Lataif

Rate this item
(1 Vote)

 

لطائف کیا ہیں؟
لغوی طور پر لفظ لطائف جمع ہے لطیفہ کی، جس کا ماخذ 'لطیف' ہے، یعنی ایسی چیز جو غیر مرئی ہو، نظر نہ آئے لیکن موجود ہو، مثلاً ہوا، ملائکہ، جنات، وغیرہ لطیف ہیں۔ تصوف میں لطائف  سے مرادکچھ مقامات ہیں جو ہر انسان کے سینے میں واقع ہیں۔ آپ انہیں روح کے کچھ اعضا یا خواص سمجھ سکتے ہیں، جو ہر انسان کے سینے میں پیوست کر دئیے گئے ہییں۔ حقیقی اسلامی تصوف میں ذکر اللہ کو انہی لطائف پر مرکوز کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں تزکیہء باطن اور روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے، جس کی جھلک انسان کے اعمال اور کردار میں نظر آتی ہے۔
 
کیا لطائف اسلام کا حصہ ہیں؟
بدقسمتی سے اکثر مسلمانوں کے سامنے جب لطائف کا ذکر کیا جائے تو وہ شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ ان کی اسلام کے اہم ترین جزو تصوف، تزکیہ یا احسان سے لاعلمی ہے۔ ہم میں سے اکثر نے کبھی لطائف کا نام تک نہیں سنا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام سلاسل تصوف میں، جو کہ پچھلے چودہ سو سال سے جاری ہیں، لطائف پر ذکر کروایا جاتا ہے۔ طریقے یا لطائف کے مقامات البتہ مختلف ہو سکتے ہیں، کیونکہ لطائف کا تعلق عالم امر سے ہے اور ان پر زمان و مکان کی کوئی قید نہیں، اس لئیے ان کے مقامات میں اختلاف ہے۔
لطائف حدیث پاک اور آیات قرآنی کے عمومی نص سے ثابت ہیں، ان کا تعلق طریقہ ذکر سے ہے۔ اور چونکہ ذکر اللہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے لئیے کسی خاص طریقے کا تعین نہیں کیا گیا، اس لئیے سلف صالحین کا تعامل ہی اس سلسلہ میں حجت کہلانے کا حقدار ہے۔ لطائف پر ذکر کرنابذات خود فرض، واجب، یا سنت نہیں ہے، یہ مباح ہے اور اس لئیے ضروری ہے کہ اس  سے تزکیہ کی نعمت حاصل ہوتی ہے، جو کہ اصل مقصود ہے۔ اور تزکیہ کا مقصود رضائے الٰہی، قرب و معرفت الٰہی، اور ذات الٰہی ہے۔
بنیادی طور پر لطائف کا تعلق کشف و الہام سے ہے، اور قلب کی آنکھ کھل جانے پر ان مقامات کا مشاہدہ یا رنگ نظر آنا سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ یاد رہے کہ تصوف کا دارومدار شریعت پر ہے اور قرب الٰہی کا معیار سنت نبوی ﷺ کی پیروی ہے۔

 

اس تمہید کے بعد لطائف کے بارے میں حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب دلائل السلوک سے اقتباس پیش خدمت ہے۔

 

مزید پڑھئیے