Silsila Awaisiah (Naqshbandia Owaisiah)

Click here for ENGLISH

 

سلسلہ اویسیہ

دلائل السلوک، حضرت مولانا اللہ یار خان سے ماخوذ

 

سلسلہ سے کیا مراد ہے 

 

اس وسیع کائنات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (التین) اور ولقد کرمنا بنی اٰدم کا شرف عطا فرما کر اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا اور اسے خلافت ارضی کا منصب جلیلہ سونپا۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار نہیں لیکن انسان کو جس خصوصی نعمت سے نوازا گیا، وہ انبیاء کرام کے ذریعے اس کی ہدایت کا سامان ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جہاں الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی کا اعلان فرمایا وہاں اہل ایمان کو اپنا یہ احسان بھی یاد دلایا کہ لقد من اللہ علیٰ المومنین اذ بعث فیھم رسولا منھم(۴:۱۶۴) اور  اس آخری رسول کے ذریعے اللہ کی اس نعمت سے مستفید ہونے کی ایک صورت یہ مقرر کی کہ یہ رسول ان کا تزکیہ باطن اور ان کی روحانی تربیت کرتا ہے۔

 

حضور اکرم ﷺ نے تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ اپنے جلیل القدر شاگردوں یعنی صحابہ کرامؓ کی اس طرح تربیت کی اور تزکیہ باطن کے وہ نمونے پیدا کئے کہ رہتی دنیا تک اس کی نظیر نہیں مل سکتی جس طرح تعلیم کتاب اور تدوین شریعت کا یہ سلسلہ صحابہ کرامؓ کی جماعت سے آگے منتقل ہوتا چلا آیا۔ اسی طرح تزکیہ باطن اور تربیت روحانی کا طریقہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضور اکرم ﷺ سے سیکھ کر آئندہ نسلوں کو پہنچایا اور مختلف ادوار کے تقاضوں کے مطابق تدوین حدیث و فقہ کی طرح تزکیہ و تصوف کے پہلو کی تدوین منظم صورت میں عمل میں آئی۔

 

اول اول تو یہ صورت تھی کہ جو صحابی یا تابعی جہاں پہنچا، معاشرے کی تربیت شروع کردی۔ بعد میں دین کا یہ پہلو جب منظم ہوا تو تربیت و تزکیہ کے چار بڑے سلسلے ہمارے ہاں رائج اور مقبول ہوگئے۔ جنہیں سلسلہ قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور چشتیہ کہتے ہیں، ان سلسلوں میں تربیت روحانی کا بنیادی اصول ایک ہی رہا ہے اور وہ ہے ذکر الٰہی کی کثرت، البتہ ذکر الٰہی کے طریقوں میں ہر صاحب سلسلہ نے مختلف رنگ اختیار کیا، اس طرح طریقہ کار میں جزوی اختلاف کی وجہ سے چار بڑے طریقے (یا سلسلے) مسلمانوں میں رائج ہوگئے۔ ممکن ہے طریق تربیت میں اختلاف آب و ہوا مزاج اور طبائع کے اختلاف کی وجہ سے انتخاب کیا گیا جیسے ایک ماہر طبیب ایک ہی دوا مختلف مزاج والے مریضوں کو مختلف صورتوں میں دیا کرتا ہے۔ 

سلاسل تصوف کے دو اہم پہلو

ان چاروں سلسلوں میں دو پہلو ہمیشہ جاذب توجہ رہتے ہیں، اول یہ کہ اس سلسلے میں طریقہ تربیت باطنی کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ کسی سلسلے کے شیخ کو یہ فن حضور اکرم ﷺ سے کن واسطوں سے پہنچا۔ اسی پہلو پر نگاہ رکھتے ہوئے یہ بات لازما سامنے آجاتی ہے کہ ہر شیخ نے یہ فن اپنے شیخ کی صحبت میں رہ کر اس سے سیکھا ہوگا اور اس کے شیخ نے اسے ایک خاص درجے تک تربیت کرنے کے بعد دوسروں کی تربیت کرنے کی اجازت دی ہوگی۔ اس اجازت نامے کو صوفیاء کی اصطلاح میں خرقہ کہتے ہیں۔ خواہ اس کی صورت کوئی بھی ہو۔ اگر کسی شیخ کے متعلق یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے کسی کامل سے اس کی صحبت میں رہ کر فیض حاصل نہیں کیا اور اجازت نامہ نہیں لیا تو اس کا سلسلہ منقطع شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں اتصال اور تسلسل نہیں پایا جاتا۔ 

بظاہر یہ بات قاعدہ کلیہ کی صورت میں سامنے آتی ہے، حقیقت میں یہ قاعدہ اکثر یہ ہو سکتا ہے، مگر قاعدہ کلیہ نہیں کیونکہ اول تو روحانی تربیت روح کا معاملہ ہے اور روح سے اخذ فیض یا اجرائے فیض کا انحصار بدن کے اتصال پر نہیں، اس کی مثالیں صوفیائے کرام میں جا بہ جا ملتی ہیں۔ مثلا ابو الحسن خرقانی کو حضرت بایزید بسطامی سے روحانی فیض بھی ملا، اجازت تربیت بھی ملی۔ اور آپ کے خلیفہ مجاز بنے، حالانکہ با یزید بسطامی ان سے قریبا ایک سو سال پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے تھے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابو الحسن خرقانی نے اپنے شیخ حضرت بایزید بسطامی کا نہ تو زمانہ پایا نہ ان کی صحبت میں رہے، نہ ان سے تربیت و اجازت ملی تو پھر اس کی صورت اس کے بغیر کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی روح سے فیض اور خرقہ حاصل کیا۔ 

اویسی طریقہ

روح سے فیض حاصل کرنے کو اصطلاح صوفیہ میں اویسی طریقہ کہتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ یہ سلسلہ حضرت اویس قرنیؒ سے ملتا ہے بلکہ اویسیہ سے مراد مطلق روح سے فیض حاصل کرنا ہے۔ چونکہ روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض دونوں صورتیں ہوتی ہیں، اس لئے سلسلہ اویسیہ کی یہی دونوں خصوصیات ہیں۔ اس اصطلاح کو حضرت اویس قرنی سے اگر کوئی نسبت ہو سکتی ہے تو شاید اس بناء پر کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ بلکہ حضور ﷺ کی روح پر فتوح سے اخذ فیض کیا تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ پہلے اویس تھے۔ 

ہمارے سلسلے کا نام نقشبندیہ اویسیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے شاگردوں کی تربیت نقشبندیہ طریقہ کے مطابق کرتا ہوں۔ اور میں نے اپنے محبوب شیخ رحمۃ اللہ کی روح سے اخذ فیض اور اجازت لی ہے۔ میرے اور میرے شیخ مکرم کے درمیان کوئی ۴۰۰ سال کا فاصلہ ہے، میں نے اسی اویسی طریقہ سے اپنے شیخ کی روح سے فیض بھی حاصل کیا، خلافت بھی ملی، اور بحمد اللہ میرے محبوب شیخ کا فیض تربیت اس وقت دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل رہا ہے۔ 

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ھمعات ص۸۶ پر سلسلہ اویسیہ کی خصوصیات کا ذکر فرمایاہے ’’ایں فقیر را آگاہ کردہ اند کہ طریقہ جیلانیہ بمنزلہ جوئے است کہ مسافتے بر زمین میرود ومسافتے دیگر در زمین مستترمی گردد در مسام زمین نفوذ میکند۔ بعد ازاں بوضع چشمہ باز ظاہری شود و مسافتے بر روئے زمین رود ثم ہکذا ہکذا۔  ’’و تسلسل خرقہ دریں طریقہ اگر متصل است اما تسلسل اخذ نسبت دریں طریقہ متصل نیست یک بار سلسلہ ظاہر میشود بعد ازاں مفقود میگردد باز بطریق اویسیہ ازباطن کسے ظہور می نماید ایں طریقہ بحقیقت ہمہ اویسیہ است ومتوسلان ایں طریق در روحانیاں علو و مہابتے وارند‘‘۔ وامالقادریۃ فقریبۃ من الاویسیہ الروحانیہ۔ 

(۱) خلاصہ یہ ہے کہ جیسے پانی زیر زمین موجود رہتا ہے کسی وقت چشمہ کی صورت میں باہر ابل پڑتا ہے اور زمین کو سیراب کرتا ہے اسی طرح حقیقی تصوف و سلوک بھی کبھی کبھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کی ذات کے واسطہ سے تصوف و سلوک کا چشمہ ابل پڑتا ہے اور ایک مخلوق کے قلوب کو سیراب کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سلسلہ اویسیہ ظاہر میں متصل نہیں ہوتا۔ مگر حقیقت میں وہ متصل ہوتا ہے۔ جو لوگ روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض سے واقف نہیں ہوتے وہ بے چارے اس اتصال کی حقیقت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اور اخذتہ العزۃ بالاثم کے تحت جاہلانہ اعتراض کے بغیر کچھ کر نہیں پاتے۔ 
(۲) حضرت امام الہند کی عبارت سے یہ معلوم ہوا سب سے زیادہ زود اثر سلسلہ اویسیہ ہے کیونکہ روحانی سلسلہ ہے پھر قادریہ ہے۔ 
(۳) یہ بھی معلوم ہوا کہ سلسلہ اویسیہ کے متوسلین بڑی عظمت اور ہیبت کے مالک ہوتے ہیں۔ 

 

ھمعات میں ص۶۳ پر اسی وجہ سے فرمایا کہ ’بسااست کہ اویسی عالم ارواح است اجمالا‘ یعنی سلسلہ اویسیہ عالم ارواح ہے۔ پھرحضرت شاہ ولی اللہؒ ہمعات ص۲۱ پر فرماتے ہیں۔

مشائخ عظام میں ایک سلسلہ اویسیہ بھی ہے جس کے سردار خواجہ اویس قرنی ہیں ان کو حضور اکرم ﷺ سے روحانی طور پر فیض حاصل ہوا۔ اور شیخ بدیع الدین کو بھی حضور اکرم ﷺ سے روحانی طور پر فیض ملا اور وہ ہندوستان کے کبار مشائخ سے ہوئے ہیں۔ 

معلوم ہوا کہ
(۱) اویسی وہ ہوتا ہے جسے کسی ولی اللہ کی روح سے فیض حاصل ہوا ہو۔ 
(۲) بڑے بڑے اولیاء اللہ اس سلسلہ اویسیہ کے طریقہ سے فیض لیتے رہے ہیں۔ 
(۳) اس سلسلہ والے حضور اکرم ﷺ کی روح پر فتوح سے بھی فیض لیتے ہیں۔ 

بحمد اللہ کہ اس فقیر کو اب بھی حضور اکرم ﷺ کی روح پر فتوح سے فیض حاصل ہو رہا ہے۔ 

 

سلسلہ اویسیہ پر اعتراض

اس سلسلے کے متعلق اصل بات جو نہ جاننے والوں یا نادانوں کو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ کیا روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض ہو سکتا ہے؟ اس کے جواب کی دو ہی صورتیں ہیِ یا تو جاننے والوں پر اعتماد کرو یا اس بحر میں خود اتر کر دیکھو۔ دوسری صورت تو وہی اختیار کر سکتا ہے جس میں طلب اور خلوص ہو۔ البتہ پہلی صورت کے سلسلے میں چند ایک مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ 

(۱)فتاویٰ عزیزیہ ۱:۹۳ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی۔ سوال: کسے صاحب باطن یا صاحب کشف بر قبور ایشاں مراقب شدہ چیزے از باطن اخذ مین تواند یا نہ؟ ’’کوئی صاحب باطن یا صاحب کشف کسی ولی اللہ کی قبر پر جاکر مراقبہ کرے تو اس سے روحانی فیض لے سکتا ہے یا نہیں‘‘؟
جواب : می تواند نمود۔ ’’ہاں لے سکتا ہے‘‘۔ 
فتویٰ کی زبان میں اختصار ملحوظ ہوتا ہے اس لئے حضرت نے مختصر جواب دیا۔ اس کی تفصیل شفاء العلیل ص۱۷۸ پر دی ہے۔ ’’مولانا نے فرمایا کہ میں نے حضرت ولی نعمت یعنی مصنف سے پوچھا کہ شیخ ابو ولی فارمدی کو کہ ابو الحسن خرقانی کے ساتھ نسبت رکھتے ہیں، ان کا اس رسالہ میں کیونکر ذکر نہ کیا، فرمایا کہ یہ نسبت اویسیہ کی ہے یعنی روحی فیض ہے۔ اس رسالہ میں غرض یہ ہے کہ نسبت صحبت کی من و عن عالم شہادت میں جو ثابت ہے مذکور ہو، لیکن اویسیت کی نسبت قوی اور صحیح ہے‘‘۔ 


شیخ ابو علی فارمدی ؒ کو ابو الحسن خرقانی ؒ سے روحی فیض ہوا ہے ان کو بایزید بسطامی ؒ کی روح سے اور ان کو امام جعفر صادق ؒ کی روحانیت سے تربیت ہے چنانچہ رسالہ قدسیہ میں خواجہ محمد پارسا ؒ نے ذکر کیا ہے کہ ’’امام جعفر صادق کو اپنے نانا حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر سے نسبت حاصل ہوئی ہے ان کو حضرت سلمان فارسی سے، ان کو حضرت ابو بکر صدیق سے اور ان کو حضور اکرم ﷺ سے‘‘ 

(۲)تذکرۃ الرشید حصہ دوم ص۱۰۸۔خواجہ ابو علی فارمدی کو نسبت اویست حاصل ہے۔ ابو الحسن خرقانی کے ساتھ، اور ان کو بایزید بسطامی سے روحی فیض پہنچا۔ اور ان کی تربیت امام جعفر صادق کی روحانیت سے ہوتی اور امام جعفر صادق کو اپنے نانا قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق کے ساتھ انتساب حاصل ہے اور ان کو حضرت سلمان فارسیؓ اور آپ کو خلیفہ رسول اللہ صدیق اکبر ابو بکر بن ابی قحافہ کے ساتھ، اور حضرت صدیق نے جو کچھ حاصل کیا، سرور عالم محمد مصطفی ﷺ سے حاصل کیا۔ اس نسبت اویسیت کو صدیقیہ، نقشبندیہ نظامیہ قدوسیہ کہتے ہیں۔ 


حضرت امام ربانی قدس سرہ کا تربیت باطنی و فیوضات روحانی میں قطب العالم شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہ کی ذات بابرکات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھنا نسبت اویسیہ و فیضانِ روحانیہ کے علاوہ اس لئے بھی ہے کہ سلاسل اربعہ مشہورہ میں حضرت شیخ کا واسطہ غالبا قائم ہے (ایضا ص۱۰۹) 

(۳)فتاویٰ دار العلوم دیوبند۔ ۱:۱۴۰ پر شفاء العلیل کی یہ عبارت نقل کرکے لکھا ہے ’’اس عبارت سے واضح ہوا کہ نسبت اویسیہ کے معنی روحی فیض کے ہیں۔ اور یہ نسبت قوی اور صحیح ہے، یہ بھی معلوم ہو کہ نسبت اویسیہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ خواجہ اویس قرنی سے کوئی مرید ہوا ہو۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ نسبت اویسیہ کا انکار غلط ہے، چونکہ اویس قرنی کو آنحضرت ﷺ سے روحی فیض حاصل ہوا اور صحبت آنحضرت ﷺ کی ان کو حاصل نہیں ہوئی ...... اس لئے جس کو روحی فیض کسی بزرگ سے حاصل ہوگا اس کو نسبت اویسیہ سے تعبیر کریں گے۔‘‘

(۴)عقائد علمائے دیوبند، مرکزی رسالہ ہے، جس پر مسلک دیوبندی کا مدار ہے اس میں سوال نمبر ۱۱ روح سے فیض باطنی کے متعلق ہوا ہے اور علمائے دیوبند نے مفصل جواب دیا کہ وہ روح سے باطنی فیض کے قائل ہیں اور صرف قائل نہیں بلکہ :

واما الاستفادۃ من روحانیۃ المشائخ الاجلۃ ووصول الفیض الباطنیۃ من صدورھم او قبورھم صحیح علی الطریقۃ  المعروفۃ فی اھلھا وخواصھا لا بما شائع فی العوام۔

بہر حال مشائخ سے روحانی فیض حاصل کرنا اور فیض باطنی کا پہنچنا ان کے سینوں سے یا ان کی قبروں سے صحیح ہے، اس مشہور و معروف طریقے سے جو ان اولیاء و صوفیہ میں مروج ہے اور خاص خاص بندوں کو حاصل ہوتا ہے۔ وہ طریقہ نہیں جو عوام میں مروج ہے۔ 

یہ تو روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض کے علمی جوابات ہیں۔ رہی دوسری صورت تو وہ ذوقی چیز ہے، لطف ایں مے نشاسی بخدا تانہ چشی، اگر کوئی اللہ کا بندہ یہ ذوقی جواب بھی چاہتا ہے تو صلائے عام ہے۔ طلب اور خلوص لے کر آجائے اور ممکن اور محال میں تمیز کرے۔ ورنہ صرف باتیں بنانے سے وہ حاصل نہیں ہو سکتا جو عملی طور پر کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ 

لباس فہم بر بالائے او تنگ سمندوہم در صحرائے اولنگ 
نہ چندی گنجد آنجا و نہ چونی فروبند لب از کم دزفزونی؟ 


مشائخ اور علمائے حق کی توضیحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ روح سے اخذ فیض اور اجزائے فیض صرف ممکن ہی نہیں ، بلکہ امر واقع ہے۔ اور امام الہند کے کلام سے معلوم ہوگیا کہ سلسلہ اویسیہ میں روح سے اخذ فیض ہوتا ہے اور اس کے لئے اتصال ظاہری شرط نہیں، ہاں اتصال نسبت ضرور ہوتا ہے۔ یہی نسبت اویسیہ ہوتی ہے۔ 

 

ایک دلچسپ مکالمہ

ملتان کے ایک مشہور پیر صاحب نے ہمارے حلقہ کے ایک مولوی صاحب سے فرمایا کہ آپ کا سلسلہ متصل نہیں ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت! جس سلسلہ میں شیخ اپنے شاگرد کی روحانی تربیت اس طرح کرے کہ اس کے زمان و مکان کی قید اٹھ جائے اور اسے عالم برزخ میں پہنچا کر حضور اکرم ﷺ کے سامنے پیش کردے۔ اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک میں اپنے شاگرد کا ہاتھ دے کر یہ منظر دکھا دے کہ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ وہ سلسلہ تو ٹھیرا منقطع اور جس سلسلے کے شیخ کے پاس مرید مدتوں رہے اور ساری عمر اس کے پاس آنے جانے میں کھپادے اور شیخ میں اتنا نور بھی نہ ہو کہ مرید کے لطیفہ قلب کو ہی منور کرسکے وہ سلسلہ ٹھیرا متصل۔ قربان جائیئے اس اتصال پر۔ جن لوگوں کی بایں جبہ و قبہ حضور اکرم ﷺ تک رسائی نہ ہو ان کا سلسلہ متصل اور جو اللہ کا بندہ ایک دو نہیں سینکڑوں شاگردوں کو دربار نبوی ﷺ تک پہنچائے اس کا سلسلہ منقطع۔ آپ کو یہ اتصال مبارک جو آپ کو نبی کریم ﷺ کے قریب ہی نہ پھٹکنے دے۔ اور ہمیں یہ انقطاع اچھا جو دربار نبوی ﷺ میں پہنچا کر حضور دائمی عطا کردے۔ کسی ایسے منظر ہی کو دیکھ کر کہنے والے نے کہہ دیا۔ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن 
اللہ تعالیٰ دین کا صحیح فہم عطا فرمادے تو بڑی نعمت ہے۔


 

THE OWAISIAH SILSILA

What is Silsila in Islamic Tasawwuf (Sufism)?

In the Holy Quran, the creation of mankind has been described in these solemn words: "Surely, We created man of the best stature," and "Verily, We have honored the children of Adam". This means that Allah has honored mankind with the position of His Caliph on Earth. Out of His countless bounties, the most supreme blessing is the Guidance that He has arranged to provide through His Prophets. The last of them is Prophet Muhammad ﷺ, and with him, the true faith was perfected. "This day I have perfected your religion for you and completed My favor unto you". The believer is reminded of this kindness: "Allah has verily shown grace to the believers by sending to them a Messenger of their own". Elaborating His grace He says: "he recites to them the revelations, makes the pure (spiritually), and teaches them of the Book and the wisdom." The execution of this mission by the Holy Prophetﷺ produced such perfect models of humanity the like of which would not be seen until the Doomsday. They were the Companions, who compiled the Shariah, and passed down the teaching of Scripture and the methods of spiritual purification and growth to the succeeding generations.

In the beginning, a Companion or Tabaee (the generation that succeeded the Companions) would carry the comprehensive message of Islam wherever they went, and would undertake the reformation of the society according to the tenets of the Deen. But, with the passage of time, the different aspects of the Prophet's mission were organized under different titles. The part of the mission pertaining to the spiritual purification and growth (Tasawwuf and Salook) was organized in the shape of the four well-known Sufi Orders, namely Qadriah, Naqshbandiah, Suhrwardiah, and Chishtiah Silsilas. The basic principle in all of these Orders (or Silsilas) was the same, which is to remember Allah profoundly, but the methods were different. It is possible that the variation in methods (Tareeqas) was due to the difference in the temperaments, habits and geographical displacement of the practitioners of these Sufi Orders, just as an expert physician prescribes the same medicines in different doses depending upon the temperament and physiology of the patients.

The Two Basic Qualities of All Sufi Orders

Despite the minor differences, there were two basic principles that remained common among all the four major Sufi Orders. First, the method of inner purification always involved Zikr-Allah, and second, the chain of transmission or succession (called Shajra) extended right up to the Holy Prophet ﷺ. Every Sheikh (or guide) in any Silsila learned the art of Sufism (Tasawwuf) from his immediate predecessor, and it was compulsory for him to have the permission of his teacher to disseminate this blessing to others. This permission is called "Kharqa" in the Sufi terminology, and it assumes different forms. However, if it's established that a particular Sheikh did not attain the spiritual beneficence and permission from a qualified predecessor, it would be said that his chain of transmission is disconnected, and hence he cannot be considered an authorized teacher of this art.

 This is apparently a universal principle, but physical association with the predecessor is not an indispensable condition. The reason is that purification pertains to the spirit, and the reception of Faiz (spiritual benefit) does not necessarily depend upon association with the physical body. There are [plenty of examples where Aulia Allah received Faiz without physical contact. For instance, Abul Hasan Kharqani (RA) derived Faiz from Bayazid Bastami (RA) and also got his Kharqa (robe of permission) from him, despite the fact that the latter had demised a hundred years earlier.

The Awaisi (Owaisi )Tareeqa

In the Sufi terminology, the acquisition of Faiz from the spirit is known as Awasi Tareeqa (also spelled as Owaisia). This Silsla is not connected to Hazrat Awais Qarni (RA). Rather, Awaisia actually means to acquire Faiz from Rooh. This Silsila may, however, be related to Hazrat Awais Qarni in the sense that he did not stay in the company of the Holy Prophet (SallAllahu Alaih Wasallam) for his spiritual training. Rather, he acquired Faiz from the magnificent spirit of the Holy Prophet (SallAllahu Alaih Wasallam). So, it may be said that he was the first Awais.

The name of our Silsila is Naqshbandia-Awaisiah (also spelled as Naqshbania Owaisiah), which means that I (Hazrat Allah Yar Khan-RA) train my disciples according to the Naqshbandi Tareeqa. And I have drawn Faiz and took permission from my beloved Shaykh's spirit. There is a gap of about 400 years between me and my esteemed Shaykh. I followed this same Owaisi Tareeqa to acquire Faiz from my Shaykh's spirit, and was also blessed with the Authority (Khilafat). Thanks to Allah, my beloved Shaykh's Faiz is now spreading to all corners of the world.

Hazrat Shah Waliullah (RA) has mentioned the qualities of Silsila Awaisia (Owaisia) on page No 86 of his book Him'aat.

In a nutshell, just like water remains present underground, and springs forth sometimes to irrigate the land, in the same way true Tasawwuf and Salook (Islamic Spirituality) also disappears (underground) sometimes. Then, Allah SWT creates a special person,, and the spring of Tasawwuf and Salook gushes forth through the medium of that person, cultivating the hearts of the masses. This is the reason Silsila Awaisia is not connected on the surface. But it is connected in reality. The people who are unaware of the extraction and transmission of Faiz from/to the Ruh can hardly understand the nature of this connection, and can do little but object ignorantly.

The writing by the Imam of Hind (Hazrat Shah Waliullah) shows that Awaisiah/Owaisiah is the most effective Silsila, because it is connected spiritually. The next is Qadria Silsila. The receivers of Faiz through Awaisia Silsila hold a special stature.

Hazrat Shah Wali Ullah in his Lam'aat (p 86) eulogizing the Owaisiah Order writes that it is the fastest spiritual Order in producing the desired effects and that its devotees are men of great munificence and awe. At page 63 he states that Owaisiah Order is indeed a world of spirits abridged. And at page 21 :-

"In the chain of saints there is an Order called Owaisiah, handed down by Khwaja Owais Qarni. He received beneficence directly from the Holy Prophet's spirit. So did one of the greatest saints of Indian subcontinent, namely Shaikh Badr-ud-Din". This shows that:-

(1) An Owaisi is the one who derives spiritual beneficence from the spirit of a wali.

(2) Many famous aulia have drawn beneficence from the spirits of their predecessors.

(3) The adherents of this Order also draw spiritual beneficence direct from the Prophet and by His grace, I am one of them.

 

Objections Against Silsila Owaisiah and their Answers

What really worries the ignorant is the question whether it is possible to receive and transmit beneficence from a spirit. This can be solved in two ways, either trust those who know or give it a trial yourself. The second course can be adopted only by one who sincerely desires to attain inner purification. The first may, however, be illustrated by a few quotations :-

(1) Fatawa-e-Aziziah (Vol 1, p 93) by Shah Abdul Aziz Dehlvi. The saint was asked whether it was possible for a man of kashf to draw spiritual beneficence by meditating at the grave of a wali?

He answered "Yes". (Brevity being the major consideration in a verdict, the savant gave a brief answer. A detailed reply is given in his Treatise Shifa-al-Alil  (p 178) as under :-

"When asked as to why Shaikh Abu Ali FarmadiRA who had a spiritual connection with Abul Hasan KharqaniRA has not been listed in the said Treatise, he replied: "This connection was Owaisiah whereas in the Treatise only those Aulia have been mentioned whose physical association with their predecessors has been proved. The fact, however, remains that the Owaisiah connection is very strong and perfectly accurate".

Shaikh Abu Ali Farmadi derived spiritual beneficence from Abul Hasan Kharqani who in turn got it from Ba Yazid BustamiRA. The last named saint received spiritual training from Imam J'afar SadiqRA. This fact has been mentioned by Khawaja Muhammad Parsa in his Treatise Qudsiah in the following words :-

"Imam J'afar had spiritual connection with his maternal grand father Qasim bin Muhammad bin Abi-Bakar, who was connected to Hadrat Salman Farsi, who in turn had a connection with Abu Bakr Siddique, who had this connection with the Holy Prophet".

The same Chain of Transmission has been listed in Tazkira-ar-Rashid  (Vol 2, p 108) with the addition that Owaisi connection is termed as Siddiqiah Naqshbandiah Nizamiah Quddusiah.

(2) He goes on to say that the stronger connection which Imam Rabbani had with Shaikh Abdul Qudus Gangohi with regard to spiritual beneficence was due to the fact that beside being Owaisi the learned Shaikh probably had his connection with the four major Sufi Orders. (Tazkira ar Rashid Vol 2, p 109).

(3) Fatawa Daral 'Ulum Deoband  (Vol 1, p 140) comments on Shifa-al-Alil :-

"this shows that the Owaisiah connection means spiritual beneficence and that it is a strong and genuine connection. It also shows that it is not necessary for an Owaisi to be a disciple of Owais Qarni. It is also wrong to deny this connection, because Owais Qarni received spiritual beneficence from the Holy Prophet without physically enjoying his company and that is why anyone receiving beneficence from a spirit is termed an Owaisi".

(4) Aqaed-e-Ulema-e-Deoband is a pivotal Treatise which expounds the Deobandi cult. Question No. 11 is about drawing beneficence from a spirit. The ulema of Deoband declare that they are not only convinced of but, testify to the correctness of drawing spiritual beneficence from saints dead or alive. This involves a special process known to aulia, sufis and elect personalities. The masses know little about it".

Above are scholarly answers to the question pertaining to reception and transmission of beneficence from the spirit. The second form is intuitive. Any aspirant is welcome if he is earnest and sincere and capable of distinguishing between possible acquisition and difficult acquisition. It is the practice which yields results and not idle talk.

From the explanations of veteran sufis and righteous ulema it has been proved that receiving and transmitting beneficence from the spirit is not only a possibility but a reality. Visible or physical junction is not a condition, but the junction of the connection is a must.

An Interesting Example

A famous Peer of Multan once told one of my devotees that the Owaisiah Order suffered lack of junction. The latter retorted: "Yes, an Order in which the Shaikh builds spiritual connection in such a way that the seeker is admitted to the world of Barzakh and ushered into the Prophet's audience to receive bai'at at his sacred hands, and thus exemplifies the holy verse of the Quran, 'Lo! those who swear allegiance unto thee swear allegiance unto Allah', appears to you as lacking in junction, while the Order in which a seeker spends his life in the service of his Shaikh but the Shaikh fails to illuminate even first Latifa namely the qalb is considered to have a junction! Those who in spite of their capula and long robes have no access to the Prophet, are said to belong to an Order with a conjunction and the Order of the Shaikh who takes hundreds to the spiritual audience of the Holy Prophet appears to you as lacking in conjunction. You are welcome to that junction which preludes your access to the Prophet and we are happy with such lack as it enables us to perpetually remain in his audience"

In a similar situation a sage has remarked: "Alas! The crows have stolen a march over the hawks". May Allah bless us with great bounty of genuine understanding of our Faith. Ameen!

(Excerpt from Dalail-as-Salook)

Editor's Note

The above discourse also shows that the claim of being the Shaykh of Awaisiah Silsila by some people (namely Maulana Akram Awan) is not true. The above statements by Hazrat Allah Yar Khan (RA) and Hazrat Shah Waliullah(RA) prove that Silsila Awaisia is not connected on the surface (in the world).