Zikr Allah and Sufism | تصوف اور ذکر الٰہی

علم تصوف کے حصول میں ذکر اللہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ذکر اللہ کو قرآن کریم میں تزکیہ کا موجب قرار دیا گیا ہے (قد افلح من تزکیٰ۔ وذکر اسم ربہ فصلیٰ) ذکر بذات خود ایک فرض عبادت ہے جس کی کثرت کا حکم قران پاک کی بیسیوں آیات میں موجود ہے۔ ذکر ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی خاص مقدار، اوقات، یا طریقہ متعین نہیں کیا گیا۔ یعنی کھڑے، بیٹھے، لیٹے، چلتے، پھرتے، دوڑتے، کسی بھی حالت میں ذکر الٰہی کیا جا سکتا ہے۔ اس لئیے کسی خاص طریقہ پر اعتراض کرنا اور اسے بدعت قرار دینا ایک بے جا اعتراض ہے، اور ذکر اٰؒلٰہی سے روکنے کے مترادف ہے۔ 

مندرجہ ذیل مضامین کے منصفانہ مطالعہ سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ ذکر اللہ نماز اور تلاوت قرآن پاک سے الگ بھی ایک عبادت ہے، اور ذکر قلبی ذکر کی ایک افضل صورت ہے۔