Shaykh in Sufism | تصوف اور شیخ کامل

تصوف میں شیخ کامل کی ضرورت اور اہمیت

شیخ کامل کی توجہ اور رہنمائی کے بغیر راہ سلوک پر سفر کرنا ناممکن ہے۔ گو کہ تزکیہ اور تصوف کی نعمت ذکر اللہ اور سنت مطہرہ پر عمل کرنے کے طفیل ہی حاصل ہوتی ہے، لیکن سنت پر چلنا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کام حقہ عمل بھی توجہ  و تصرف شیخ کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کی اصل اور وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کے سینہ اطہر سے جو انوارات و برکات حاصل کیں، وہی دین کی اصل اور روح ہیں۔ اور یہ برکات نبوت سینہ بہ سینہ تابعین، تبع تابعین اور اولیا اللہ کے طفیل آج بھی دنیا میں موجود ہیں، اور ان کی موجودگی کے طفیل ہی دنیا کا وجود قائم ہے۔  جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اللہ اللہ کرنے والا ایک بھی شخص دنیا میں موجود ہے۔ یہ برکات شیخ کامل کے سینے اور اس کی روح سے حاصل ہوتی ہیں۔

مختصر یہ کہ ہر فن کو سیکھنے کے لئیے استاد ضروری ہے، اور تصوف کے استاد کو  شیخ، مرشد، یا عام لوگوں کی زبان میں پیر کہا جاتا ہے۔ موقع پرست، دنیا دار پیروں اور ان کے جاہل مریدوں نے ان الفاظ کو بدنام کر دیا ہے، لیکن جھوٹ کی کثرت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا اولیا اور مشائخ سے خالی ہوگئی ہے۔ اصل اسلامی تصوف اور اس کے معلم آج بھی موجود ہیں، اور قیامت تک رہیں گے۔ شیخ کامل کی ضرورت، خصوصیات، اور آداب کے لئیے مندرجہ ذیل آرٹیکلز کا مطالعہ کیجئیے۔