؒ کے سامنے عابد علی منہاس کی ڈاکٹریٹ کا مسئلہ پیش کیا اور انگریز ٹیوٹرز کے رویہ کی بھی شکایت کی۔ اس پر حضرت جیؒ نے مجھے فرمایا کہ تم ٹیوٹرز کوسامنے رکھ کر کچھ روزالقاء کرو وہ انشاء اللہ سیدھے ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ القاء کے بعد انگریز ٹیوٹرز کا رویہ عابد علی منہاس کے ساتھ ٹھیک ہوگیا اور یہ ان کے ہاتھوں سب سے اعلیٰ گریڈ میں ڈاکٹریٹ مکمل کرکے پاکستان لوٹے۔ آج کل بحریہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ 
میرے ایک اور ساتھی محمد سلیمان چشمہ میں ہوتے ہیں۔ ان کی بیٹی لاہور کسی ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہی تھی کہ بیمار پڑ گئی۔ بہت علاج کرایامگر صحت یاب نہ ہوسکی۔ میں ذکر کرانے کے سلسلہ میں چشمہ گیا تو وہ مجھے گھر لے گیا اور فرمائش کی کہ اس کے لیے کچھ لکھ دیں۔ میں نے تعویذ لکھنے شروع کئے۔ کل چالیس تعویذ لکھناتھے۔ جب چودہ پندرہ تعویذ لکھ چکا تو حضرت جی ؒ کی قبر سے آواز آنا شروع ہوگئی۔ فرمایا کوئی فائدہ نہیں۔ تمہارے چالیس تعویذوں تک یہ زندہ نہ رہے گی۔ چناچہ میں نے تعویذ لکھنا بند کردیئے۔ سلیمان صاحب نے کہا کہ آپ نے تو چالیس تعویذ لکھنا تھے۔ میں نے کہا کہ یہ تعویذ پلانا شروع کردو جب ختم ہوجائیں گے تو اور لکھ دوں گا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہی ہوا۔ وہ لڑکی چالیس دن تک مزیدنہ جی سکی اور اللہ کو پیاری ہوگئی۔ 
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُون۔
کئی ماہ گذر گئے اور ہم اپنے شیخ مکرم کے پاس مرشد آباد نہیں جاسکے تھے۔ انڈیا پاکستان کی افواج بارڈر پر آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ پھر اللہ کے فضل سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور دونوں ملکوں کی فوجیں پیچھے ہٹ گئیں۔ ایئر فورس بھی اپنے جہاز واپس اپنی بیسوں پر لے آئی۔ میانوالی بیس کے ساتھیوں نے رات دس بجے مجھے اپنا پروگرام بتایا کہ کل چونکہ فلائنگ نہیں ہے اورچھٹی ہے۔ لہٰذا صبح مرشد آباد چلیں گے۔ ان کا تین کاریں لے جانے کا پروگرام تھا یعنی کوئی چودہ پندرہ پائیلٹوں نے میرے ساتھ جانا تھا۔ صبح کے معمول سے فارغ ہونے کے بعدمیں ابھی جائے نماز سے اٹھا نہیں تھا کہ حضرت جی ؒ کی طرف سے کلام شروع ہوگئی ۔ آپ نے فرمایا کہ آج تم ایئر فورس کے پائیلٹوں کو میرے پاس مت لے آؤ۔ میں اٹھا اور تمام پائیلٹس کوبتادیا کہ آج حضرت جیؒ کے پاس جانے کا پروگرام نہیں بن سکا۔ ابھی آٹھ ساڑھے آٹھ بجے ہونگے کہ اچانک فائیٹر پائیلٹس کو اپنی اپنی جنگی پوزیشنوں پر جانے کے آرڈر مل گئے اس طرح وہ فوراً اپنی اپنی پوزیشنوں پر جہاز لیکر پہنچ گئے۔ اگر حضرت جی ؒ مجھے نہ روکتے تو بڑا مسئلہ بن جانا تھا۔ بیس والے پائیلٹس نے گیارہ بجے سے پہلے واپس نہیں آنا تھا۔ ایسے میں کہرام مچ جانا تھا کہ اتنے پائیلٹ ایک دم کہاں غائب ہوگئے اور پھر جہاز بھی اپنی اپنی جگہ نہ پہنچ پاتے۔ 
14اگست2003کو ونگ کمانڈر (ایئر کموڈور)ْ ضیاء خان کے ساتھ میں مرشد آباد گیا۔ ہمارے ساتھ پانچ چھ اور آفیسرز بھی تھے۔ ضیاء خان دو سال قبل14 اگست ہی کو میرے ساتھ مرشدآباد آئے تھے۔ حضرت جیؒ نے فرمایا کہ ضیاء خان کو بتاؤ کہ اس نے بہت انتظار کرایا۔ پھر فرمایا کہ ابھی تمہیں نہیں معلوم کہ انتظار کیاہوتا ہے۔ کل جب تم مرو گے اور برزخ میں پہنچو گے اور تم اپنوں کا انتظار کروگے اور وہ نہیں آئیں گے تو تب تمہیں پتہ چلے گا کہ انتظار کیا ہوتا ہے۔ اس بات پر ضیاء خان آبدیدہ ہوگئے ۔ کہنے لگے مجھے نہیں معلوم تھا کہ حضرت جی ؒ کے دل میں میرے لئے اس قدر جگہ ہے۔ حضرت جی ؒ کو اس بات کا بھی رنج تھا کہ مولانا اکرم صاحب نے جماعت کے ساتھیوں کو مرشد آباد آنے سے روک دیا تھا۔ 
میں جنوری 2003میں کسی کام کے سلسلے میں ایئر وائس مارشل عبدالرزاق کی سرکاری قیام گاہ پر اسلام آباد گیا۔ میرے ساتھ ونگ کمانڈر (ایئر کموڈور) فضل محمود بھی تھا ۔ بڑا عالیشان گھر تھا۔ ہم اندر سے ایئر وائس مارشل عبدالرزاق کے باہر نکلنے کے منتظرکھڑے تھے کہ حضرت جی ؒ کی مجھ سے کلام شروع ہوگئی۔ فرمایا کہ یہ شخص اس گھر میں تھوڑے دنوں کا مہمان ہے ۔ میں سمجھا کہ شاید یہ کسی دوسری جگہ پوسٹ ہوکرچلاجائے گا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے تصوف کو زیادہ گہرائی میں سٹڈی کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔ مگر مشیت ایزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ شاید ملک الموت کو اسے دار دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الگ کرنے کا حکم مل چکا تھا۔ ایئر وائس مارشل عبدالرزاق اپنے ماں باپ کو سوگوار کرکے ہزاروں لوگوں کو آنسوؤں اور سسکیوں کا تحفہ دے کر خود برزخ سدھار گئے۔ 
ایک دفعہ کرنل نسیم اپنے بیٹوں کیپٹن اشفاق اور طہٰ کے ہمراہ پنڈی سے میرے پاس تشریف لائے۔ مرشد آباد حاضری کے بعد جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو کیپٹن اشفاق میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ انکل میں نے حضرت جیؒ سے ایک درخواست کی ہے اس کا جواب تو حضرت جیؒ سے پوچھ کرمجھے بتادیں۔ میں نے اسے بتایا کہ اور تو مجھے نہیں پتہ مگر ایک بات حضرت جیؒ نے مجھے تمہارے ابو (کرنل نسیم) سے کرنے کو کہی ہے۔ وہ اصرار کرنے لگا کہ انکل وہ بات آپ ابھی میرے سامنے ابو کو بتائیں۔ اس پر میں نے کرنل نسیم کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا اور اس کو کہا کہ حضرت جیؒ نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ کو بتاؤں کہ تم فوراً کیپٹن اشفاق کی شادی کردو۔ یہ بات جب کیپٹن اشفاق نے سنی تو وہ کہنے لگا کہ انکل مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ میں نے حضرت جیؒ سے اپنی شادی کے بارے میں ہی درخواست کی تھی۔ 
مئی2013 کو میرا گروپ کیپٹن رضوان حیدر اور ان کی فیملی کے ساتھ مرشد آباد میں رات گزارنے کا پروگرام تھا۔ 11 مئی کو انتخابات ہونا تھے۔ ہر طرف عمران خان کے سونامی کا شور تھا۔ میڈیا کے تجزیوں کے مطابق تو لگتا تھا کہ عمران خان الیکشن سویپ کر جائے گا اور اگلا وزیر اعظم بھی وہی ہو گا۔ شام کو جب ذکر کرنے کے لئے حضرت شیخ المکرم کی قبر کے پاس آکربیٹھے تو رضوان صاحب نے مجھ سے کہا کہ اب تو بتا دیں کہ پاکستان کا اگلا وزیر اعظم کون ہوگا۔ میں نے کہا کہ حضرت شیخ المکرم سے پوچھ لیتے ہیں کہ الیکشن کے بعد کون وزیر اعظم بنے گا۔ حضرت جیؒ سے جب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اگلا وزیر اعظم نواز شریف ہوگا۔ ہم نے یہ بھی پوچھا کہ ہم لوگ ووٹ کس کو دیں تو حضرت شیخ المکرم نے فرمایا کہ عمران خان کو ووٹ نہ دینا وہ دین دار نہیں ہے۔

 

 


 

 

Conversation with Spirits

 

Major (Retd) Ghulam Muhammad

 

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَلّذِیْ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَھدٰنَا اِلیٰ دِیْنِ اْلاِسْلَام

(Praise be to Allah who blessed us with rewards and guided us on Deen-e-Islam.)

I state before you that my Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRehmatullah Alaih visited Karachi in 1970. I was also with him. Our stay had been arranged at a living quarters that belonged to the Navy. In the evening, Hazrat JeeRA was describing some aspects of Syed Ahmed Rafai'sRA life. He said that Allah had blessed Syed Ahmed RafaiRA with the power that when delivered a sermon, everyone heard him equally loud regardless of the distance between them and him. Whenever anyone came to visit him and he did not have anything to serve the guest, he would ask the visitor: "ask me to pray for you, as I am on the example of the Holy ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam at this time".

When Syed Ahmed RafaiRehmatullah Alaih went for Hajj and presented himself at the shrine of the ProphetSall-Allahu-alaih-Wasallam, he addressed the MessengerSAW and said: "O Prophet of AllahSAW, I keep presenting myself before you spiritually. Today, I have come here physically. Please extend your blessed hand out of the grave, so that I may kiss it and satiate the thirst of my love that I have for you." Upon this, the Prophet'sSAW sacred hand came out of the grave so that Syed Ahmed RafaiRA could kiss it. Hence, Syed Ahmed RafaiRA kissed the Prophet'sSAW blessed hand and the thousands of people who were present there witnessed this scene. A few other fortunate ones who were present nearby also got the opportunity to kiss the Prophet's hand.

"What is the proof of this incident?" inquired a person who was attending Hazrat Jee'sRAsermon. We did not like his question. Hazrat JeeRA asked him: "are you legitimate or illegitimate?" He replied that he was legitimate. Hazrat JeeRA asked him if he had any proof. He said that the wedlock between his mother and father was the proof. "What is the proof of the wedlock between your mother and father?" asked Hazrat JeeRA. He said that the proof of the wedlock was the two witnesses that were present on the occasion. Upon this, Hazrat JeeRA said: "how strange, that the wedlock between your mother and father has just two witnesses, and nobody challenges its authenticity. But you ask for the proof of an incident for which there are thousands of witnesses. You ought to know that the most credible eyewitness of this incident is Shaykh Abdul Qadir JilaniRA. Tell me the truth about who you are. He told that he belonged to the Jamaat Islami[1]. Hazrat JeeRA said that the people of Jamaat Islami do not believe in Hayat-e-Anbiya and Conversing with Spirits. What was he doing there in the first place? Hazrat JeeRA asked him to leave.

This was 2004 when my Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRA said to me: "Son, if you want to communicate continuously with me in my grave, and your health permits, you should adopt a Chilla for 40 days in order to enhance the lightness of your spirit. During this Chilla, you should stay awake and pray during the nights and stay thirsty during the days (i.e. fast)". Following the word of my Shaykh, I went into the Chilla for 40 days, from April 25 to June 3. This made a huge difference to my Kashf and Conversation with Spirits, which became much clearer. Hazrat JeeRA said that the Sufis had been practicing this through every age, although I would not have needed it had Hazrat JeeRA been alive. I keep speaking with my Shaykh in his grave from time to time. I quote a few instances.

This was probably 2003. One of my fellows Squadron Leader Salman Ahmed and his wife Doctor Nosheen called me on telephone from Lahore and requested to ask Hazrat JeeRA for his permission for them to visit him. HAzrat JeeRA said that they could both come. After a few days, they came to Mianwali from Lahore. They stayed at the PAF Base for the night and came to me in Wan Bhachran in the morning to take me with them.  Right at that time, my spiritual conversation with Hazrat JeeRA started. Hazrat JeeRA asked me to stop Dr Nosheen (Mrs Salman Ahmed) from coming and leave her at my home. I became worried and started thinking whether my previous Conversation was correct, in which Hazrat JeeRA had granted the permission, or this one, in which he was declining her. Why had he allowed first and then forbidden?  Dr Nosheen stayed back. When both of us reached Danda Shah via Moosa Khail, we found out that it had been raining the whole night and the whole area had become submerged in water. The earthen track leading to Murshed Abad from there had become un-drivable, and after going two or three kilometers, we had to leave our car there and walk through rainwater and mud all the way. It was then that I realized why Hazrat JeeRA had stopped Dr Nosheen from coming. A few months after that, the two of them came to Murshed Abad again. This time, they requested for Hazrat Jee'sRA permission to adopt a child. Hazrat JeeRA asked me to tell them that they were going to have their own child, why adopt? Actually, the two of them had been married for six or seven years at the time, and they did not have a child. They therefore did not adopt a child after Hazrat Jee forbade it. Later, they became the parents of two daughters who are studying in a school these days.

Another companion of mine Amir Jalal is a pilot in an airline. His younger brother Kashif is a Lecturer in one of the universities at Jeddah. Kashif had been speaking to an expat Pakistani family living in America, and had reached an understanding for a marriage of exchange for himself and his sister. (His sister would marry their son and he would wed their daughter). Later on, that family came to Pakistan and met the boy and the girl, whom they liked and finalized the arrangement. When I spoke to Hazrat JeeRehmatullah Alaih about this marital arrangement, he asked me to stop Kashif from going ahead. He said that the boy to whom his sister was to be wed did not possess a good character. When I told them this, they cancelled the arrangement. The information about the boy's character was later on confirmed too.

Doctor Abid Ali Minhas received his doctorate degree from Austria on government expense. He visited me in 2002. As we sat beside my Shaykh Hazrat Allah Yar KhanRA's grave in Murshed Abad for Zikr, he expressed his intention to go for PhD in a foreign university at his own expense. Hazrat JeeRA told him to wait for that year, as he would be sent abroad for PhD on government expense the next year. And it really so happened that PhD vacancies were advertised the next year for foreign study. Abid Ali Minhas appeared in the test and interview and the Government of Pakistan selected him for doing PhD in Austria. While studying in Austria, he became disinterested and lost heart because of the biased behavior of his instructors. The reason was his large Sharai[2] beard. I went to Murshed Abad and presented the issue of his doctorate before Hazrat JeeRA, and also complained about his instructors' behavior. Hazrat JeeRA told me to keep those tutors before me and do Alqa[3] upon them for a few days. Insha-Allah, they will come on track. And so, it happened. After the Alqa, the tutors' behavior with Abid Ali Minhas improved, and he returned to Pakistan after completing his doctorate and securing the highest grade from the same instructors. He is a professor at the Bahria University these days.

Another one of my companions Muhammad Suleman lives in Chashma. His daughter was doing her house job at a hospital in Lahore when she fell sick. Her condition did not improve even after her extensive treatment. When I went to Chashma to conduct Zikr, he took me to his home and requested me to write something for his daughter. I started inscribing the Taweez[4]. I was going to write 40 of them. When I had written fourteen or fifteen, I started hearing Hazrat Jee's voice coming from his grave. He said it was no use. She would not survive till she could take all forty of them. So, I stopped writing. Suleman sahib said that I was going to write 40 of them. I said he should give her these Taweez, and I'd write more when these are finished. Allah had planned it like that. The girl could not survive for 40 days and met Allah before that. Inna Lillahe wa Inna Alaihe Rajeoon. (Indeed we are from Him and to Him we shall return.)

Several months had passed since we had visited our respected Shaykh in Murshed Abad. The armies of India and Pakistan were facing each other on the borders. Then, by Allah's grace, the risk of war was averted and the armies of both the countries retreated. The Air Force also flew the aircraft back to their home bases. My friends from Mianwali Base informed me at 10 p.m. that there was no flying the next day, so they had planned to pick me up and go to Murshed Abad. They had planned to take three cars, which meant that about 14-15 pilots were going to accompany me.  I had still not gotten up from the prayer rug after my morning routine that conversation with Hazrat JeeRehmatullah Alaih started. He asked me not to let the Air Force pilots come to him on that day. I got up and informed all the pilots that the program had been cancelled for the day. It was hardly 8 or 8:30 a.m. when the pilots received the orders to fly to their forward operating bases. They immediately flew their aircraft to their respective wartime positions. Had Hazrat JeeRehmatullah Alaih not stopped me, a big issue would have been created. The pilots could not have returned to the base before 11 a.m. It would have been a fiasco with so many pilots suddenly disappearing, and the aircraft could not have been dispersed too.

On August 14, 2003, I visited Murshed Abad with Wing Commander (Air Commodore) Zia Khan. Five or six other officers also accompanied us. Zia Khan had come to Murshed Abad with me on August 14 two years ago. Hazrat JeeRehmatullah Alaih asked me to tell Zia Khan that he had made Hazrat Jee wait for too long. He then said: "You don’t know yet what waiting is. When you'll die and come to the Barzakh, and you'll wait for your loved ones and they won't come, only then you'll realize what waiting is". Upon hearing this, Zia Khan's eyes brimmed with tears. He said he didn’t know Hazrat JeeRehmatullah Alaih had so much love for him. Hazrat JeeRehmatullah Alaih was also aggrieved by the fact that Maulana Akram Awan had stopped his followers from visiting Murshed Abad.

It was in January 2003 that I visited Air Vice Marshal Abdul Razzaq's official residence in Islamabad regarding some matter. Wing Commander (Air Commodore) Fazal Mehmood was also with me. It was a palatial house. We were waiting for AVM Abdul Razzaq when my conversation with Hazrat JeeRehmatullah Alaih started. He said that this man (AVM Abdul Razzaq) was going to stay in that house for just a few more days. I thought that maybe he'd be transferred elsewhere. During our meeting, he also expressed his intention to study Tasawwuf more deeply, but God had other plans. Probably, the Angel of Death had already received the orders to take him away from this world forever. Air Vice Marshal Abdul Razzaq departed for the Barzakh leaving behind his grieving parents and bringing tears to thousands of eyes.

Once upon a time, Colonel Naseem came to me with his sons Captain Ashfaq and Taha. Captain Ashfaq moved closer to me when I was parting with them after presenting ourselves at Murshed Abad. He told me that he had made a request to Hazrat Jee and wanted me to tell him what Hazrat Jee was saying about his request. I told him that I didn’t know what he had said to Hazrat JeeRehmatullah Alaih, but there was something that HAzrat JeeRehmatullah Alaih had asked me to tell his father (Col Naseem). He started insisting that I should tell that thing to his father right there in his presence. I called Col Naseem to me and told him that Hazrat Jee had asked me to tell him that he should immediately arrange for Captain Ashfaq's marriage. When Captain Ashfaq heard this, he said, "Uncle, I got the answer to my request. I had in fact requested Hazrat Jee about my marriage".

I had planned to spend the night of May 2, 2013 at Murshed Abad with Group Captain Rizwan Haider and his family. The General Elections were going to be held on May 11. Imran Khan's Tsunami appeared widely popular. It seemed that Imran Khan will sweep the elections and become the next Prime Minister. In the evening, when we sat by Hazrat Shaykh-ul-Mukarram's grave for Zikr, Rizwan asked me who was going to be the next Prime Minister of Pakistan. I said, "Let's ask Hazrat Shaykh-ul-Mukarram[5] who will become the Prime Minister after the elections". When I asked Hazrat JeeRehmatullah Alaih, he said that Nawaz Shareef was going to be the next Prime Minister. We also asked who we should vote for. Hazrat Shaykh-ul-Mukarram asked us not to vote for Imran Khan, as he is not a religious minded person.

 



[1] A political party in Pakistan

[2] Conforming to the Shariah, the Islamic code

[3] It's a term of Sufis. It means casting down the Lights from one's Destination upon the seeker or anyone else.

[4] Inscriptions meant for healing an illness, repel the Jinn, or for other purposes

[5] The Honorable Shaykh

 

Back to Top