Need for Sheikh in Sufism (Tasawwuf)

Rate this item
(0 votes)

 

تصوف اور شیخ کامل
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کے ہر علم و فن کو سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لئیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تصوف کے استاد کو اصطلاح میں شیخ کہا جاتا ہے۔ شیخ کامل کے بغیر تصوف جیسی نازک اور نایاب ترین نعمت کا ملنا ناممکن ہے۔ گو کہ تصوف اللہ کے ذکر کے طفیل حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کا باعث وہ انوارات و کیفیات ہیں جو ایک سالک اپنے شیخ کامل کے سینے اور اس کی روح سے حاصل کرتا ہے۔ اسی کو فیض کہتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست فیض حاصل کیا، اور پھر یہی کیفیات و تجلیات تابعین، تبع طابعین اور سلف صالحین کے سینوں سے ہوتی ہوئی سلاسل تصوف کے وسیلہ سےسینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں، اور آج تک محفوظ ہیں۔
 
 بدقسمتی سے آج کا مسلمان کسی کو پیر و مرشد یا شیخ بنانے کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہے۔ اس کی وجہ اپنے آپ کو پیر کہلانے والے وہ سجادہ نشین اور جعلساز ہیں جو عوام کی جہالت کا فائدہ اٹھا تے ہوئے اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ ان لوگوں کی بڑی منزل تصوف یا معرفت نہیں، بلکہ دنیاوی مال و متع اور تعظیم ہے۔  یاد رہے کہ شیخ کے لئیے کچھ شرائط ہیں، جن میں عالم ہونا، سنت و شریعت کا پابند ہونا، اور کسی کامل استاد سے تعلق و اجازت کا ہونا لازمی امور ہیں۔ اگر کوئی پیر اپنے مریدوں کو خلاف شرع حکم دے یا خود رقص و سرود و دیگر خلاف شریعت اعمال میں ملوث ہو تو وہ شیخ کامل نہیں بلکہ کذاب ہے۔ شیخ کا انتخاب انتہائی اہم معاملہ ہے، کیونکہ اس پراخروی فلاح کا دارومدار ہے، اس لئیے اچھی طرح تسلی کر لی جائے۔ مزید یہ کہ شیخ کا مقصد دنیاوی امور میں کامیابی دلانا نہیں، بلکہ تعلق مع اللہ پیدا کرنا اور سالک کو راہ راست پر ڈالنا ہے۔
 
ضرورت شیخ  کے بارے میں حضرت مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد پیش خدمت ہے۔

 

مزید پڑھئیے